افغانستان کی تمام یونیورسٹیوں میں خواتین کی تعلیم پر پابندی

طالبان حکام کا کہنا ہے کہ اب افغانستان کے ملک بھر میں یونیورسٹیوں میں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔منگل کے روز وزارت تعلیم کے ایک اعلان کے مطابق یہ پابندی ملک بھر کی تمام یونیورسٹیوں پر لاگو ہوتی ہے۔
یہ حکم افغانستان کی تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کو بھیجا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نیدا ندیم محمد کے دستخط والے خط میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا حکم میں آپ سب کو یونیورسٹیوں میں خواتین کی تعلیم کو منسوخ کرنے کی اطلاع دی جاتی ہے۔
غذشتہ موسم گرماء میں افغانستان میں طالبان نے اقتدار سنبھالتے ہی خواتین پر پابندیاں عائد کرنا شروع کر دیں۔وہاں لڑکیاں کسی بھی سیکنڈری اسکول کالج یا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل نہیں کر سکتیں۔لڑکیاں صرف چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کر سکتی ہیں۔اس کے علاوہ انہیں بھاری لباس پہننے کی ہدائیت کی گئی ہے اور خواتین کو پارکوں میں گھومنے کی اجازت نہیں اور نہ ی وہ فٹنس کے مراکز میں جا سکتی ہیں۔اس کے علاوہ انہیں اکیلے کسی مرد کے بغیر سفر کرنے پر بھی پابندی ہے۔

ناروے بھی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اس حکم نامہ پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے جو کہ عین اس وقت سامنے آیا جبکہ مختلف ممالک اور افغانستان سلامتی کونسل میں تبادلہ خیالات کے لیے ایک اجلاس کے لیے جمع تھے۔
اگر یہ سچ ہے تو افغانستان میں انسانی حقوق میں مزید بگاڑ پیدا ہو گیا ہے۔وزیر خارجہ انیکن نے کہا ہے کہ یہ خاص طور سے خواتین کو متاثر کر رہا ہے۔
Huitfjeldt نے منگل کے روز سلامتی کونسل میں افغانستان کے بارے میں ایک پوسٹ کی جبکہ امریکہ اور برطانیہ نے بھی اس حکم کی مذم مت کی۔اس نے اقوام متحدہ کے ڈسپلے وزیر رابرٹ ووڈ کو لکھا کہ بین القوامی برادری کا ممبر بننے کے لیے افغانستان کو خواتین کے بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کرنا ہو گی۔
NRK/UFN

اپنا تبصرہ بھیجیں