Breaking News
Home / کالم / ایک قبائیلی کا پیغام پاکستانیوں  اور جنرل راحیل شریف کے  نام

ایک قبائیلی کا پیغام پاکستانیوں  اور جنرل راحیل شریف کے  نام

Nishan-i-Haider-PAK...ڈیر پاکستانیوں ہم قبائیلی آپ سے پوچھتے ہیں کہ  ہم کو ظالبان  کا تحفہ کس نے دیا؟ اور ہمارے سادہ لوح نوجوانوں کوطالبان کس نے
بنایا ؟ااور فاٹا میں دنیا بھر کے جنگجووّں کو کس نے آباد کرایا  ؟کیا ہم جیسے ان پڑھ اور غریب   لوگ  اُسامہ بن لادن کے بزنس پارٹنر تھے یا ازبک اور چیچن کے ساتھ ہم کوئی  ٹریڈ کر رہے تھے کس نے  فاٹا کو دنیا بھر کی جاسوس ایجنسیوں کے پراکسی وار  کا زون بنا یا اور یہی نہیں بلکہ کس نے  ڈالروں کے عوض فاٹا کو انسانوں کی شکار گاہ بنا دیا ؟بلکل ایسے ہی جیسے عرب شیخوں کو پاکستان کے ریگیستانوں میں درم و ریال کے لالچ میں معصوم پرندوں کی شکار کی کھلی چھوٹ دی جاتی ہے۔
 مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش اور بلوچستان کے اس حال کا کون زمہ دار ہے اور فاٹا کے  قبائیلوں کو کس نے جنگ کا اندھن سمجھ کر جب چاہا استعمال کیا  اور  9 / 11  سے لیکر  اب تک  یہ جو  60.000    سے زائید لوگوں میں سے کتنے فوجی جوان شہید ہوئے اور کتنے پشتون جوان،بچے خواتین  اور بوڑھے شہید ہوئے اور  اب تک کتنے ملین قبائیلی بے گھر و بے در ہوئے آپ کے پاس  پنجاب اور سندھ کے یوتھ فسٹیول کے ناچ گانوں پر خرچ کرنے کے لیے  اربوں  روپے خرچ کرنا قومی خدمت ہے ۔ مگر ان پشتونوں کے لیے   حق بات کہنے کی بھی ہمت  اور وقت نہیں یا پھر جنرل ٹکا خان کی طرح جیسے کہ اُس نے آج کے بنگلہ دیش  اور اس وقت کے مشرقی پاکستان کے لیے کہا تھا (کہ ہم کو لوگ نہیں زمین چاہیے) پھروہ  لوگ تو رہے مگر وہ زمین  جنرل ٹکا خان  کے بجائے  اُن لوگوں نے   بنگلہ دیش  کی شکل میں خود  حاصل کر لی ۔ اب اگر آج کے جنرلز کا  بھی  یہ ارادہ ہے تو مرد بنیں اور اعلان کریں کہ ہم کو فاٹا کا علاقہ چاہیے یہ نام نہاد  war on terror     کے  بہانے نہ بنائیں پھر دیکھتے ہیں کہ کیا ہم بنگالیوں سے بھی کمزور ہیں ( دہ گز دہ میدان) آزماہ لیں خود کو بھی اور ہم کو بھی کیونکہ یہ ملک جتنا آپکا ہے ہمارا بھی اتنا ہے اس لیے گزارش ہے کہ ہمارے صبر اور برداشت کو کمزوری نہیں حب الوطنی کا سمجیں ! 
شکریہ راحیل شریف
آجکل پاکستان میں اگر کوئی چھینکتا بھی ہے تو الحمداللہ کے بجائے شکریہ راحیل شرف کا ورد کرتا ہے اس لیے    ہم بھی اگر جان کی امان پایئیں تو ایک قبائیلی کا آپکو پیغام  دینے کی سعادت حاصل کریں!
اصولی طور پر تو عوام کو گزارشات حکمرانوں یعنی سیاستدانوں سے کرنی چاہیے پر فاٹا میں تو اُن کا کوئی ءمل دخل نہیں کیونکہ وہ فاٹا کو اور قبائیلیوں کو  پاکستان کا حصہ  اور لوگ نہ سمجھتے تھے نہ ہیں اور نہ سمجھیں گے جس کی قدم قدم پر انہوں نے ہزاروں ثبوت دیے مشلاُ جب یہ so called zarb e azab ya  zarbe ghazab  
شروع ہوا تو بنجابیوں اور سند ھیوں نے جس طرھ اپنے صوبوں کی سرحدیں بند کی اسطرح تو یورپ نے مہاجرین پر نہیں بند کیں ۔آج رائیونڈ محل،بلاول ہاوسسز ،بنی گالا اور شہزاد ٹاون کے محلات کے لیے بجٹ کی نہ کمی تھی نہ ہوگی اسطرح رنگ برنگی  ٹرینوں ،پاور پلانٹس۔ موٹر وییز اور ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بنانے کے لیے قرضوں پہ قرضے لے سکتے ہیں کیونکہ وہ ان کے اپنے لوگ اور ملک کا معاملہ ہے ہم کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے یہ اپکا اندرونی معاملہ ہے ہم غیروں کو کوئی حق نہیں کہ دخل دیں۔ اس لیے تو پاکستان کے ستر سے زیادہ  TVچینل آیان علی کی کیٹ واک،ڈاکٹر عاصم کے کارناموں اور ءمران ریحام کے طلاق جیسے عظیم ملکی معاملات پر دن رات مغز کھپاتے ہیں۔ اور کھبی اتنا فالتو وقت ہی نہیں کہ ان پالتو جانوروں کی بات کریں!
ویسے اسکا فاءدہ بھی نہیں تھا کیونکہ آپ آزادانہ طور پر کسی بھی جرنلسٹ کو فاٹا  جانے نہیں دیتے اور جن مخصوص صحافیوں کو لے جاتے بھی ہو تو سر پر انکے  ( دولے شاہ کے چوہوں والی ٹوپی) اور آنکھوں پر مخصوص کولہے کے بیل وال پٹی یعنی  عینک پہنا کر وزٹ کراتے ہو پھر یہ حضرات وہی فرماتے  ہین جو آپ کہلوانا چاہتے ہو ! لہذا ان کو آیان اور ریحام کے  جیسے قومی مسـلے پر ہی  توجہ دینی چاہیے یا حمزہ اور بلاول کے ناچ گانے کے یوتھ فیسٹیول کی کوریج کرنی چاہیے۔  
 خیر ہمارے ان پڑھ  اور عقل سے عاری بزرگوں نے اسلام کے نام پر پاکستان سے الحاق جو کیا تھا  تو کیا اب قیامت تک ہم قبائیلیوں کو اس کا خراج  دینا پڑے گا ہو سکتا ہے اُن کے زمانے میں یہ واقعی پاکستان ہو مگر اب تو یہ مکمل  پنجابستان بن چکا ہے یا تھوڑا بہت بچاکچا سندھو دیش بھی ہو  شاہد ! جن کے ہیڈ آفس ،  یا کپیٹل  دوبئی ،لندن، انْقرہ اور ریاض میں ہیں۔ ماشاء اللہ اب تو یہ ملک خلیج اور یورپ تک وسیع و عریض ہوگیا ہے ایسے میں فاٹا جیسے بے کار علاقہ اور لوگ اپکے کس کام کہ!
مگر 
 
