Breaking News
Home / ادب / پچیس انوکھی باتیں

پچیس انوکھی باتیں

1۔ آپ کا جسم صرف ایک سیکنڈ میں 15 ملین (ڈیڑھ کروڑ) خون کے لال خلیے بناتا اور ختم کرتا ہے۔
2۔کیا آپ کو معلوم ہے کہ کیلے یا سبز رنگ کے سیب کو صرف سونگھنے سے بھی وزن کم کیا جاسکتا ہے۔
3۔بٹر فلائی یعنی تتلی کا اصلی نام ‘flutterby’ تھا۔
4۔گھونگھا تین سال تک لگاتار سو سکتا ہے۔
5۔ہاتھی وہ واحد جانور ہے جو چھلانگ نہیں لگا سکتا۔
6۔کتے وہ آواز یا جیز بھی سننے یا دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو کہ ایک انسان نہیں سن سکتا۔ جیسے جنات وغیرہ
7۔دوسروں کو روشنی دینے والا مؤجد تھامس ایڈیسن جس نے بلب ایجاد کیا٬ خود اندھیرے سے خوفزدہ رہتا تھا۔
8۔تقریباً 3000 سال قبل زیادہ تر مصری باشندے 30 سال کی عمر تک پہنچتے ہی انتقال کر جاتے تھے۔
9۔زمین پر صرف ایک منٹ کے مختصر عرصے میں تقریباً 6 ہزار مرتبہ بجلی چمکتی ہے۔
10۔ہمنگ برڈ کا وزن ایک سکے سے بھی کم ہوتا ہے۔
11۔ایک بگلے کی آنکھ اس کے دماغ سے بھی بڑی ہوتی ہے۔
12۔ایک اندازے کے مطابق دنیا کی سب سے قدیم ترین چیونگم کا ٹکڑا 9 ہزار سال سے بھی زیادہ پرانا ملا ہے۔
13۔سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا انگریزی کا حروف ‘E’ ہے جبکہ سب سے کم ‘Q’ کا استعمال ہوتا ہے۔
14۔ آپ کا معدہ ہر دو ہفتے میں mucus کی نئی تہہ پیدا کرتا ہے٬ ورنہ دوسری صورت میں معدہ خود کو ہی ہضم کر جائے گا۔
15۔جس طرح ہر انسان کے انگلیوں کے نشانات ایک دوسرے جدا ہوتے ہیں ویسے ہی زبان کے نشانات بھی دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں۔
16۔ ایک لال بیگ کا سر کاٹ دیا جائے تو وہ 9 دن تک بغیر سر کے زندہ رہ سکتا ہے۔
17۔ آپ کو یہ جان کر ضرور حیرت ہوگی کہ اسٹار فش بغیر دماغ کے ہوتی ہے۔
18۔ڈولفن کی سوتے وقت ایک آنکھ کھلی ہوئی ہوتی ہے۔
19۔ دنیا میں کچھ کیڑے ایسے بھی موجود ہیں جو غذا نہ ملنے کی صورت میں خود کو ہی کھا جاتے ہیں۔
20۔ شہد وہ واحد غذا ہے جو کبھی خراب نہیں ہوتی- آثار قدیمہ کے ماہرین نے مصری فرعون کے قبرستان سے جو شہد دریافت کیا وہ اب بھی کھانے کے قابل تھا۔
21۔ گھوڑا، بلی اور خرگوش کی سننے کی طاقت انسان سے زیادہ ہوتی ہے، یہ کمزور سے کمزور آواز سننے کے لیے اپنے کان ہلا سکتے ہیں
22۔ کچھوا، مکھی اور سانپ بہرے ہوتے ہیں
23۔ تتلی کی چکھنے کی حس اس کے پچھلے پاؤں میں ہوتی ہے
24۔وہیل کی عمر 500 سال سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
25۔ مکھی ایک سیکنڈ میں 32 مرتبہ اپنے پر ہلاتی ہے۔

Check Also

چھوٹے بچوں کے والدین متوجہ ہوں ۔

‎ بار بار یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ دو تین سال کا بچہ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: