Breaking News
Home / ادب / طنز و مزاح / ایک نمکین غزل‎

ایک نمکین غزل‎

محفوظ رکھ خدا مرے شرم وحیا کے ہاتھ 
پِٹ جاﺅں میں کہیں نہ کسی دلربا کے ہاتھ
 
انگڑائی اُس نے لی وہ ادا سے اُٹھا کے ہاتھ 
دل چاہتا ہے چوم لوں جا کر خدا کے ہاتھ
 
واعظ بھی بھول جائے ہمیں پندو نصیحت 
دیکھے وہ ایک بار تو مہر انساءکے ہاتھ
 
آنکھوں میں اُس کی شوخیاں مت پوچھیئے جناب 
مہندی رچے وہ جب بھی ستائے ہلا کے ہاتھ
 
انداز ہ پھر تمہیں ہو پتنگے کے سوز کا 
تم بھی کبھی چراغ سے دیکھو جلا کے ہاتھ
خوشبو بہار کی مری سانسوں میں رچ گئی 
آیاہوں جب سے پھول بدن کو لگا کے ہاتھ
 
بخشالوی تم گل نہیں خارِ ببول ہو 
منہ پر وہ میرے کہہ گئی اُلٹا جما کے ہاتھ
 
گل بخشالوی 

Check Also

ساگ گردی کی خوفناکیاں

مجھے فخر ہے کہ ساگ گردی پر جب سب بات کرتے ہوئے ڈرتے تھے پہلی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: