سیل۔۔۔۔ سیل ۔۔۔ سیل

عمران عاکف خان

imran akif

ڈیگ گیٹ،گلپاڑہ،بھرتپور،راجستھان

انارکلی سے لے کر ثریا باغ تک اور نورجہاں آباد سے سلیم نگر تک پورے شہر پر سورج اپنی تمازت کا مظاہرہ کر رہا تھا ،گرمی کی شدت سے سناٹے کا عالم یہ تھا کہ سوئی گرے اور عالم بج اٹھے۔ایسے عالم میں اچانک ایک طرف سے نسوانی و مردانی آوازوں کے ملے جلے لاﺅ ڈ اسپیکر بجنے لگے۔

‘‘سیل۔۔۔ سیل۔۔ سیل آگئے۔۔۔۔آگئے۔۔۔۔ آگئے۔ ہم عابد بھائی کے پروڈکٹس لائے ہیں آپ کے ملک میں،آپ کے شہر میں ،آپ کے گاﺅں میں آپ کے محلے میں آپ کی گلی میں آپ کے آنگن میں بلکہ آپ کے گھر میں اب لیجیے سو روپے میں دو چادریں پانچ سو روپے میں دو گیس چولہے بچوں کے کھلونوں کے نئے برانڈ اور اشرفی مارکہ کپڑے نہایت سستے داموں میں۔۔۔’’ نسوانی آواز کے بعد مردانی آواز آئی۔۔۔۔‘‘اں جی !ہاں جی!ہم بڑی دور سے آئے ہیں اور آپ کے لیے اچھے اچھے۔۔۔۔۔۔ بازار سے سستے تحفے لائے ہیں۔۔۔۔۔۔ آیے ہماری گاڑی کے پاس اور اپنی پسند کی چیزیں لیجیے ایسا موقع بار بار نہیں آتا آیےآیے مال لُٹ رہا ہے آیے۔

اس کے بعد ڈھن چیک گانے بجنے لگے۔

گانوں کا دور ختم ہوتے ہی

‘‘اری سلیمن ! سنتی ہو میرا چولہے سے گیس لیک ہونے لگی ہے۔۔۔۔۔۔ میرا بیلن ٹوٹ رہا ہے اور چکلا تو ایک طرف سے جھڑ گیاہائے میں کیا کر وں ؟’’

‘‘اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے بہن علیمن،اپنی ہے نا عابد بھائی کی دکان۔۔۔۔ ایک ہی چھت کے نیچے سارا جہان ۔۔۔۔آج وہیں چلتے ہیں اور بازارسے سستے داموں میں اپنی من پسند چیزیں لاتے ہیں۔۔۔۔۔۔’’

ارے ہاں بہن سلیمن ! مجھے تو خیال ہی نہیں رہا واہ کیا دکان ہے عابد بھائی کی۔۔۔۔۔۔ آدمی ایک بار جائے تو بار بار جائے۔۔۔۔’’ ‘‘

‘‘ تو ہاں جی ! سنا آپ نے عابد بھائی کی دکان سب کی دکان ہماری دکان آپ کی دکان۔۔۔۔۔۔’’

سلیمن علیمن کا مکالمہ ختم ہونے سے پہلے ہی پس منظر سے ایک کھردری آواز آنے لگی اور پھر ڈھن چیک گانا۔ گلیمر کے یہ تمام رنگ ایک رہڑی سے جمائے جارہے تھے ۔

اس دھما چوکڑی اور زلزلہ باری سے کسی کو پرابلم تھی یا نہ تھی مگر بوا نسیمن کو ضرور تھی انھوں نے جیسے ہی یہ آوازیں سنیں، پہلے تو چاندی اترے بالوں میں ہاتھ پھیرا اورپھر آنکھوں کے آگے ہاتھ کا چھجہ بنا کر کھڑکی سے باہردیکھا ۔ رہڑی سے کی جانے والی گل کاریوں پر لکھنوی انداز میں ‘‘اونہہ’’کہا اور پھر۔۔۔۔‘‘موﺅں کوذرا شرم نہیں آتی۔۔۔۔۔ ایک تو اتّی گرمی میں شور مچا رہے ہیں اور وہ بھی ایک پنچر دوسرے بھرشٹ اور تیسرے خالی رم والے ٹائروں کی رہڑی پر۔۔۔۔ بھگا ﺅ ان نامرادوں کو۔۔ ’’ اور پھر خود ہی اپنی واک اسٹک ہوا میں لہرائی ۔ گو یہ الگ بات ہے کہ وہ ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر کھڑکی سے نیچے گر گئی۔ اب تو ان کا منہ تھا اور گالیو ں کا طوفان ،آنکھیں تو اوران سے ٹسوﺅں کا بہاﺅ،ناک تھی اور اس سے سُڑسُڑاہٹ ۔۔۔ سر تھااور اس میں کوسنے کے سودے بھرے ہوئے۔

دوسری طرف، جس محلے میں‘‘ عابد بھائی کی دکان —— آپ کی اپنی دکان’’کا اعلان کرنے والی رہڑی پہنچتی ،تماشائیوں کی بھیڑ لگ جاتی۔ عورتوں میں تو وہ بے پنا ہ مقبول ہو رہی تھی اور وہ بھی ساتھ ساتھ ‘‘سلیمن —- علیمن’’کے مکالمے دہرا دہرا کر وہاں آرہی تھیں ۔

شام تک اِس کونے سے اُس کونے ،یہاں سے وہاں اورایں جا و آں جاں سے گھوم پھر کر رہڑی‘‘جس دور جگہ سے آئی تھی، چلی گئی ، مگر اپنے پیچھے چند سوالات چھوڑ گئی ۔ جن کے جوابات کی تلاش مجھے اس طرح جس طرح نظیر اکبر آبادی کو ‘‘روٹیوں’’ کی تھی اور وہ چاند کو بھی ‘‘روٹی ’’ بنا کر دکھاتے تھے۔

1۔     گھریلو سامان اور خواتین کے ملبوسات کے سیل گر میوں میں ہی کیوں لگتی ہیں ؟

ہردوکان دار اور پھیری والا یہ کیوں کہتا کہ ”بازار سے بھی سستا“ پھر کس کی بات کو مانیں ہم؟      2۔

3۔   جب شہروں میں عظیم الشان شاپنگ پلازے،مارکٹیں اور بڑے بڑے مالس ہوتے ہیں پھر بھی ڈور ٹو ڈور سپلائی کیوں کی جاتی ہے؟

4۔   آخر جب مالی سال شروع ہوتا ہے تب ہی کیوںکمپنیوں کے مالکان کو رحم آتا ہے؟ اس سے پہلے وہ پورے سال جیبوں پر ڈاکے ڈالتے رہتے ہیں۔

5۔   نسیمن بواﺅں “جیسی بوڑھی بڑیوں کو تاﺅ دلانے کی کہیں یہ منصوبہ بند سازش تو نہیںہے؟

6۔    شاندار اور سُریلی آوازو ں کے پس منظر میں کھردری اور بھیانک آوازیں پلے کر نے کا کیا مقصد ہے؟یعنی پہلے کانوں میں رس گھولوپھر کھانے کو کر یلا وہ بھی نیم چڑھا۔

7۔   عذرا ،نغمہ ،ناہید اور صائمہ جیسے نئے ناموں کی جگہ یہ ”علیمن نسیمنوحیدن سلیمن “کہاں سے پھر آنے لگے؟

8۔    یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ ”عابد بھا ئی یا کسی بھی بھائی کی دکان آپ کی دکان“اگر ایسا ہے تو کاغذات کیوں نہیں دیے جاتے یا دکان کی آمدنی کا منافع کسے دیا جاتا ہے؟

9۔  جہاں پر امن ماحول ہوتا ہے اور امن دوست شہری رہتے ہیں وہیں کیوں اس طرح کی قیامتیں مچائی جاتی ہیں کہیں یہ دنیا کا امن غارت کر نے والی طاقتوں کی سازش تو نہیں اب گہری ہو یا اوپری۔

10۔   کہتے ہیں کہ عورتوں کو شاپنگ کر نے کا ڈھنگ نہیں آتا ،وہ  100کامال 200 میں خریدتی ہیں اور اپنی بُنای کڑھائی کی  300 روپے کی چیز 50 میں بیچ کر مگن رہتی ہیں اس کے باوجود رہڑی پٹڑیوں اور شاپنگ مارکٹوں میں ان کے ہی وجود سے رنگ جمارہتا ہے۔

ممکن ہے یہ تمام سوالات یاان میں سے کچھ غیر معقول ہوں مگر جب سوال ہے توجواب کا طالب تو ہوتا ہی لہٰذا سوالات کو شرمند ہ کر نے کے لیے جوابات دیجیے، اس سے جہاں شک کے کیڑے مریں گے وہیں اٹھنے والے سوالات اپنا سا منہ لے کر رہ جائیں گے۔بصورت دیگر آپ لاجواب ہوجائیں گے نیزجواب نہ دینے کی صورت میں آپ یہ ہر گز نہیں کہہ سکتے:

ہمارا پہلے ہی کب تھا جواب ہم اور لاجواب ہو گئے’’ ‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)