نارویجن حکومت کی نئی امیگریشن پالیسیوں‌کا اعلان

نارویجن وزیر اعظم یونس ستورے نے نئی امیگریشن پالیسیوں‌کا اعلان کیا ہے .جس میں‌انہوں‌نے پہلے سے سخت پالیسیوں‌کی توثیق کرتے ہوئے مزید اقدامات پر زور دیا ہے اور مزید اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے جس میں‌مندرجہ ذیل شامل ہیں.
خاندانی اتحاد میں‌رسائی کو سخت کرنا
قانونی رہائش کے بغیر لوگوںکی تیزی سے ملک بدری
اور بیرون ملک پناہ گزینوں‌کی استقبالی سہولتوں‌کا جائزہ لینا شامل ہیں.
مقامی روزنامہ وی جی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ امیگریشن پالیسی وقت کے تقاضوں‌کو پوری کرنے والی ہونی چاہیے اس لیے اس میں‌مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں‌جو کہ درست ہیں.انہوں‌نے کہا کہ لوگ پناہ کی آڑ‌میں‌معاشی سہولتیں‌اور ملازمتیں‌حاصل کرنے کے یے آتے ہیں‌جو کہ درست نہیں.
اس کے علاوہ وہ لوگ جو کہ ناروے میں کوئی جرم کر سکتے ہیں‌چاہے انہیں‌یہاں‌سزا ملی ہو یا نہیں‌انہیں‌یہاںنہیں‌رکھا جا سکتا.
حکومت کئی شعبوں میں خاندانی اتحاد تک رسائی کو بھی سخت کرے گی۔ جن لوگوں کو ناروے میں رہائش کا حق نہیں ہے انہیں زیادہ تیزی سے ملک چھوڑنا پڑے گا۔ وزیر اعظم کے مطابق، کوٹہ پناہ گزینوں کی تعداد کم از کم – 100 سالانہ – تک ہے اور یہ کئی سالوں تک وہاں رہے گی۔

– یوکرین سے زیادہ تعداد کے ساتھ، ہم ایک سال میں 100 کوٹہ پناہ گزینوں تک کم ہو گئے ہیں۔ میں ایک سگنل بھیجنا چاہتا ہوں کہ آنے والے سالوں میں یہ ایک بہت ہی محدود تعداد رہ جائے گی.

اپنا تبصرہ لکھیں