Warning: Undefined array key "geoplugin_countryName" in /customers/d/7/4/urdufalak.net/httpd.www/wp-content/plugins/stylo-core/stylo-core.php on line 96

اوسلو میں عید ملن پارٹی


اوسلو میں عید ملن پارٹی
رپورٹ نمائندہ خصوصی
عید کے بعد آنے والے ہفتے میں اوسلو میں لاہور فیملی فرنٹ نے عید ملن پارٹی کا اہتمام کیا۔تقریب میں متعدد رنگا رنگ پروگراموں کا اہتمام بھی تھا۔سلیم بیگ صاحب نے پروگرام کی نظامت کی۔جبکہ محمد ادریس صاحب نے مشاعرے کی میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔
شعراء میں اوسلو کے نامور شاعروں نے شرکت کی۔جن میں معروف شاعر جمشید مسرور،رابعہ سیماب روحی اور سعودیہ مینا اختر شامل ہیں۔رابعہ سیماب روحی نے عید کے موضوع پر نظم پیش کی جبکہ سعودیہ مینا اختر نے ،کاش میں اک گڑیا ہوتی کے موضوع پر نظم سنا کر داد وصول کی۔
تقریب کے میزبان سلیم بیگ صاحب نے عید کے حوالے سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کی۔انہوں نے اوسلو کی معروف شخصیت صحافی اور قلمکار احسان شیخ کاکو اسٹیج پر آ کر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی دعوت دی۔احسان شیخ لاہور فیملی فرنٹ کی مجلس مشاورت کے بھی ایک اہم اور سرگرم رکن رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اسٹیج پر آ کر اپنے خیالات کا اظہار کیااور لاہور فیملی فرنٹ کی کارکردگی پر روشنی ڈالی او رسرزمین چلی کے بارے میں معلوماتی مضمون پڑھا۔احسان شیخ نے خواتین کی حالت زار اور ناروا سلوک کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین سے انکے مردوں کا امتیازی سلوک دیکھ کر انہیں بہت دکھ ہوتا ہے۔اس ضمن میں انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایک برفانی دوپہر میں ایک مرد اور عورت کو سڑک کی چڑہائی پر جاتے دیکھا۔عورت بہت مشکل سے بچہ گاڑی کو چڑہائی پر دھکیل رہی تھی جبکہ اس کے ہاتھ میں سودے کا تھیلا بھی تھا۔اس کے ساتھ اسکا شوہر لمبا اوور کوٹ پہنے بہت بے نیازی اور آرام سے جیبوں میں ہاتھ ڈالے جا رہا تھا۔برفباری کی وجہ سے ہر جانب پھسلن اور برف تھی۔اس عورت کو بچہ گاڑی ایسے خراب موسم میں چڑھائی پر چڑہانے میں بہت مشکل پیش آ رہی تھی۔مگر اس ٹھٹھرتے موسم میں وہ شخص اس عورت کی کوئی مدد نہیں کر رہا تھا۔میں نے سوچا یہ شخص اس عور ت کی مدد کیوں نہیں کرتا جو اس قدر شدید برفانی ٹھنڈ میں بچہ گاڑی چڑہائی پر چڑھانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔کیا وہ اسے عورت ہونے کی سزا دے رہا ہے؟کیا قصور ہے آخر اس عورت کا؟وہ اسکی مدد اس لیے نہیں کر رہا کہ وہ ایک عورت ہے۔یہ سوچ کر میں بیحد افسردہ ہو گیا۔اس کے بعد پاکستان ایمبیسی کے کونسلر سلیم صاحب نے اسٹیج پر آ کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور فیملی فرنٹ کے پروگراموں میں کھانے پینے کے علاوہ بھی تفریحات کے کئی مواقع ملتے ہیں جو اس پروگرام کو دلچسپ بناتے ہیں۔اس کے بعد بچوں کے لیے میوزیکل چیئر کا اہتمام کیا گیا اور ایک کم سن بچے نے یہ مقابلہ جیت لیا۔اس کے بعد لاٹری ٹکت فروخت کر کے مہمانوں کو انعامات تقسیم کیے گئے۔آخر میں مہمانوں کی تواضع لاہوری کھانوں سے کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں