Home / ادب / شعرو ادب / جون ایلیا

جون ایلیا

عمر قاضی

ہم نوجوانی میں اس کا نام پڑھ کر اس پر فدا ہوگئے تھے۔ ہمیں لگا تھا کہ ’’جون ایلیا‘‘ کوئی خاتون ہے۔ مگر شاعری کا شعور اور اس شخص کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی تو ہم اس کے پرستار بن گئے۔ جب احمد فراز کی شاعری بہت مقبول تھی اس وقت جون ایلیا کی شاعری کو صرف باغی مزاج کے لوگ ہی پسند کرتے تھے۔ کیوں کہ عشق کے معاملے میں تو ہمیں احمد فراز کی ضرورت محسوس ہوا کرتی تھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ خود احمد فراز بھی فیض احمد فیض کے پرستار تھے مگر فیض کی شاعری میں خوبصورت خیال مشکل الفاظ میں محفوظ ہونے کی وجہ سے ہم ان کی شاعری سنا کر لڑکیوں کو متاثر نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے ہم نے احمد فراز کی آسان الفاظ والی بیحد رومانٹک شاعری کا انتخاب کیا ۔ اب جب یاد کرنے بیٹھتے ہیں تو ہمیں یونیورسٹی میں کوئی ایسی لڑکی یاد نہیں آتی جس کو احمد فراز کے چند اشعار یاد نہ ہو۔ احمد فراز نے خود بھی بہت معاشقے کیے اور ان کی شاعری کے معرفت بہت سارے لوگوں کو محبت میسر ہوئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی شاعری میں ایک دلکشی ہے۔

ایک ایسی کشش ہے جو ٹین ایجر لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے طرف کھینچتی ہے۔ اس لیے احمد فراز کو بہت زیادہ رونمائی نصیب ہوئی۔ اس کے پرستار صرف پاکستان میں نہیں بلکہ بیرون ملک بھی بہت تھے۔ انھیں باشعور حلقوں میں بڑی چاہ سے سنا جاتا تھا۔ اس نے عشق و محبت کے ساتھ ساتھ سیاسی حالات کو بھی منظوم کیا۔ ان کی نظم ’’محاصرہ‘‘ کون بھلا سکتا ہے؟ مگر احمد فراز کی زیادہ پسند کی جانے والی شاعری رومانوی ہی رہی۔ ان کی مشہور غزل :

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

اور اس غزل کا یہ شعر:

تو خدا ہے نہ میرا عشق فرشتوں جیسا

دنوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں؟

کیا اس قسم کی شاعری خوبصورت جال نہیں؟ اگر یہ شاعری جال جیسی نہ ہوتی تو اس میں خوبصورت لڑکیاں کیوں قید ہوتیں؟ فراز نے عمر کے ساتھ ساتھ سنجیدہ شاعری شروع نہیں کی۔ وہ آخر تک رومانوی رہے۔ آخری ایام کے دوراں ان کی یہ طویل غزل کتنی مقبول ہوئی تھی :

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کر دیکھتے ہیں

سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں

یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

اس غزل کے بہت سارے اشعار بیحد خوبصورت اور ناقابل فراموش ہیں۔

ایسی شاعری کے ہوتے ہوئے کسی اور شاعر کی شاعری اپنی جگہ کس طرح بنا سکتی تھی؟ مگر یہ جون ایلیا کا کمال تھا، اس کی شاعری نے اپنا مقام حاصل کرلیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان کا صرف نام نہیں بلکہ ان کا کلام بھی بہت الگ تھلگ تھا۔ جس طرح احمد فراز کی شاعری کو نئے نئے محبت کرنے والے پسند کرتے تھے اسی طرح جون ایلیا کی شاعری کو وہ لوگ محبت سے پڑھتے تھے جو معاشرے کی ہر چیز سے بغاوت کرتے تھے۔ عجیب بات تو یہ تھی کہ جون کی شاعری میں محبت سے بھی بغاوت نظر آتی ہے۔ جب وہ کہتے ہیں کہ:

بہت دل کو کشادہ کرلیا کیا؟

زمانے بھر سے وعدہ کرلیا کیا؟

تو ہمیں وہ خوبصورت لڑکیاں یاد آجاتی ہیں جو اپنے حسن کی سخاوت میں کنجوسی نہیں کرتی تھیں، اور جب ہم ان کا یہ شعر پڑھتے ہیں کہ:

بہت نزدیک آتی جارہی ہو

بچھڑنے کا ارادہ کرلیا کیا؟

تب ہمیں ان محبتوں کی کسک محسوس ہوتی ہے جو ہماری قریب تھیں اور پھر دور چلی گئیں!

جون ایلیا کی شاعری کو وہ نوجوان بہت پیار سے پڑھتے ہیں جو بہت ذہین ہوتے ہیں اور اپنی ذہانت اور اپنی باغی فطرت کی وجہ سے وہ اپنے گھروں اور خاندانوں میں ایڈجسٹ نہیں ہوسکتے۔ اس لیے وہ اپنے نوٹ بکس میں ان کی یہ اشعار اہمیت کے ساتھ نوٹ کرتے ہیں کہ:

یہ جو دیکھتا ہے آسمان میں تو

کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا؟

اور اسی غزل کا یہ شعر بھی بہت اہم ہے کہ:

اب کوئی مجھ کو ٹوکتا بھی نہیں

ایسا ہوتا ہے خاندان میں کیا؟

نہیں خاندانوں میں ایسا نہیں ہوتا مگر جو لوگ جون ایلیا جیسا مزاج رکھتے ہیں وہ خاندانوں میں تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

اور یہ بات بھی بیحد اہم ہے کہ جون ایلیا دو قسم کی زندگی جینے والے شخص اور شاعر نہ تھے۔ ایسا نہ تھا کہ وہ دوسروں کے بچوں کو بگاڑتا تھا اور خود بہت بنا سنورا پھرتا تھا۔ وہ خود بھی بہت منفرد اور باغی تھا۔ اس لیے اس کی شاعری اس کی شخصیت کا عکس محسوس ہوتی ہے۔ جب وہ کہتا ہے کہ:

شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی

لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں میں

وہ شاعر جس کے کلام میں اپنی ذات اور پوری کائنات کی تلخی تھی وہ صرف ایک بڑے دل والا شاعر نہ تھا بلکہ اس کو جاننے والے اس بات کو ماننے کے حوالے سے مجبور دیکھے جا سکتے ہیں کہ وہ ایک عظیم شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم دانشور بھی تھا۔ اس کا دماغ بھی بہت بڑا تھا۔ اس لیے اس نے جو کچھ نثر میں لکھا وہ بھی کمال کا تھا۔ مگران کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ساری عمر تنہا رہے۔ انھوں نے لابی تو کیا دوستوں کا مختصر حلقہ بھی نہیں بنایا۔ وہ اپنی زندگی میں ایسے ہی تھے جس طرح انھوں نے اپنی اس غزل میں لکھا ہے کہ:

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم

خاموشی سے ادا ہو رسم دوری

کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم

وفا، اخلاص، قربانی، محبت

اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم

ایسی تلخ نوائی تھی اس کی شاعری میں جس کی زندگی میں بھی تلخی تھی، جس کو سب چھوڑ گئے، کیوں کہ وہ مختلف اور منفرد تھے، وہ دوسرے جیسے نہیں تھے۔ انھوں نے زندگی اپنی مرضی سے گزاری۔ ان کو معلوم تھا کہ دنیا میں ترقی کیسی کی جاتی ہے۔ ان کو معلوم تھا کہ ترقی کے لیے ایک لابی کا ہونا ضروری ہے۔ مگر وہ انقلابی تھے۔ اس لیے ان کی کوئی لابی نہیں تھی۔ اگر ان کی کوئی لابی ہوتی تو گزشتہ دنوں ان کی برسی اتنی خاموشی سے نہ گزرتی۔ مگر سرکاری اور نجی سطح پر کوئی بڑی تقریب نہیں ہوئی۔ وہ شخص اپنے کلام کے علاوہ مرزا غالب کے کلام کو بہت پسند کرتا تھا۔ ان کی خاموشی سے گزر جانے والی برسی کے دن مجھے ایسا لگا کہ جیسے مرزا غالب نے اپنا یہ شعر صرف اپنے لیے نہیں بلکہ جون ایلیا کے لیے بھی لکھا ہے کہ:

غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں

روئیے زار زار کیا؟ کیجیے ہائے ہائے کیوں؟

یہ حقیقت ہے کہ جون ایلیا جیسے شاعر کی یاد نہ آنا اس شاعر کی نہیں بلکہ اس معاشرے کی بدقسمتی ہے جو معاشرہ اپنے معنی تیزی کے ساتھ کھو رہا ہے۔ وہ معاشرہ جو جون ایلیا کی شاعری کے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھنے کی ہمت نہیں کرسکتا وہ معاشرہ اس کی برسی کے موقعے پر اس کو یاد کرنے کی جرأت کا مظاہرہ کس طرح کرسکتا ہے؟

 

Check Also

………….میری بات بیچ میں‌رہ گئی

انتخاب عبدہ رحمانی شکاگو تیرے ارد گررد وہ شور تھا ، مری بات بیچ میں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: