اوسلو سینٹر میں مسافر بس میں آتشزدگی اور خطرناک غلطیاں

شازیہ عندلیب
گذشتہ ہفتہ اوسلو سینٹر میں ایک مسافر بس اچانک آگ بھڑکنے سے تباہ ہو گئی تاہم اس کے مسافروں کو بچا لیا گیا۔اس منظر کو کئی راہگیروں نے دیکھا اور فلمایا۔ موقع پر موجود عینی شاہدوں کے مطابق خطرناک صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایک دوسری مسافر بس اس شعلوں گھری بس کو اوور ٹیک کرتی ہوئی گزری حالانکہ اس وقت اس سڑک پر جہاں شعلوں میں گھری بس کھڑی تھی ہر قسم کی ٹریفک اور لوگوں کی آمدو رفت بند تھی۔گو کہ ابھی وہاں کوئی روکاوٹ کھڑی نہیں کی گئی تھی۔ایسے میں ایک بے خبر بس ڈرائیور کی یہ حرکت گر دو پیش کے لیے اتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔بس کے ایک جانب شاپنگ سینٹر سٹی پلازہ کی عمارت تھی جبکہ دوسری جانب مرکزی اسٹیشن کی عمارت تھی جو کہ نسبتاً فاصلے پر تھی۔بس کی آگ کو سب سے زیادہ نقصان شاپنگ پلازہ کی عمارت کو پہنچ سکتا تھا۔جس میں اس وقت لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔مذکورہ بالابے خبر ڈرائیور والی بس کے شعلوں میں گھری بس کے پاس سے گزرنے کے فوری بعد شعلے مزید بھڑکنے لگے۔دوسری بس نے گویا آگ پر جلتی کا عملی کام کر دکھایا اور جلتی ہوئی بس میں مزید کئی دھماکوں کی آوازیں آنے لگیں اور مرکز کا پورا علاقہ گہرے دھوئیں کے بادلوں میں گھر گیا۔جس سے سٹی پلازہ کی عمارت کی بیرونی دیواروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔اس عمارت میں چونکہ شیشے کا کام بہت ذیادہ تھاا سلیے اسے بہت ذیادہ مالی اور جانی نقصان بھی پہنچ سکتا تھا۔

لیکن آگ بجھانے والے عملے نے کافی دیر بعد موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پا لیا اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچا لیا۔ ناروے ایک ایسا ملک ہے جہاں سالانہ آگ لگنے کے واقعات بہت ذیادہ ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں آگ بجھانے والا عملہ ہر وقت چوکس رہتا ہے اور جیسے ہی کوئی واقعہ رونماء ہو آگ بجھانے والی گاڑیاں فوراً موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پا لیتی ہیں۔لیکن بس میں آگ لگنے کے اس واقعہ کے بعد کئی سوالات شہریوں کی جانب سے سامنے آئے۔آگ بجھانے والے عملے کی مستعدی پر لوگوں کی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔
وہاں فوری طور پر ایک پولیس کی گاڑی نظر آئی تھی۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پولیس کی گاڑی موقع پر پہنچ کر فوری طور پر دونوں جانب کی ٹریفک اور ہر قسم کی آمدو رفت بند کر دیتی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔بظاہر یہ نظر آ رہا تھا کہ لوگ خود ہی اس جگہ سے نہیں گزر رہے تھے۔جبکہ ٹریفک بھی از خود وہاں سے نہیں گزر رہی تھی۔ایسے میں ایک بس جس میں غالباً سافر بھی موجود تھے۔کا جلتی بس کے پاس سے گزرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ حرکت تھی۔اس غیر ذمہ داری میں بس ڈرائیور کے ساتھ ساتھ اور لوگ بھی شامل ہیں۔
ناروے ایک ایسا ملک ہے جہاں آگ لگنا روزمرہ کا معاملہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے حفاظتی اقدامات اور آگ بجھانے کے عملے کی مستعدی اور آگ پر قابو پانے کے لیے عوامی سطح پر دی جانے والی ٹریننگ بھی قابل ذکر ہے۔اسی طرح تمام عوامی عمارتوں ٹرانسپورٹ اور مقامات پر کسی بھی ہنگامی صورتحال یا آتشزدگی سے بچنے کے لیے خصوصی انتظامات اور عملہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔حکومت سالانہ اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ عوامی حفاظتی اقدامات پر خرچ کرتی ہے۔
کوئی بھی عمارت خواہ وہ سرکاری ہو یا عوامی اس وقت تک پاس نہیں کی جاتی اگر اس میں آگ بجھانے والے آلات نہ ہوں اگر اسکی کھڑکیاں اتنی بڑی نہ ہوں کہ ہنگامی صورتحال میں اندر موجود انسان اور پالتو جانور باہر نہ نکل سکیں۔اسی طرح بسوں ٹرینوں اور دیگر ٹرانسپورٹ جن میں ٹرام زیر زمین ٹیوبز اور منی بسیں شامل ہیں میں میں آگ بجھانے والے آلات نصب ہوتے ہیں۔جس سے فوری طور پر کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبٹا جا سکتا ہے۔اس کے بعد تمام ملازمین اور کارکنوں کو سالانہ حفاظتی کورسز کروائے جاتے ہیں اور انکی ریہرسل بھی کرائی جاتی ہے۔ایسی صورتحال میں اوسلو جیسے بڑے شہر کے بیچوں بیچ ایک مسافر بس کو آگ لگنا، اسکے پاس سے دوسری بس کا گزرنا،پولیس کا دور سے جلتی بس کو دیکھنا، ٹریفک بند نہ کرنا جیسے حالات کئی سوالوں کو جنم دے رہے ہیں۔یہ بات باعث حیرت ہے کہ ایسے مستعد عملے اور اس قدر انتظامات کی موجودگی میں بس میں آگ کیسے لگی؟ اگر اس پر فوری طور پر قابو نہیں پایا گیا تو پاس سے گزرتی بس کے ذریعے کیوں بھڑکایا گیا؟پھر اس جلتی بس کو شہر کے بیچوں بیچ کیوں جلنے کے لیے چھوڑ دیا گیا؟
اگر کسی ماہر تجزیہ نگار یا ذمہ دار کے پاس ان سوالات کے جوابات ہوں تو بتا کرممنون کریں
تاکہ سوالات کرنے والوں کی منہ اور انگلیاں اٹھانے والوں کے ہاتھ رک جائیں۔اور ہم لوگ بھی ان حالت کے اندر چھپی مصلحتوں کو جان سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں