Breaking News
Home / ادب / چھوٹے بچوں کے والدین متوجہ ہوں ۔

چھوٹے بچوں کے والدین متوجہ ہوں ۔


بار بار یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ دو تین سال کا بچہ ہر وقت ہمارا فون پکڑ کر بیٹھا رہتا ہے۔ سکرین کبھی فون، کبھی ٹیب، کبھی ٹی وی، کبھی کمپیوٹر کی شکل میں اسکے سامنے رہتی ہے۔ اسکی addiction کیسے ختم کی جائے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ بچوں کی اس فون اڈِکشن کے ذمہ دار ماں باپ خود ہیں۔ چھوٹے سے بچے کو نان سٹاپ سکرین دی ہی کیوں جاتی ہے؟
چند ماہ کے بچے کو ہم فون پر ٹیونز اور کارٹونز لگا کر اس کو بہلاتے ہیں۔ وہ معصوم جب ہاتھ بڑھا کر فون مانگتا ہے تو اس حرکت کو خوب انجوائے کرتے ہیں، اور ہر ایک کے سامنے کر کر کے دکھاتے ہیں جس سے بچے کو یہی تاثر ملتا ہے کہ بہت اچھا کام کر رہا ہے۔
جب اسکی عادت پکی ہو جاتی ہے اور فون نہ پکڑانے پر وہ روتا ہے تو اس کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں حالانکہ ڈانٹ کا اصل حقدار یہاں بچے کے علاوہ کوئی ہے 🙂
اب آئیے مسئلے کے حل کی طرف!
سب سے پہلے تو فون میں سے ہر قسم کی گیمز وغیرہ ڈیلیٹ کر دیں۔ اس پر پاس ورڈ لگائیں۔ اسکو بچے کی پہنچ سے دور رکھیں۔ جب وہ مانگے تو سہولت سے اسکو بتائیں کہ بیٹا وہ ماما کے کام کی چیز ہے، بچے اپنے کھلونوں سے کھیلتے ہیں۔ اور ساتھ ہی اسکا دھیان کسی اور طرف بٹائیں کہ فون کو جانے دیں، آئیں ہم play dough سے کھیلیں یا آئیں ایک مزے کی ایکٹیویٹی کرتے ہیں۔ اب کیا ایکٹیوٹی کی جائے؟ اگر تو آپ کچن میں ہیں، اسے کچن میں ہی کچھ کرنے کو دے دیں۔ نیچے شیٹ بچھا کر تھوڑا سا میدہ برتن میں ڈال دیں۔ ساتھ میں پانی بھی پکڑا دیں۔ وہ بیٹھ کر آٹا گوندھتا رہے۔ یا آٹے کا چھوٹا سا پیڑہ اسکو پکڑا دیں اور ساتھ میں خشک آٹا، وہ روٹیاں بنا لے۔
ایک دو پلاسٹک کے برتن سنک میں رکھ دیں اور سنک کے ساتھ کرسی پر کھڑا ہو کر برتن دھو لے۔ اگر آپ ڈسٹنگ کر رہی ہیں تو ایک چھوٹی سپرے والی بوتل اور ایک کپڑا اسکو بھی دے دیں کہ صفائی کرے۔
چھوٹا وائپر پکڑا دیں کہ باتھ روم میں سے وائپر لگا دے یا شیشے صاف کر لے۔ الغرض، گھر کے جس حصے میں بھی آپ ہیں، اسکو اپنے ساتھ مصروف کر لیں۔ آپکا کام تھوڑا سا بڑھ جائے گا۔ وہ شیشے جو بچے نے “صاف” کیے ہیں، دوبارہ صاف کرنے پڑیں گے۔ باقی کام بھی اسی طرح۔ لیکن اسکی بہت تعریف کریں کہ وہ ماما کی کتنی مدد کر رہے ہیں اور ماما کو ان پر کتنا فخر ہے۔ دوسری بات یہ کہ جب خود بچے کی صاف کی ہوئی چیزوں کو ٹھیک سے صاف کرنا ہو، اسکے سامنے نہ کریں تا کہ اس کا دل خفا نہ ہو۔ بچے میں اس سے بہت اعتماد آتا ہے کہ وہ گھر کا ایک فعال رکن ہے، گھر کا کوئی کام اسکی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ اور پھر چونکہ والدین بچوں کے رول ماڈل ہوتے ہیں اور وہ انہیں کاپی کرنا چاہتے ہیں تو انکی یہ خواہش بھی پوری ہو جاتی ہے۔ سب کے سامنے اسکی تعریف کریں کہ میرا بیٹا تو میرا ہیلپر ہے۔
بچے کے لئے چھوٹی سپرے والی بوتل، چھوٹا وایپر، چھوٹا ایپرن، برتن مانجھنے کے لئے کوئی مخصوص برش، صفائی کے لئے کوئی خاص کپڑا وغیرہ چلتے پھرتے خرید لیں۔
ان چیزوں کو اپنی جگہ واپس رکھنا بھی اسکے ذمے لگائیں۔ اس سے بچے میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
باقاعدہ ایکٹیوٹیز کے لئے فیس بک پر ڈھیروں پیجز ہیں۔ pinterest پر کتنے ہی آئیڈیاز ہیں۔ وہاں سے کوئی بھی آئیڈیاز لیں۔ بچہ کھیل کھیل میں ہی بہت کچھ سیکھ بھی لے گا اور سکرین سے بھی دور رہے گا۔ دراصل بچے کو سکرین کے آگے بٹھا دینے سے ہمارا کام بہت آسان ہو جاتا ہے کہ بس وہ اپنی الگ دنیا میں گم ہے اور ہم نے آرام سے اپنا کام کر لیا۔
بعد میں پھر ہم ہر ایک کے سامنے روتے رہتے ہیں کہ بچہ سکرین کے آگے سے نہیں ہٹتا۔
آپ اسکو کوئی اچھا متبادل دیں، وہ ضرور سکرین چھوڑ دے گا۔ اگر کچھ دیر اسکو باہر کھیلنے دیا جا سکے تو بھی بہت اچھا ہے۔
مٹی سے کھیلے، پتھر، ٹہنیاں اکٹھی کرے۔ گھر آ کر ان کو پینٹ کر لیں۔ ٹہنیوں پر پھول پتے بنا کر چپکا لیں۔ چھوٹے پتھر دھو کر ان پر پینٹ کر لیں اور بابا کو آفس کے لئے paper weight کے طور پر گفٹ کر دیں۔ بچے کا اعتماد بہت بڑھ جاتا ہے ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے۔
۔ آج آپ انکے ساتھ وقت نہیں گزاریں گے، کل وہ آپ کے ساتھ وقت گزارنے کے عادی ہی نہیں ہونگے۔ اپنے آپ پر اور اپنے بچوں پر ظلم نہ کریں۔
ان تمام کاموں کے ساتھ ساتھ روزانہ، بلا ناغہ بچوں کو کوئی نہ کوئی کتاب پڑھیں۔ دینی کہانیاں بھی سنائیں، خود سے گھڑ کر بھی سنائیں لیکن باقاعدہ کتاب سے پڑھ کر سنانا اسلئے ضروری ہے کہ کتاب کی محبت، عزت اور عادت شروع سے ہی بچے کے دل میں ہو۔
جب کوئی اصول بنائیں تو پھر اس پر سختی سے عمل پیرا ہوں۔ بچے کے رونے پر آپ ایک بار ہتھیار ڈال دیں گے، اگلی بار اسکو معلوم ہو گا کہ رونے سے کام نکل سکتا ہے۔ وہ اور زیادہ ضد کرے گا جب تک کہ بات منوا نہ لے۔ اسکو سمجھائیں، نرم لیکن مضبوط لہجے میں بتائیں کہ چیز اسکو نہیں مل سکتی اور ساتھ ہی متبادل کے طور پر کوئی اور کام کرنے کو دیجیے۔ اگر ایک تین یا چار سالہ بچے کے آگے آپ خود کو بےبس محسوس کرتے ہیں تو جب وہ ٹین ایجر ہو گا، اس وقت کیا کیجیے گا؟
انتخاب،، عابد چودھری

🔹▬▬▬▬▬ 🌹 ▬▬▬▬▬🔹

Check Also

کچھ حیران کن حقائق

  کچھ حیران کن حقائق ”انسانی عادتوں کے ماہرین نے ڈیٹا کی بنیاد پر ریسرچ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: