اماموں پر وبال

سیدنا ابو ہریرہ سے روائیت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اما موں نے نماز اچھی طرح ارکان کی تعدیل اور سنتوں کے ساتھ پڑھائی تو تمہارے لیے بھی ثواب ہے اور اگر نماز پڑھانے میں خطاء کی رکوع و سجود کی عدم طمانیت قومے اور جلسے سے نماز پڑھائی تو تمہارے مقتدیوں کے لیے تو ثواب ہے اور ان کے لیے وبال ہے۔
امام بغوری رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی امام بے وضو یا بحالت جنابت نماز پڑھا دیتا ہے تو مقتدیوں کی نماز صحیح اور امام پر نماز کا اعادہ لازم ہے خواہ اس کا یہ فعل ارادتاً ہو یا لا علمی کی بناء پر۔
اقتباس نماز نبوی
صفحہ ۱۷۰

اپنا تبصرہ بھیجیں