 آپ کا اور آپکی فوج کا ہم سے براہراست تعلق ہے کیونکہ ہم تو آپ کے اصطبل کے وہ  گھوڑے  اور خچر ہیں جن کو آپ خاص موقعوں پر یاد کرتے ہو اور یہ قربانی کے جانور جن کو عرف عام میں  قبائیلی کہتے ہیں یہ نادان ابھی تک خود کو صرف انسان ہی نہیں بلکہ پاکستانی بھی سمجھتے رہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ   نہ تو یہ پاکستانی ہیں اور نہ ہی انسان یہ تو جنرل  ضیاء الحق اور  فخرکمانڈوز مشرف جیسے جرنیلوں کے قربانی کے جانور تھے اور اب آپ جیسے جلیل القدر جنرل ان کے مالک  ہیں۔
 
اس لیے ہم جیسے بزدل اور بے وقوف لوگ جن کو جب چاہو قربانی کے جانور بنا کر کشمیر میں  1947انڈیا کے خلاف ، 1979 افغانستان میں روس کے خلاف اور پھر  2001  سے اج تک  امریکہ کے خلاف کے good Taliban and bad Taliban  کی ڈبل گیم سے قربان کرتے رہے  اور بدلے میں ڈالر بٹورتے  پھرو  کیونکہ ہم تو ہیں ہی  اس قابل ! 
لیکن آپ نے اُپنے پیشرو جنرلوں کو اس لحاظ سے پیچھے  چھوڑ دیا اور ہونا بھی چاہیے کہ آپ تو  دو دو نشان حیدر کے والی و وارث  ہو  اسلیئے تو آپ نے تو یہ کمال کرنا ہی تھا بلکہ اب تو اسکے عوض آپکو بھی نشان حیدر ملنا بنتا ہے!
 آپکو شاہد معلوم نہ ہو کہ کسی زمانے  یعنی  war on terror سے پہلے ان  قبایـلیوں کا دعوہ تھا کہ وہ اپنی خودداری اور غیرت پر کبھی  بھی  compromise نہیں کرتے یہی وجہ تھی کہ خیبر سے ساوتھ وزیرستان تک پانچ میلین کی ابادی میں ایک بھی بھکاری نہیں ملتا تھا۔ مگر آپ کی جراَت اور ہمت کو سلام کہ اپ نے قبائیلیوں کو بے گھر تو کیا ہی پر آپ نے سینکڑوں قبائیلی بچوں بوڑھوں کو کشکول تھما دیا یہ اور بات کہ آج بھی لاکھوں قبائیلی اپنے بل بوتے  پر روکھی سوکھی کھا کر یا عزیز رشتہ داروں  کے ہاں پناہ لے کر اپنی خودداری کا بھرم رکھے ہوئے ہیں ۔اپکو شاہد یقین آے  یا نہ آئے کہ قبائیلی کے لیے کشکول اُٹھانا اتنا ہی  زلت آمیز اور  اذیت ناک ہے جیسے   16  دسمبر  1971کو جرنیل نیازی کا جرنیل اروڑا کے سامنے سرنڈر کرنے پر قبائیلوں کو زلت کا احساس اور ازیت  ہونا یہ  ایک برابر تھا اور ہے۔ اج بھی جب کھبی بھول کر youtube پر وہ کلپ نظر آجا ئے تو آج بھی ہر پشتون خواہش کرتے ہیں کہ کاش پوری کی پوری  90 ہزار فوج شہید ہو جاتی پر تاریخ کا وہ شرمناک منظر ہم کو نہ دیکھاتی مگر یہ بات پاکستان کے دولت اور طاقت کے حرص میں مبتلا حکمرانوں کو اور مشرف جیسے کمانڈروں کو سمجھ نہیں آتی ۔ جو کراچی میں اپنی عوام کی لاشوں پر فخریا مُکے لہراتے  تھےاور کہیں اور تو جھنڈے لہرانے سے رہے لے دے کہ بلوچستان اور فاٹا میں جھنڈے لہرا کر اپنی  تسکین کر سکتے تھے  یا پھر ڈراموں اور فلموں کے زریعئے اپنی عظمتوں کی داستانیں بیان کرسکتے تھے میرا خیال میں جس طرح فوج نے پراپرٹی کا کاروبار میں ترقی کی ہے اگر وہ فلم پروڈکشن ھاوسز بھی کھول لیں تو زبردست کمائی ہوسکتی ہے۔
