اعلان نبوت سے پہلے سرکار دوعالم ﷺ جب تجارت کے لئے نکلے تو کتنے فرشتے آپﷺکی حفاظت پر مامور تھے اور وہ کیا کام انجام دیتے تھے،جان کر آپ کا ایمان تازہ ہوجائے گ

8

رسول اللہ ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے بھی آپ ﷺ اللہ کی حفاظت میں رہتے تھے تاکہ آپﷺ کو تکلیف نہ پہنچے ۔آپﷺ چلتے تو فرشتے آپﷺ پر سایہ کرتے تاکہ دھوپ کی شدت سے آپ ﷺ کے جسم اطہر کو نقصان نہ پہنچے۔یہ واقعات احادیث میں موجود ہیں۔علامہ ابن اثیر نے آنحضورﷺ کے اس تجارتی سفر کی روداد بڑی تفصیل سے بیان کی ہے جب آپﷺ نے پہلی بار حضرت خدیجہ کا سامان تجارت لیکر شام جانے کا ارادہ کیاتھا۔علامہ ابن اثیرلکھتے ہیں کہ آنحضورﷺسیدہ خدیجہؓ کے غلام میسرہ کے ساتھ سامان تجارت لے کر شام کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ ﷺ کے چچا ابو طالب نے قافلے والوں کو آپ ﷺ کے خیال و نگہداشت کی خاص طور پر تاکید کر دی تھی۔ بالا خر آپ ﷺ شام میں بمقام بصریٰ فروکش ہوئے اور ایک درخت کے زیر سایہ آرام پذیر ہوئے۔ پاس ہی ایک صومعہ تھا جس میں نسطور نامی راہب عبادت میں مصروف رہتا تھا۔ راہب نے کھڑکی سے سرنکالا اور جھک کر میسرہ سے پوچھا ’’درخت کے سائے میں یہ کون صاحب آرام فرما ہیں ؟‘‘

میسرہ نے جواب دیا: ’’قریشی ہیں۔ ‘‘
راہب نے پھر دریافت کیا ’’کیا اس کی آنکھ میں سرخی ہے ؟ ‘‘
میسرہ نے کہا ’’ہاں !اور وہ سرخی کبھی دور نہیں ہوئی۔ ‘‘
یہ سن کر راہب بولا ’’بلاشبہ یہ نبی ہے اور آخری نبی۔۔۔۔کیونکہ اس درخت کے نیچے سوائے نبی کے اور کوئی نہیں اترا۔ ‘‘
راستے میں میسر ہ دیکھتا جاتا تھا کہ جب دوپہر کے وقت گرمی سخت ہوتی تو دوفرشے آپ ﷺ پر سایہ کیے رہتے۔ میسرہ یہ سب باتیں اپنے ذہن میں محفوظ کرتا رہا۔ سامان تجارت فروخت ہوا جس میں خلاف توقع بہت زیادہ نفع ہوا۔جب آپ ﷺ واپس مکے تشریف لائے تو میسرہ نے وہ تمام باتیں جو دیکھی اور سنی تھیں۔ حضرت سیدہ خدیجہؓ سے بیان کیں۔ جب حضرت سیدہ خدیجہؓ نے دیکھا کہ ان کے کاروبار میں بہت زیادہ نفع ہوا ہے تو انہوں نے آپﷺ کو معین شدہ اجرت سے دگنی رقم دی۔
حافظ ابو نعیم اصفہانی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں یہ روایت بیان کی ہے کہ شام کے سفر سے جب یہ قافلہ مکے پہنچا تو دوپہر کا وقت تھا۔حضرت سیدہ خدیجہؓ اس وقت اپنے گھر کی بالائی منزل پر تھیں۔ آپؓ نے بھی دیکھا کہ حضور ﷺ اپنے اونٹ پر سوار چلے آرہے ہیں اور دوفرشتے آپ ﷺ پر سایہ کیے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں