خیال: ڈاکٹر شہلا گوندل
شدید دُکھ کی حالت میں،
جب دل کرچی کرچی ہو جائے
روح پر گہری تیرگی
گھٹا بن کر چھا جائے
ایسے انمول لمحوں میں
میرے رب کی آیتیں
روشنی بن کر قلب کو
سکینت کی دولت دیتی ہیں
یہ میرے رب کا وعدہ ہے کہ
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا
(البقرة: 286)
(اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا)
میری تنہائیوں کا غوروفکر
غم میں ڈوبے آنسو سب
اس ذاتِ علیم کے علم میں ہیں
جس نے یوسفؑ کو
قید میں ڈال کر سنوارا
جس نےموسیٰؑ کی
خاطر پانی میں راستہ نکالا
اور جب ابراہیمؑ آتشِ نمرود میں
کسی گیند کی طرح اچھالے گئے
تو آسمانوں سے فرشتے کی صدا آئی:
“رب کے لیے کوئی پیغام؟ “
ابراہیمؑ کا جواب:
“اگر تجھے اللہ نے بھیجا ہے، تو وہ کافی ہے
اور اگر تو خود آیا ہے،
تو جس نے مجھے آزمایا ہے،
وہ میرے حال سے بخوبی واقف ہے!”
پھر میرےرب کا حکم ہوا:
قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ
(الأنبياء: 69)
(ہم نے کہا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا)
ایوبؑ کے صبر پر خود
رب نے گواہی دی:
إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(ص: 44)
(بے شک ہم نے اسے صابر پایا، کیا ہی بہترین بندہ تھا، بے شک وہ (اللہ کی طرف) بہت رجوع کرنے والا تھا)
میں بھی اپنے پیارے رب سے
صبر وشکر کی توفیق مانگتی ہوں
کیونکہ میں یہ جانتی ہوں کہ
میرے صبر کے کٹھن لمحات میں
میرا رب میرے ساتھ ہوتا ہے
اوراُس کی رحمتِ بے کراں
میرے وجود کو ڈھانپ لیتی ہے
میرے بے نوا سجدے
میرے بےصدا نالے
میرے بے لگام آنسو
میرے سپاٹ چہرے پر
پگھلے سکوت کے موتی بن کر بکھر جاتے ہیں
زکریاؑ کی خاموشی
مریمؑ کی خواہش کہ وہ
ایک بھولی بسری کہانی ہوتیں
قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَٰذَا وَكُنتُ نَسْيًا مَّنسِيًّا
(سورة مريم، آیت 23)
(کہنے لگی: ‘کاش میں اس سے پہلے مر جاتی،
اور بھولی بسری چیز بن جاتی)
اور نبی ﷺ کے طائف کی گلیوں میں
لہو لہان پاؤں اور دستِ دعا نے
مجھے سکھایا اور قرآن کا وعدہ یاد دلایا ہے
کہ!
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۔ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
(الشرح: 5-6)
(بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے، یقیناً تنگی کے ساتھ آسانی ہے)
تو سنو!
اے میرے دل کو
سزا کے طور پہ
دُکھ دینے والو سنو!
تم نے سمجھا کہ دکھ دے کر
تم نے مجھے توڑ ڈالا
نہیں!
تم نے مجھے
میرے رب سے جوڑ ڈالا
میرے آنسو، حروف میں ڈھل کے
سچے موتیوں کی جگمگاتی لڑی بنے ہیں
میری وہ بے خواب راتیں،
نجانے کتنے حسین خوابوں کے بیج بو کر
میری روح کو مہکا رہی ہیں
میرا ہر دُکھ،میری جاں سے عزیز تر ہے !
کیونکہ میں وہ “خاص بیٹی “ ہوں
جسے دُکھ کی کوکھ میں پالا گیا ہے
اور رب کے کرم سےسنبھالا گیا ہے!

بےشک اللہ الحق ھے اور اللہ کا وعدہ سچا ھے