جسم کے رشتے

خیال: ڈاکٹر شہلا گوندل

یہ رشتہ جو تھا، وہ شاید کبھی تھا ہی نہیں…
میں نے تو اسے عبادت جانا،
تم نے صرف خواہش سمجھا۔

میرے ہر لمس میں محبت تھی،
تمہیں بس جسم نظر آیا۔
میں تمہارے لمس میں روح تلاشتی رہی،
اور تم… صرف تین جہتوں میں قید
اور مادیت کی تلاش میں

میں دل کی گہرائیوں سے تمہیں چاہتی رہی،
تم سطحی لہجوں سے
مجھے کبھی لبھاتے
اور کبھی ٹھکراتے رہے۔
میں نے تمہیں مکمل چاہا
روح، دل، اور زندگی سمیت

پر اب دل تھک چکا ہے،
آنکھیں خشک ہو چکی ہیں،
اور خواب… وہ اب صرف میرے ہیں

یہ سچ ہے
اب ہمارے بیچ کچھ باقی نہیں رہا،
سوائے ایک ذمہ داری کے
اور دنیا داری کے

تمہیں آزاد کرتی ہوں، مکمل طور پر…
نہ دل سے بندھن،
نہ جذبوں کی قید

لیکن یاد رکھنا،
اب میں تمہارا عکس ہوں
جیسا سلوک کرو گے، ویسا ہی لوٹاؤں گی

تمہیں تمہاری دنیا مبارک،
مجھے میری تنہائی عزیز ہے۔

آج سے ہم صرف نام کے ساتھی ہیں،
دل اور روح کی وہ کہانی
وہ یکطرفہ کہانی ختم ہو چکی

اب جو باقی ہے، وہ صرف سکون ہے…
نہ تمہارے وعدوں کی طلب،
نہ تمہارے لفظوں کی ضرورت،
نہ کسی مدد کی توقع
بس ایک دعا ہے:
جہاں رہو، خوش رہو…
اور مجھے میرے آنسوؤں کے ساتھ تنہا چھوڑ دو۔

یہ آخری صفحہ ہے ہماری مشترکہ کہانی کا،
کیونکہ جوانی ڈھلنے کے بعد
جسم کے رشتے مر جاتے ہیں

اپنا تبصرہ لکھیں