غزل

تنہائیء شب قافلے یادوں کے رواں سے
تارے ہیں کہ بجھتے ہوئے قدموں کے نشاں سے
 
ہیں عمر ِ محبت میں وہی حاصل ِ ایام 
لمحے جو طبیعت پہ گزرتے ہیں گراں سے
 
اِک نالہء غم ناک کہ اک نغمہءسرشار
چھیڑوں میں بتا تارِ رگِ جاں کو کہاں سے
 
ہیں یاد وہ عہد ِ جنوں اس کی نگاہیں
اے جزبہء معصوم تجھے لاﺅں کہاں سے

     آصف رضا ( یو ایس اے) 
 
   

Check Also

بہت مصروف رہتے تھے

بہت مصروف رہتے تھے ہواؤں پر حکومت تھی تکبر تھا کہ طاقت تھی بلا کی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: