Home / ادب / شعرو ادب / فسانہ اور ہوتا ہے حقیقت اور ہوتی ہے

فسانہ اور ہوتا ہے حقیقت اور ہوتی ہے

زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے
فسانہ اور ہوتا ہے حقیقت اور ہوتی ہے
نہیں ملتے تو ایک ادنیٰ شکایت ہے نہ ملنے کی
مگر مل کر نہ ملنے کی شکایت اور ہوتی ہے
یہ مانا شیشۂ دل رونقِ بازارِ الفت ہے
مگر جب ٹوٹ جاتا ہے تو قیمت اور ہوتی ہے
نگاہیں تاڑ لیتی ہےمحبت کی اداؤں کو
چھپانے سے زمانے بھر کی شہرت اور ہوتی ہے
یہ مانا حسن کی فطربہت نازک ہے اے وامقؔ
مزاجِ عشق کی لیکن نزاکت اور ہوتی ہے
(وامقؔ جونپوری)

Check Also

………….میری بات بیچ میں‌رہ گئی

انتخاب عبدہ رحمانی شکاگو تیرے ارد گررد وہ شور تھا ، مری بات بیچ میں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: