الیکشن 2013 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

الیکشن  2013 ۔۔۔۔۔۔۔۔

۔

 

ناروے کی ڈائری۔۔۔۔۔۔۔

مسرت افتخار حسین۔۔۔۔۔۔۔۔

ناروے میں مقیم پاکستانیوں نے پاکستان میں انتخابات کی کامیابی و تکمیل پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ناروے میں مقیم پاکستانی پاکستان میں  انتخابات کی نوے فیصد بحفاظت تکمیل پر انتہائی خوش ہیں۔کیونکہ انتخابات کا پہلا خطرہ دھماکے اور قتل و غارتگری  کا امکان تھا۔کراچی میں تو انتخابات میں بھی دھماکے اور قتل و غارتگری کے واقعات ہوتے رہے ہیں مگر یہ واقعات انتخابات کا حصہ نہ تھے۔بلکہ کراچی کے مخصوص حالات کی وجہ سے روزانہ کا معمول بن گئے ہیں۔بیرون ملک مقیم پاکستانی اگرچہ ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہ کر سکے مگر پھر بھی انکی انتخابات میں ووٹنگ کی ٹرن آئوٹ نے اور نواز شریف کی  PML  پی ایم ایل این  کی کامیابی اور پی پی پی کی ناکامی نے ان کے جذبات کی ترجمانی کر دی ہے۔البتہ عمران خان کی پی ٹی آئی سے جو توقعات وابستہ تھیں وہ کسی کی بھی پوری نہ ہو سکیں۔بلکہ انتخابات میں پی ٹی آئی کی پوزیشن نے ناروے میں سب کو مایوس کیا۔اوسلو میں پی ٹی آئی کے یوتھ ونگ کے نوجوانوں نے کئی مقامات  پر شدید رد عمل کا اظہار سخت الفاظ میں کیا۔انیلا لیاقت نے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا  کہ ایک تو پی ٹی آئی کے خلاف دھاندلی ہوئی ہے ۔نمبر دو پاکستان کے عوام کا خدا حافظ ہے جنہوں نے ہاتھ آیا ہوا موقع گنوا دیا ہے۔اب پانچ سال تک پھر غلامی کریں۔تحریک انصاف کے نتائج نے ناروے میں ہر طبقہء فکر کے لوگوں کو مایوس کیا ہے۔لیکن اس کے باوجود ناروے میں موجود پاکستانی خوش بھی ہیں۔کہ پاکستان میں پہلی بار ہم وطنوں نے ساٹھ فیصد ووٹنگ کی ہے۔جو کہ ایک ریکارڈ ہے اور ریکارڈ یہ بھی ہے کہ عمر رسیدہ معمر بزرگ چاہے مرد ہیں یا عورت پیدل آئے یا وھیل چیئر پر مگر ووٹ ڈالنے پولنگ اسٹیشن گئے۔لڑکیاںہوں یا درمیانی عمر کی خواتین سب نے گھنٹوں لائن میں لگ کرووٹ ڈالنے کا انتظار کیا۔اور اس دفعہ یہ بھی تبدیلی دیکھنے مین آئی کہ لوگ بھر کر بسوں میں نہیں لائے گئے۔بلکہ اکثریت خود ووٹ ڈالنے آئی۔عوام نے پہلی بار الیکشن میں بھرپور حصہ لیا اور ملک کی خاطر ملک میں تبدیلی کا خود سوچا۔یہ عوامی سوچ انتہائی مثبت نظر آئی کہ عوام نے ملک کو چلانے کی خاطر اپنی ووٹ کی طاقت کو استعمال کیا۔سیاستدانوں پر نہیں چھوڑا جو وہ چاہیں مرضی کریں۔بلکہ اپنی مرضی سے سیاستدان چن کر ملک کو  ترقی اور امن کی راہ پر چلانے کی کوشش کی ہے۔ساٹھ فیصد ووٹ ڈالنے کی تعداد نے عوام کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ساٹھ فیصد ووٹ نے عوام کی امنگوں کی ترجمانی کی ہے۔صرف حکومت بدلنے کے لیے نہیں بلکہ ملک کی بہتری ترقی اور ایک بہتر سسٹم کے لیے۔ جمہوریت کے نام پر پیپلز پارٹی نے عوام کو انتہائی مایوس کیا۔پیپلز پارٹی نے تو ملک کا خیال ہی نہیں کیا۔انہوں نے ایسا رویہ اختیار کیا کہ تمام منتخب ارکان جیسے اس موقع سے فائدہ اٹھا لیں جتنی لوٹ مچانی ہے مچا لیں۔عوام تو پی پی پی کے لیے محض ایک استعمال شدہ کارتوس بن کر رہ گئی۔جس نے جو ووٹ لینا ہے وہ لے چکے۔جمہوریت اتنی ظالم ہوتی ہے یہ بھی کسی نے سوچا نہ تھا۔پی پی پی نے انتہائی مایوس کیا ۔نہ کوئی عوام کے لیے کوئی ذمہ داری نبھائی نہ عوام کے بھلے کے لیے کسی نے کوئی کارکردگی دکھائی۔ہر عہدہ دار اپنی جیبیں بھرنے پر لگا رہا۔پانچ سال تک پی پی پی نے جو کچھ کیا انتخابات کے نتائج نے اسکا نتیجہ دکھا دیا۔پھر بھی عوام نے جمہوریت کا راستہ اختیار کیا ہے۔اور ایک بار پھر جمہوریت پر بھروسہ کیا ہے۔اب رہ گیا لیکشن کمیشن اور اسکی کارکردگی تو اتنے وقت میں ان سے جو ہو سکا تھا  وہ انہوں نے کیا ۔الیکشن کمیشن نے اپنے فرائض اور ذمہ داری نبھانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔اور ایک سسٹم سے انتخابات کا ڈھانچہ تیار کر کے اس پر عمل کیا اور اگر کچھ رہ گیا تو اس کی کمی یا ذیادتی ہوئی ہے تو اس کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔کیونکہ سو فیصدرزلٹ آپکو کبھی نہیں ملیں گے۔مگر الیکشن وقت پر کروا دیے اور پر امن رہے۔یہی بہت ہے۔اس لحاظ سے یہ تاریخی انتخابات ہیں۔اور اس کے لیے الیکشن کمیشن اور تمام ٹیم انکا عملہ کارکن اور الیکشن کمشنر جسٹس فخر الدین  کا بے حد شکریہ اور احسان ہے کہ پاکستان میں پر امن الیکشن کا انعقاد ہوا۔باقی دھاندلیاں بھی ہوئی ہیں اور ذیادتیاں بھی مگر اچھائیاں ذیادہ ہیں۔ہمیں حرف شکایات کی پالیسی نہیں اختیار کرنی چاہیے۔ہمیں سراہنا اور قدر کرنا بھی سیکھنا ہے۔رونے کے بجائے ہمت کرنا اور کوشش کرنا سیکھنا ہے۔اور زندگی کے مثبت رویے اپنانے ہیں۔جانی پہچانی ادیبہ شازیہ عندلیب  نے کہا کہ پاکستان میں پر امن انتخابات اور اتنا ٹرن آئوٹ ہی پاکستان کی پہلی کامیابی ہے۔مشہور معروف شاعرہ اور مصنفہ مینا جی نے کہا کہ اگرچہ انتخابی نتائج سے وہ خوش نہیں ہوئیں مگر انتخاب کے انعقاد کے بارے میں وہ بیحد خوش ہیں جن کے بارے میں یہ شک اور خوف رہا کہ جانے پاکستان میں انتخابات ہوں گے بھی کہ نہیں؟اور جانے گیارہ مئی کو کیا ہو جائے۔  معروف ادبی تنظیم دریچہ کے سربراہ ڈاکٹر سید ندیم اور محمد ادریس نے بھی پر امن انتخابات کے انعقاد پر اطمینان کااظہار کیا۔فیصل ہاشمی،وقار بیگ،ڈاکٹر فاروق بیگ نے انتخابات کے نتائج اکٹھے دیکھے۔انہوں نے بھی کہا مجموعی طور پر ہم مطمئن ہیں۔عوام کے باہر نکل کر ووٹ ڈالنے بزرگ ووٹروں اور  خواتین کی لائن میں لگ کر وہی چیئرز پر آ کر ووٹ ڈالنا خوش آئیند ہے۔قوم کا اس طرح جاگنا ہی بہت بڑی ہمت کی بات ہے۔اوسلو شہر میں نو جوان مختلف جگہوں پر اکٹھے ہو کر الیکشن کے نتائج دیکھتے رہے۔انیلا لیاقت اور انکی تنظیم بھی مختلف جگہوں پر مل کر الیکشن کا عمل اکٹھے دیکھتے رہے۔اوسلو میں نو جوانوں نے انتخابی نتائج پر مایوسی کا اظہار کیا۔  کیونکہ تمام نو جوان پی ٹی آئی کے حق میں تھے اور امیدیں ایسی تھیںکہ تحریک انصاف اور عمران خان چھا جائیں گے۔اس رزلٹ سے وہ کافی مایوس تھے مگر پھر بھی وہ حوصلہ بھی دکھا رہے تھے کہ ان پانچ سالوں میں عمران خان خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت بنا کر دکھائیں گے کہ وہ کس طرح عوام کی خدمت کر سکتے ہیں۔اور کیا کیا عوام کے لیے اصلاحات لائیں گے۔اگر وہ اس چانس پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے تو پھر کوئی انہیں وزیر اعظم بننے سے نہیں روک سکے گا۔لوگوں کی عمومی رائے یہ بھی تھی کہ اب حکمرانوں کے لیے من مانی کرنا آسان نہ ہو گا۔ان اتخابات نے ایک بات سب پر واضع کر دی ہے کہ اب کارکردگی کے ثبوت  کے بغیر ووٹ نہیں ملیں گے۔منجھے ہوئے سیاستدان اور انتہائی سیاسی بصیرت رکھنے والے جناب نوید خاور نے کہا کہ پاکستان میںحکمرانوں میں جو یہ سیاسی شعور پیدا ہوا ہے کہ بغیر کارکردگی کے ووٹ نہیں ملے گا یہ بہت خوش آئند بات ہے۔پنجاب میں شہباز شریف کی جیت انکی کارکردگی پر ہوئی جو ان کے مقابلے میں کسی اور کی برائے نام تھی۔یا مکمل طور پر عوام   حکمرانو ںکی طرف  سے غفلت کا شکار تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختوننخوا میں عمران خان کی حکومت سے ایک صحتمند مقابلے کی فضاء پیدا ہو گی۔حکمران عوام کے لیے بڑھ چڑھ کر رفاعی کام کریں گے۔تاکہ ان کے ووٹ برقرار رہیں۔پھر جو عوام کو بجلی،روزگار تعلیم اور تحفظ فراہم کرے گا اور دہشت گردی سے نجات دلانے کی کوشش کرے گاوہی کامیاب حکمران ہو گا۔عوام کی فلاح اور خوشحالی ہی تو  مضبوط خوشحال پاکستان  کا خواب پورا کرے گی۔شکر ہے وقت پر انتخاب ہوئے شکر ہے پر امن انتخاب ہوئے۔شکر ہے پاکستانی اٹھ کھڑے ہوئے اپنے حقوق کے لیے اور ووٹ کا ذیادہ سے ذیادہ حق استعمال کیا۔

2 تبصرے “الیکشن 2013 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  1. Last a few years has been to Ibiza, so met a person there whose style of presentation is very similar to yours. But, unfortunately, that person is too far from the Internet!…

اپنا تبصرہ بھیجیں