کونگس ونگر کے قیدی نسل پرستی سے پریشان

کونگسونگ جیل کے قیدیوں نے ایک سروے میں بتایا کہ وہ جیل میں نسل پرستی اور ترجیحی سلوک سے ہراساں ہیں۔یہ جیل سن دو ہزار بارہ میں غیر ملکی مجرموں کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔
یہ حقائق ایک مضمون میں تھامس او گل ویک Thomas Ugelvik نے درج کیے ہیں۔اس نے کہا کہ اس پرائیویٹ جیل کے قیدی یہاں پر خود کو نسل پرستی کا شکار سمجھتے ہیں۔
تھامس کرائم کے مضمون کے پروفیسر ہیں۔انہوں نے اس موضوع پر لکھا گیا تحقیقی مقالہ اوسلو یونیورسٹی میں اپنی ساتھی پروفیسر ڈورینا ڈامسا Dorina Damsa, کے ساتھ مل کرتر تیب دیا تھا۔
VG/UFN

اپنا تبصرہ بھیجیں