حضرت یونس علیہ السلام پر نبوت

حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے ایک جلیل القدر نبی تھے جن کا ذکر قرآن مجید میں متعدد بار آیا ہے۔ ان کا مکمل نام یونس بن متی تھا، اور ان کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا۔ ان کا لقب ذوالنون بھی ہے، جس کا مطلب ہے “مچھلی والا”، کیونکہ ان کا ایک مشہور واقعہ مچھلی کے پیٹ میں جانے سے متعلق ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام پر نبوت

اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو قوم نینویٰ (نینوا) کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔ نینوا موجودہ عراق کے شہر موصل کے قریب واقع تھا۔ حضرت یونس علیہ السلام کی نبوت کا زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کا ہے، لیکن بالکل صحیح تاریخ کے بارے میں اختلاف ہے۔

ان کی قوم کا انکار اور ان کا ترکِ قوم

حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا، توحید کا پیغام دیا، اور برائیوں سے روکا۔ لیکن ان کی قوم نے انکار کر دیا اور بات نہ مانی۔ حضرت یونس علیہ السلام غصے میں اور مایوس ہوکر اللہ کا حکم آئے بغیر اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ یہ ان سے ایک اجتہادی خطا تھی کیونکہ نبی کو اللہ کے حکم کے بغیر اپنی قوم کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔

مچھلی کے پیٹ میں جانا

جب حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم سے نکلے تو وہ ایک کشتی میں سوار ہو گئے۔ سمندر میں طوفان آ گیا، اور کشتی والوں نے بوجھ کم کرنے کے لیے قرعہ اندازی کی۔ قرعہ حضرت یونس علیہ السلام کے نام نکلا، اور انہیں سمندر میں ڈال دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے انہیں نگل لیا، لیکن وہ زندہ رہے۔

قرآن (سورۃ الصافات 139-144):

“یقیناً یونس بھی رسولوں میں سے تھا۔ جب وہ بھاگ کر بھری کشتی کی طرف گیا، پھر قرعہ اندازی میں شامل ہوا تو وہ مغلوبوں میں سے ہو گیا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ ملامت کرنے والوں میں سے تھا۔ اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو قیامت تک اس کے پیٹ میں رہتا۔”

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا

مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے توبہ کی اور بہت معروف تسبیح پڑھی:

لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ

ترجمہ: “تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا۔”
(سورۃ الأنبياء 87)

اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، اور مچھلی نے انہیں ایک چٹیل میدان میں اگل دیا۔

ان کی قوم کی توبہ

ادھر، حضرت یونس علیہ السلام کے جانے کے بعد جب قوم نے عذاب کے آثار دیکھے، تو وہ اللہ کے حضور سچے دل سے توبہ گزار ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی اور ان پر سے عذاب کو ٹال دیا۔

حضرت یونس کی قوم وہ واحد قوم ہے جس نے عذاب سے پہلے اجتماعی توبہ کی اور اللہ نے انہیں معاف کر دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں