Home / حالات حاضرہ / خبریں / شوہر کی بیماری کے بعد رشتہ داروں نے ساتھ چھوڑا تو بہادر خاتون نے کمر کس لی ، عزم ہمت کی ایسی داستان کہ ہر آنکھ نم ہو جائے

شوہر کی بیماری کے بعد رشتہ داروں نے ساتھ چھوڑا تو بہادر خاتون نے کمر کس لی ، عزم ہمت کی ایسی داستان کہ ہر آنکھ نم ہو جائے

شوہر کی بیماری کے بعد  رشتہ داروں نے ساتھ چھوڑا تو بہادر خاتون نے کمر کس لی ، عزم ہمت کی ایسی داستان کہ ہر آنکھ نم ہو جائے

لاہور کی اُمِ نور نامی بہادر خاتون نے  پاکستانی عورتوں کےلئے ہمت اور جراَت کی اعلیٰ مثال قائم کردی ،شوہر کی طویل بیماری کے بعد 6 بچوں کی کفالت کے لئےکسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے گھر میں ہی سلائی سینٹر کھولتے ہوئے علاقے کی غریب بچیوں کو بھی مفت کام سکھانا شروع کردیا ،بہادر خاتون کی درد بھری کہانی سن کر آپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آجائیں ۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کے پوش علاقے گلبرگ کی نواحی  کچی بستی میں رہائش پذیر 47 سالہ بہادرخاتون نے عزم و ہمت کی ایسی داستان رقم کردی کہ ہر کوئی عش عش کر اٹھے ۔اُم نور نامی باہمت خاتون کا کہنا تھا کہ اُس کے شوہر اپنا ذاتی کاروبار کرتے تھے تاہم چند سال قبل کاروباری دوستوں اور بزنس پارٹنرز  نے اُنہیں دھوکہ دیتے ہوئے مقدمے بازی میں الجھا دیا جس کی وجہ سے اُن کا کاروبار مکمل تباہ ہو گیا ،کاروبار کی تباہی کے ساتھ ہی وہ دل کے مرض میں مبتلا ہو گئے اور دل کے دو وال بند ہونے کی وجہ سے سٹنٹ ڈلوانے پڑے ،بیماری اور مقدمے نےساری جمع پونجی   ختم کردی جس سے ہم کوڑی کوڑی کے محتاج ہو گئے جبکہ شوہر کو دل کے ساتھ کئی دوسرے امراض بھی لاحق ہو گئے ،میری چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں ،حالات خراب ہوئے تو سکول جانے والے بچوں کو بھی گھر بٹھا لیا ،رہی سہی کسر کورونا نے نکال دی ،سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لئے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا جا سکتا تھا ،جب دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے اور شوہر چارپائی پر پڑ گیا تو پھر میں نےاپنے حالات کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائےمحنت کرتے ہوئے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کا عزم کیا ،اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے چند پیسےقرض لیکر سلائی سینٹر کھولنے کا فیصلہ کیا ۔اُمِ نور کا کہنا تھا کہ میں نے فیشن ڈیزائنگ میں ماسٹر کیا ہے ،سلائی سینٹر کھولنے سے  میرے حالات تو بہتر ہونا شروع ہو گئے تاہم اگر آپ کہیں کہ اِن پیسوں سے 6  بچوں ،بیمار شوہر ،بجلی گیس کے بلز اور سکول کی فیسیں ادا ہو جاتی ہیں تو ایسا نہیں ہے تاہم مجھے یقین ہے کہ جیسے جیسے میں اپنے کام کو بڑھاتی جاؤں گی ،اللہ کے فضل سے مشکل حالات قابو میں آ جائیں گے اور ممکن ہے کہ چند سال میں ہی پہلے جیسی خوشحالی ہمیں نصیب ہو جائے۔

اُم نور کا کہنا تھا کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور ہمیں حلال رزق کمانے سے شرم نہیں آنی چاہیے کیونکہ  بھیک مانگنے سے محنت کرنا زیادہ آسان ہے،ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں یہاں ارد گرد کے لوگوں کی تو بات ہی چھوڑیں اپنے بھی مدد کرنے کی بجائے” تماشہ” دیکھتے ہیں،میرے شوہر ماضی میں اپنے رشتہ داروں اور دوست احباب کی مثالی مدد کیا کرتے تھے تاہم جب سے وہ بیمار ہوئے ہیں ،ہمارے رشتہ داروں کے ساتھ اُن کے دوستوں نے بھی ہمارا حال پوچھنا چھوڑ دیا ہے،سارے حالات کو دیکھتے ہوئے میں نےبے انتہا مشکلات کے باوجود دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے حلال طریقے سے رزق کمانے کو ترجیح دی،یہ اللہ کی طرف سے ہمت ملی ہے مجھے کہ میں مردوں کے معاشرے میں اکیلے مقابلہ کر رہی ہوں،میری خواہش ہے کہ میں اپنا بوتیک بنا سکوں ،جس دن میرا یہ خواب پورا ہو گیا سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔

اُم نور کا کہنا تھا کہ انہوں نے سلائی سینٹر میں علاقے کی غریب بچیوں کو مفت سلائی کا ہنر سکھانےکاتہیہ کیاہے،میں چاہتی ہوں کہ میرےعلاقے کی کوئی بچی بے ہنر نہ ہو ،ہمیں اپنی بچیوں کوتعلیم اورہنر کےزیور سےآراستہ کرناچاہئے تاکہ اگراُنہیں اپنی عملی زندگی میں کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑے تو پھر عزت نفس مجروح اور دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلائے بغیر وہ حالات کے جبر کا مردانہ وار مقابلہ کر سکیں ،میرے گھر میں کمانے والے صرف میرے شوہر ہیں تاہم ان کی بیماری کے بعدگھر چلانے کے لئےمیرے پاس سلائی سینٹر کھولنے کےعلاوہ  اور کوئی راستہ نہیں تھا، میرے شوہر کچھ دن پہلے بھی کئی ہفتے تک ہسپتال میں زیر علاج تھے،ان حالات میں گھر چلانا کتنا  مشکل ہوتا ہے ؟مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا  ،کئی دن تو ایسے بھی گذرے جب گھر میں  میرے بچوں کے لئے کھانا تک نہیں تھا، ایک دن میرے دس سال کے چھوٹے بیٹے نے صبح مجھ سے ناشتہ مانگا تو میرے پاس آنسوؤں کے علاوہ اُس کو دینے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے خواتین کو قرضے دینے کی بات بہت کی جاتی ہے مگر ایسی پالیسی بھی لانی چاہئے جس سے میرے جیسی سفید پوش اور غریب خواتین کسی مشکل اور ریفرنس کے بغیر آسانی کے ساتھ گھر بیٹھے قرض حاصل کرسکیں ،بینکوں کے چکر اور دستاویزات کی تصدیق جیسے مراحل حکومت کو مزید آسان بنانے چاہئیں اور حکمرانوں کو پالیسیاں ترتیب دیتے وقت ملک کی سفید پوش خواتین کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے ۔

 

Check Also

ایک خواب ایک حقیقت

sajida parveen: دوڑ کے مقابلوں میں فِنِش لائن سے چند فٹ کے فاصلے پر کینیا ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: