Home / ناروے / اوسلو میں غلامی آپریشن

اوسلو میں غلامی آپریشن

اوسلو میں پولیس آپریشن کے نتیجے میں لائم ریٹیل چین کے ملازمین سے دوران تفتیش کئی انکشافات ہوئے ہیں۔ جن میں سے یہ بھی ہے کہ ملازمین کو مقامی قوانین کے مطابق چھٹی نہیں دی جاتی تھی اور انہیں اوور ٹائم کی ادائیگی بھی نہیں کی جاتی تھی۔نارویجن اخبار وی جیVG کے مطابق مختلف ممالک کے کئی ملازمین کو پولیس کی تفتیش کے بعد متاثرین کا درجہ دیا گیا ہے۔
پولیس کے وکیل انجا Anja Perminow پیری مینو کے مطابق ان ملازمین کو جبری مزدوری کے لیے مجبور کیا گیا۔پولیس سنے اس سلسلے میں درجنوں افراد سے پوچھ گچھ کی جس کی تفصیلات جلد ہی غلامی آپریشن کے عنوان سے ظاہر کی جائیں گی بقول مزدور ٹریڈآرگنائیزیشن کے۔
ٹریڈ یونین کی سیکرٹری تھرینے لندine Tinnlund. r Tکے مطابق جس چیز نے مجھے سب سے پہلے پریشان کیا وہ تھا غلامانہ سلوک۔
جبکہ وکیل گرو وائلڈ ہاگن Gro Wild Hagen کے مطابق ملازمین کے کام کے اوقات غیر معمولی طویل تھے چھٹیاں نہ ہونے کے برابر تھیں اور انکی ذاتی انکم تک رسائی ناممکن یا بہت کم تھی۔
پولیس کے مطابق لچھ ملازمین کے پاس کریڈٹ کارڈ اورشناختی کارڈ بھی نہیں تھے۔
کمپنی کے ملازمین کے بیان کے مطابق کئی ملازمین اسی عمارت میں رہائش پذیر تھے جہاں یہ دوکان واقع ہے۔
Source/NTB/UFN

Check Also

آمد عیسیٰ ؑ و نوید مسیحاؐ

افکار تازہ آمد عیسیٰ ؑ و نوید مسیحاؐ عارف محمود کسانہ حسن اتفاق سے حضرت ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: