کوئی اور تھا

  کوئی اور تھا تحریر ضمیر آفاقی کوئی اور تھا ہر روز ملے جس سے اس کی منزل کوئی اور تھا میں تو راہگزر تھا اسکی اس کا راستہ کوئی اور تھا جو میری زندگی کی تلاش تھا اس کی مزید پڑھیں