Home / کالم / یومِ آزادی کے حوالے سےڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی تحریر

یومِ آزادی کے حوالے سےڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی تحریر

70 سال سے اس ملک کے لیے دل سے خوشیاں منانے والے کروڑوں عام پاکستانیوں کی حالت زار فوری توجہ کی متقاضی ہے.

اس سے پہلے کہ ان کا ولولہ ٹھنڈا پڑنے لگے انہیں اس قابل بنانا ہے کہ ان کا دل ہی نہیں ان کا دماغ بھی ملک کے ساتھ اپنا اٹوٹ تعلق محسوس کرے. ان کو بھی معلوم ہو کہ وہ واقعی آزاد ہیں اور 14 اگست 1947 آزادی کے نام پر دراصل آقا بدلنے کی تاریخ نہیں. اب وہ ایک قوم کا حصہ ہیں جہاں ان کے ہونے کی اہمیت ہے، ایک وقعت ہے.

آج مجھے آپ سے وہ کہنا ہے جو کام میرے اور آپ کے کرنے کا ہے. ہم ان کی مالی مشکلات دور نہیں کر سکتے نہ ہی بڑے پیمانے پر ان کی داد رسی کا سامان کر سکتے ہیں. لیکن ہم صرف دو کام اپنے ذمہ لے لیں تو ان کا احساسِ بےبسی ضرور ختم ہو سکتا ہے. لطف کی بات یہ ہے کہ اس میں ایک پیسے کا خرچہ یا ایک سیکنڈ کا زائد وقت بھی درکار نہیں۔ بس آج، بلکہ ابھی سے اپنے اوپر یہ فرض کر لیجیے کہ کمزور کی عزت نفس اور اس کے گھر کی آبرو کبھی آپ کے ہاتھوں پامال نہیں ہوگی. گالم گلوچ رہی ایک طرف، حقارت بھرے لہجہ میں بھی بات نہیں ہوگی. اور اس کے گھر کی عورت ہماری آنکھ اور نظر میں ویسے ہی محترم ہو جیسے ہمارے اپنے گھر کی خواتین. کیا یہ کچھ زیادہ ہے ؟؟؟

ایک آزاد قوم کی سب سے بڑی نشانی ہوتی ہے کہ وہ بلا لحاظ سماجی مرتبہ و معاشی حیثیت ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ اگر ہم بائیس کروڑ نفوس (حالیہ مردم شماری کے مطابق) پر مشتمل قوم ہیں اور محض چند لاکھ نہیں تو پھر یہ سب کے لیے احترام کے یکساں معیار کے بغیر ممکن نہیں.

یاد رکھیے سب لوگ اپنے معاشی دائرے میں جینا سیکھ لیتے ہیں، ضرورتوں کو عیاشی سمجھ کر ضرورت کی چادر سمیٹ لیتے ہیں لیکن عزت کی چادر خدا کی جانب سے تمام انسانیت کو یکساں عطا ہوئی ہے. یہ سروں پر سایہ فگن نہ رہے تو انسان پھر انسان نہیں رہتا. اپنے سے کمزور کو عزت دیجیے تاکہ وہ پورے یقین اور توانائی کے ساتھ خود کو پاکستان اور پاکستانی قوم کا حصہ محسوس کرے. اگر ایسا نہیں ہوگا تو ایک دن زمین کا یہ نمک مردہ ہو کر زمین کی سطح پر آ جائے گا. زمین شور زدہ ہو کر بنجر ہو جائے گی. امن کے بجائے انتشار ہو گا ۔۔۔۔ خیر کی جگہ شر لے لے گا۔

آئیے اس چودہ اگست یہ عزم کریں کہ ہم بائیس کروڑ، ایک قوم ہیں۔ ہم باعزت قوم ہیں اور اس قوم کے ہر فرد کی عزت سانجھی ہے ۔ باہمی رواداری کے اس جذبہ سے لیس، ہم سب مل کر اس وطن کی زرخیزی بڑھائیں گے۔ پاکستان کی گود رنگ اور امنگ سے کبھی خالی نہ ہونے دیں گے !

Check Also

 ہم ڈوب رہے ہیں ہار جیت کے درمیان!

  (شیخ خالد زاہد)   یہ ممکن نہیں کہ سوچوں کی بھرمار آپکے ذہنوں میں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: