ایک روح کو مسکراتے دیکھا….

زبیر حسن شیخ
آج کل وہ ریل، ٹیکسی اور بس اسٹاپ کے علاوہ لاری اڈوں، تفریحی، ثقافتی اور سماجی مجمع میں بھی روحوں کی تلاش میں نکل جاتا…ایک عرصہ وہ انسانوں میں زندگی گزار کر…. ان سے بات چیت کر…. انہیں سمجھ بوجھ کر اکتا سا گیا تھا اور جنگل کی سمت نکل گیا تھا….لیکن سب لا حاصل رہا….اسے اب جا کر احساس ہوا کہ اسے روحوں کے درمیان رہنا چاہیے اور ان سے کلام کرنا چاہیے….وہ کہانیاں سب جھوٹی ثابت ہوئیں کہ روحیں بیابانوں میں پائی جاتی ہیں.. وہاں دور دور تک روحوں کا کوئی اتا پتا نہ تھا…. وہ پھر شہر میں انسانوں کے جم غفیر کی طرف لوٹ آیا تھا…. روحوں میں رہنے .. انہیں سمجھنے… ان سے کلام کرنے..ان کا حال چال دریافت کرنے… وہ روزانہ شہر کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک صبح سے شام کرتا… گلی گلی گھو متا….سڑک سڑک چھانتا….روحوں کی تلاش میں نکل پڑتا…آج ریل میں وہ کھڑکی سے متصل نشست پر بیٹھا لوگوں کے اژدھام کو غور سے دیکھ رہا تھا…. مختلف چہروں مہروں پر، ہزاروں زبانوں اور لہجوں پر اور سینکڑوں عقائد پر مشتمل لوگوں کا اژدھام… اسکی نظریں ریل میں بیٹھے، ہلتے جلتے، اونگھتے لٹکتے، سمٹتے بکھرتے، کسمساتے سستاتے، گھورتے تکتے انسانوں کے چہروں پر گڑی تھیں…..وہ انکی کھلتی بند ہوتی آنکھوں کے ذریعے انکی روح تک پہنچ رہا تھا.. ان سے بات کر رہا تھا……پیاسی روحیں… ایکدوسرے سے ناراض… نرم و گداز، پاک و شفاف، کوئی زخم خوردہ تو کوئی شکست خوردہ… کوئی آلودہ تو کوئی پاکیزہ، کوئی مسرت زدہ تو کوئی غم زدہ، کوئی شب گزیدہ تو کوئی شبنم چشیدہ… سب کی سب ایک بچھڑے ہوئے مرکز کی تلاش میں سرگرداں…محسوس کیجیے تو اندر سے سب ایک جیسی، ایک ہی منبع سے نکلی، ایک ہی مرکز سے جڑی…. بظاہردیکھو تو ہر ایک چہرہ، ہر ایک جسم ،ہر ایک اعضا مختلف…. اور یہ سب اختلافات خالق حقیقی کی خلاقی اور اسکے منتہائے کمال و جلال کا منہ بولتا ثبوت تھے…. بن سوچے سمجھے سانس لیتے اجسام….کہیں روزگار کی تگ و دود میں بے نور آنکھیں….کہیں وقتیہ خوشیوں سے سرشار ہنستے لب اور کہیں بے وجہہ تبسم ریز چہرے….کہیں مادیت و صارفیت کے میدان میں ان دیکھے دشمن سے تنہا جنگ میں مصروف اجسام…….ایکدوسرے سے انجانے…. جانی انجانی منزل کی طرف گامزن … سب ساتھ ساتھ….. پھر بھی تنہا تنہا… خواہشوں کے مارے ….سفر سے تھکے ہارے… زندگی کے سفر سے…. روزگار کے سفر سے…. سوچ بچار کے سفر سے….. ذمہ داریوں کے انبار سینڈھال…..مشینی پرزوں کی طرح زنگ آلود……ایکدوسرے سے گھستے ہوئے…کہیں برقی قمقموں کی مانند جلتے بجھتے.. کہیں جلائے بجھائے جاتے…. کہیں اس چراغ کی مانند جو طوفانی ہواں کے مقابل زندہ رہنے کی کوشش میں مسلسل پھڑ پھڑا رہا ہو….. کچھ سمجھنا بوجھنا نہیں چاہتا… اتنی سکت ہی نہیں…. اسے بے شمار فکروں اور مسائل نے کچھ اسطرح گھیر رکھا ہے کہ سوچنے سمجھنے کی ساری قوت بھی جسمانی قوت کے ساتھ ختم ہوچکی ہے…..جیسے ہر کوئی اپنا اسٹیشن آنے تک اپنے جسم کو بے حس چھوڑ دینا چاہتا ہو….اپنے دل و دماغ کو بند کر دینا چاہتا ہو…. دنیا کے اکثر انسانوں کی طرح….. جنہیں سیاست نے، حکومت نے، سرمایہ داری نے، صارفیت نے، معیشت نے، مادیت نے، جھوٹے عقائد نے…. سب نے مل کر نڈھال کردیا ہے…دنیا کے ایسے اکثر اجسام یونہی نڈھال ہیں….وہ ایکدوسرے کی روحوں کی آواز نہیں سن پارہے….انکی تڑپ دیکھ نہیں پا رہے…. انہیں اس قدر تھکا دیا جاتا ہے کہ جاگنے اور سونے کے درمیانی وفعہ میں انکے اجسام قوت مجتمع نہیں کر پاتے کہ روحوں سے گفتگو کر سکیں…انکی پکار سن سکیں… ان کا درد سمجھ سکیں… حق کو جان سکیں..زخمی روحوں پر مرہم رکھ سکیں… حس لطیف کا استعمال کیا جائے تو محسوس ہو کہ سب کی روحیں ایکدوسرے کو جانتی ہیں..حس لطیف جو مفکر و ادیب اور ایک ادب پرور قاری کا خاصہ ہوتی ہے….

روحیں آپس میں باتیں کرتی ہیں…خاصکر جب لوگ اخلاص سے ایکدوسرے کی آنکھوں میں بغور جھانکتے ہیں…تب لمحوں میں روحیں ایکدوسرے کا درد بھی بانٹ لیتی ہیں….. گرچہ چہرے کے اعضا سے ابھرتے تاثرات روحوں کی گفتگو کا تحریری عکس پیش نہیں کر پاتے….ان تاثرات کو ایک عام قاری کی طرح پڑھا نہیں جاسکتا، لیکن انہیں محسوس کرنے اور انکی گفتگو سننے اور سمجھنے کے لئے کسی حساس ادیب یا شاعر یا ادب نواز قاری کو کوئی دقت نہیں ہوتی… .روحیں یہی کچھ کہتی ہیں کہ….. اجسام کا کیا ہے.. جان و مال کا کیا ہے… رہے رہے نہ رہے…زخمی اجسام کے شفایاب ہونے کے کچھ امکانات ہوتے ہیں…. لیکن روح کے زخم مندمل نہیں ہوپاتے…. رستے رہتے ہیں…جسم و جان کے پاس عقل ہے… وسائل ہے…. لیکن روحوں کے پاس ایسا کچھ بھی نہیں…..انہیں اپنا علاج خود کرنا ہوتا ہے…ایک روح ہی دوسری روح کا علاج کرسکتی ہے….یہ شدید زخمی ہوتی ہیں جب معصوموں کا قتل عام ہوتا ہے…. جب مظلوم کو انصاف نہیں ملتا.. جب انسانیت خون روتی ہے…جب اجسام بھوک سے تڑپتے ہیں… ٹھنڈ سے کپکپاتے ہیں.. عیش و نشاط میں عریاں ہوجاتے ہیں… جب جھوٹیعقائد سر پر سوار ہوکر انسانیت کو رسوا کرتے ہیں…..جب علم دنیا سے اٹھنے لگتا ہے اور تعلیم انسانیت کے لئے زہر بن جاتی ہے…جب مادی ترقی اخلاقی تنزلی کی طرف لے جاتی ہے….جب باطل متحد ہوجاتا ہے اور حق کو منتشر کر دیا جاتا ہے…جب مظلوم خود بھی ظلم پرآمادہ ہوجاتا ہے….روحیں ظالموں کے جسم میں مسلسل قیام نہیں کرپاتی…وہ جسم کی قید میں مضطرب ہوتی ہیں…. اپنے بچھڑے ہوئے منبع سے تعلق پیدا کرنے کے لئے…وہ تعلق جو آلودگی سے قطع ہوچکا ہوتا ہے…وہ تعلق جس میں بے اعتنائی کی دراڑیں پڑ چکی ہوتی ہیں… وہ تعلق جو خالص نہیں ہوتا… وہ تعلق جس میں وصال کی چاہ نہیں ہوتی …..روحیں اپنے آپ کو تماش بین سمجھتی ہیں جب اجسام کو جہل میں پلتے دیکھتی ہیں…جب باطل کو دنیا میں پنپتے دیکھتی ہیں…انہیں یہ احساس کھائے جاتا ہے کہ انہیں اجسام کی طرح بااختیار کر کے دنیا میں نہیں بھیجا گیا ہے….. انہیں یہ بھی احساس کھائے جاتا ہے کہ انہیں موت نہیں آتی کہ وہ بھی اجسام کی طرح درد سے نجات پاجائیں… وہ امر ہوتی ہیں…. وہ جسم کی طرح فانی نہیں ہوتی….. وہ اگر خستہ، بد حال، مجروح ہوجائیں تو یونہی رہتی ہیں…..انکا علاج صرف کسی دوسری روح سے ہی ممکن ہوتا ہے… کسی پاک روح سے…لیکن پاک روحیں اب عنقا ہو چلی ہیں، اس لئے روحوں کا علاج اب غیر ممکن ہوتا جارہا ہے…..

اجسام کی طرح روحیں منافق نہیں ہوتیں اور نہ ہی ظالم ہوتی ہیں، حق کو خوب جانتی ہیں… زندگی اور موت کو بہ آسانی دیکھ لیتی ہیں..زبان کی سازشوں سے لا علم اور آنکھوں کے فتنوں سے بے بہرہ ہوتی ہیں … عقل کی عیاریوں سے نابلد اور دل کی بیماریوں سے کوسوں دور ہوتی ہیں……اپنے خالق کی ناراضگی اور خوشنودی کو سمجھتی ہیں….اسکے احکامات کی سچائیوں کی معترف ہوتی ہیں….اسکی وحدانیت کی شہادت دیتی ہیں…..اجسام کی طرح انا اور خود غرضی اور خود فریبی کا شکار نہیں ہوتی روحیں….ایمان، ضمیر، اختیار، کی کار گزاری سے پوری طرح واقف ہوتی ہیں.. اخلاص، انکسار , درد، شکر، محبت، رحم جیسے جذبوں سے سرشار ہوتی ہیں…یہ جانتی ہیں کہ خالق حقیقی نے انسانی عقل کو روح سے پوری طرح متعارف نہیں کرایا ہے… روح کے متعلق بے شمار رازوں سے انسانوں کو آشنا نہیں کیا ہے….خالق حقیقی کو روح کے متعلق رازوں سے پردہ اٹھانا مقصود نہیں ہے…روح کے متعلق سوال نہیں پوچھے جاسکتے.. بس روح کو محسوس کیا جاتا ہے….انہیں زخمی ہونے سے بچانا ہوتا ہے… اور انکے زخم مندمل کرنا ہوتا ہے …. ابھی وہ روحوں کا حال چال دریافت کرنے میں مگن تھا کہ ریل کی سیٹی نے یہ سلسلہ منقطع کردیا…. یہ سیٹی کسی چھوٹے موٹے اسٹیشن کے گزرنے کی علامت تھی…اسٹیشن سے گزرتی ریل کی چنگھاڑ اور گڑگڑاہٹ نے ریل کے ڈبے کے سارے مسافروں کو انکی نیندوں سے، انکے خوابوں سے اور تصورات سے بیدار کردیا….. اکثر لوگ ایکدوسرے کا یونہی منہ تکنے لگے…ریل کے ڈبے کے کسی کونے سے ایک شیر خوار بچے کی قلقاری گونجی… ایک ماں اپنے شیر خوار بچے کو سینے سے لپٹائے کسمسائی، ڈبے پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے ماں نے اس شیر خوار کو اٹھا کر کاندھے سے لپٹالیا.. شیر خوار نے پھر ایک قلقاری بھری….اس بار قلقاری میں تشکر کی کھنک تھی… قلقاری جو شعور سے بے بہرہ.. جو پرکھ سے نا آشنا… جو احساسات سے ماورا… جسم اور اعضا کے عمل دخل سے کوسوں دور…..روح کے عمل دخل سے بلکل قریب تھی…..جیسے روح کا روح کو شکرانہ ادا کیا گیا ہو. اور اس میں کہیں کوئی جسم اور اعضا شامل نہ ہوں….اس نے شیر خوار کی آنکھوں میں بغور جھانکا اور روح کو مسکراتے پایا…. اسکی اپنی روح بھی مسکرانے لگی……

اپنا تبصرہ بھیجیں

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)