یورپ کے مختلف ممالک میں زہریلے انڈوں کا انکشاف

ہالینڈاور جرمنی کاانڈا ،اسکینڈل پر جھگڑا۔
جرمنی میں کئی ملین انڈے تلف۔مرغیوں کی زندگیاں بھی خطرے میں۔
۔دونوں ممالک ایک دوسرے کو مورّد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔یورپین یونین کے سربراہ نے اس مسلہء کو حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔یورپین یونین کے Vytenis Andriukaitis نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو اس جھگڑے کو مزید طول نہیں دینا چاہیے ۔اس سلسے میں جلد ہی یورپین یونین کی جانب سے ایک میٹنگ بلوائی جائے گی۔
نارویجن خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعرات کے روز ہالینڈ کی دو ایسی کمپنیوں کے سربراہان کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر مرغی خانوں میں ممنوعہ دوا استعمال کرنے کا الزام تھا۔یہ دوا مرغیوں میں جوؤں کے خاتمے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔لیکن اسکی وجہ سے انڈے زہریلے ہو جاتے ہیں جو کہ انسانی صحت کے لیے مضر ہیں۔یہ انڈے ہالینڈ کے پولٹری فارموں سے بیلجیم میں فروخت کیے جاتے ہیں۔وہاں سے یہ یورپین ممالک کو فروخت کیے جاتے ہیں۔جبکہ ہالینڈ اپنے ستر فیصد انڈے جرمنی کو فروخت کرتا ہے۔اس لیے جرمنی کو کئی ملین انڈے مارکیٹ سے اٹھا کر تلف کرنے پڑے۔
ہالینڈ گیارہ یورپین ممالک میں انڈے سپلائی کرتا ہے۔ان ممالک میں لکسمبرگ،رومانیہ،فرانس اور ڈنمارک بھی شامل ہیں۔جبکہ سوزر لینڈ اور سویڈن میں بھی دوکانوں سے ڈچ انڈے ہٹا دیے گئے۔جبکہ برطانیہ کا کہنا ہے کہ انکے ملک میں سات لاکھ ڈچ انڈے موجود ہیں۔لیکن ارباب اختیار کا کہنا ہے کہ برطانوی اورڈینش عوام کو فکر کی ضرورت نہیں کیونکہ وہاں پائے جانے والے انڈوں میں زہر کی مقدار بہت معمولی ہے جو کہ انسانی صحت کے لیے مضر نہیں۔
جبکہ نارویجن محکمہء خوراک کا کہنا ہے کہ ہم ڈث انڈے فروخت نہیں کرتے۔لیکن نارویجن اخبار نیشن کے مطابق یہ انڈے مختلف تیار شدہ اشیائے میں موجود ہو سکتے ہیں۔
اس لیے کئی یورپین مرغیاں ہلاک کی جاسکتی ہیں۔جبکہ بیلجیم کا موقف ہے کہ ہالینڈ کو پچھلے برس ماہ نموبر سے انڈوں میں زہر کی موجودگی کا علم تھا لیکن ہالینڈ اس الزام سے مسلسل انکار کر رہا ہے۔
NTB/UFN

اپنا تبصرہ بھیجیں

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)