“قربانی کی حقیقت”

راولپنڈی کی ایک پرانی بستی میں عید الاضحی کی صبح تھی۔ گلیوں میں بچوں کے شور، گھروں سے آنے والی میٹھی میٹھی خوشبوؤں اور قربانی کے جانوروں کی آوازوں سے فضا گونج رہی تھی۔ ہر طرف خوشی کا سماں تھا، مگر ایک چھوٹے سے مکان میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔

عمران اپنی کچی اینٹوں والی چار دیواری میں بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے اس کا چھوٹا بیٹا حسین اپنی پرانی کتابیں پلٹ رہا تھا۔ عمران کی بیوی فاطمہ چولہے کے پاس کھڑی تھی، لیکن اس کے سامنے کوئی ہنڈیا نہیں تھی، نہ ہی گوشت پکانے کی کوئی تیاری۔ گھر کے آنگن میں قربانی کا کوئی جانور نہیں بندھا تھا۔

“ابّا، آج ہمارے گھر بھی بکرا آئے گا نا؟” حسین نے معصومیت سے پوچھا۔

عمران کا گلا بند ہو گیا۔ وہ ایک معمولی دفتر میں کلرک تھا، اور اس سال اس کی تنخواہ میں کٹوتی ہو گئی تھی۔ گھر کا کرایہ، بجلی کا بل، اور حسین کی اسکول فیس نے اس کے ہاتھ باندھ دیے تھے۔ قربانی کا جانور خریدنے کا خواب اس کے لیے پورا ہونا ناممکن تھا۔

“بیٹا… اس بار…” عمران نے اپنا سر جھکا لیا۔

حسین نے اپنے والد کے چہرے پر پہلی بار آنسو دیکھے۔ وہ سمجھ گیا کہ کچھ غلط ہے۔ اس نے اپنی کتاب بند کر دی اور خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔

فاطمہ نے ایک گہرا سانس لیا۔ وہ جانتی تھی کہ اس سال عید پر ان کے گھر میں گوشت کی خوشبو نہیں ہوگی۔ وہ چپکے سے کچن میں چلی گئی اور اپنے آنسو پونچھنے لگی۔

دوسری طرف، محلے کے امیر تاجر چوہدری صاحب کا گھر رنگین روشنیوں اور مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ ان کے آنگن میں موٹے تازے تین بکرے بندھے تھے۔ ان کا بیٹا عارف نئے کپڑوں میں مہمانوں کو دعوتیں دے رہا تھا۔

لیکن کچھ عجیب ہوا۔

عارف نے اپنے والد سے پوچھا، “ابو، ہم تین بکرے کیوں لائے ہیں؟ ہم تو صرف دو کی قربانی کرتے ہیں۔”

چوہدری صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، “بیٹا، تیسرا بکرا ہمارے پڑوسی عمران کے لیے ہے۔”

عارف حیران ہوا، “لیکن وہ تو ہم سے بات تک نہیں کرتا!”

چوہدری صاحب نے اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھا، “بیٹا، قربانی کا مطلب صرف جانور ذبح کرنا نہیں ہوتا۔ کسی کے دل کا درد سمجھنا بھی تو عبادت ہے۔”

تھوڑی دیر بعد، عمران کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔

باہر چوہدری صاحب اور ان کا بیٹا ایک خوبصورت بکرے کے ساتھ کھڑے تھے۔ عمران نے دروازہ کھولا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

“یہ… یہ کیوں؟”

چوہدری صاحب نے نرمی سے کہا، “عمران بھائی، عید کا دن ہے۔ ہم سب ایک ہیں۔”

عمران کا دل بھر آیا۔ اس نے چوہدری صاحب کے ہاتھ چوم لیے۔ “لیکن میں آپ کا یہ احسان کیسے چکاﺅں گا؟”

چوہدری صاحب ہنس پڑے، “احسان؟ نہیں بھائی، یہ تو میری خوشی ہے۔ آج میرے گھر میں دو نہیں، تین قربانیاں ہوں گی۔ ایک بکرے کی، ایک غرور کی، اور ایک نفرت کی۔”

حسین خوشی سے چلایا، “ابّا! آج ہمارے گھر بھی عید آئی ہے!”

فاطمہ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ عمران کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

اس دن راولپنڈی کی اس گلی میں صرف جانوروں کی قربانی نہیں ہوئی تھی۔ خود غرضی، تکبر اور غربت کے احساس کی بھی قربانی ہوئی تھی۔

اور یہی تو عید الاضحی کی حقیقت تھی۔

“قربانی کی حقیقت”“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ لکھیں