گزارش یہ ہے کہ ہمیں آپکی  یہ  بھیک  نہیں چاہیے جو آپ کے یہ نام نہاد حکمران IDPS کے نام  پر دنیا بھر سے کشکول میں لے کر آتے ہیں اور سب سے پہلے یہ اپنی جیب میں ڈالتے ہیں  کیونکہ یہی بھیککاری  تو اصل  حقدار ہیں۔
  اور جو بچ جائے  تو   DHA ، motorway,powerplants orange trains  بنانے کے کام میں لائیں ۔ لہذا ہمارے نام پہ مزید بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں اور دوسری بات یہ کہ مزید ہم  کو ہم وطنی کا فریب  دیںا بھی بند کریں ۔کیونکہ یہ آپکے پاکستان کے حق میں بھی بہتر ہے اور ہمارے صبر اور برداشت کے لیے بھی کافی ہے۔  بشرطیکہ  جنرل ٹیکہ خان کی طرح اپکو لوگ نہیں زمین چاہیے والا ارادہ رکھتے ہوں اور نتیجہ کیا نکلا  تھا نہ بنگالی ملے نہ بنگال ملا بلکہ دنیا کو ایک نیا ملک اور بنگالیوں کو بنگلہ دیش ملا۔
 
اُمید ہے کہ آپ وہ مُکہ لہرانے والے کمانڈر مسٹر پرویز مشرف کی طرح جو کسی شہنشاہ کی طرح  ساڑھے آٹھ سو کریمنل کے ساتھ  (این آر او )  کر کے  کہتا تھا کہ سب سے( پہلے پاکستان )جب کہ حقیقت میں تو سب سے پہلے تو اُسکی حکمرانی کی حرص اور زات تھی۔  لہذا  ایک سچے کمانڈر کی طرح ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ اب قبائیلوں کو اپنی مدد آپ کے تحت اپنے وطن جانیں دیں تاکہ وہ کسی اور جنرل کے   نئے کسی منصوبے کے لیے تازہ دم ہو سکیں،اب تک کہ لیے پاکستان آرمی کی اتنی کامیابیاں کافی ہے  دو ملین لوگوں کو بے گھر کیا،ہزاروں نوجوان لاپتہ ہوئے ،ہزاروں بچے بوڑھے،جوان  مرد و عورتیں شہید اور معذور ہوئے،قبائیلوں کو کشکول سے آشنا کیا، فاٹا میں خوب بارود بویا جو کہ زنگ آلود ہونے سے بچ گیا، اور قبائیلوں کو نت نئی بیماریوں میں مبتلا کرنے  کے کام آیا۔اور ان سب جانوروں کی قربانی سے ڈھیر سارا نام اور دام پاکستان بلکہ پنجابستان نے کمایا اب  جس  پر ایک درجن فلمیں ضرور بن جائینگی  جو کہ دنیا بھر میں پنجابستان کی آرمی کو صف اول کی فوج تسلیم کرا دینگی۔ 
 
    آپکا تابعدار جانور ایک قبائیلی
تحریرَ / زیب محسود 

Check Also

“کبھی کبھی انسان کے اپنے ہی فیصلے اس کی سمجھ سے پرے ہوتے ہیں؟”

  ہر انسان خود کو اتنا ذہین تو سمجھتا ہی ہے کہ وہ جو فیصلہ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: