ناروے کی گلیاں

اوسلو سٹی چرچ مشن کے مطابق اوسلو میونسپلٹی کو ان لوگوں کی ذمہ داری لینی چاہیے جو بیروزگار ہیں۔ان میں سے اکثریت کا تعلق افریقی ممالک،اور جنوبی یورپ سے ہے۔یہ لوگ مالی بحران کے دوران اپنے ممالک سے روزگار کی خاطر یہاں ہجرت کر کے آگئے تھے مگر انہیں روزگار میسر نہ ہو سکا اور یہ لوگ اکثر اوسلو کی گلیوں میں بھوکے گھومتے رہتے ہیں۔یہ بات اوسلو میں چرچ سٹی مشن کے تحت چلانے والے ایک فوڈ اسٹیشن کے اہلکار نے مقامی اخبار آفتن پوستن کو بتائی۔یہاں ایسے بیروزگار افراد کا اضافہ ہو رہا ہے جنہیںخوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ان میں سے کئی افراد کے پاس ناروے کا لیگل ویزہ بھی ہے مگر ان کے کوئی حقوق نہیں ہیں۔جب یورپ کے باشندے یہاں آتے ہیں ملازمت کی تلاش میں تو ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے حقوق کی خود پاسداری کریں گے ۔لیکن ایسا نہیں ہوتا۔
دائیں بازو کے سوشل کائونسلر اوئی اسٹائن ایرکسن Øystein Eriksen Søreide (H)
کا کہنا ہے کہ ملازمت کی تلاش میں یورپ آنے والے افراد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنا خیال خود رکھیں اور اپنی ضروریات پوری کریں لیکن ایسا نہیں ہوتا۔
ایف اے ایف او کے جان کا کہنا ہے کہ ناروے کو بھی دیگر یورپین ممالک کی طرح ایسے لوگوں کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے ۔حکومت نہیں چاہتی کہ یہ لوگ ناروے کی گلیوں میںٹھٹھر کر مر جائیں ۔لیکن یہ لوگ اسطرح مفلسی کے ساتھ گھوم پھر کر کسی کی توجہ بھی نہیںحاصل کر سکتے۔
UFN NTB/

2 تبصرے “ناروے کی گلیاں

  1. AOA, Tanzila ,
    اسلا م و علئیکم تنزیلہ ،
    اسکا مطلب ہے کہ یہ لوگ پورے ملک میں شمالن جنوبن ہر سمت پھلیے ہوئے ہیں۔اللہ بچائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)