پانی اور چٹان

قسط نمبر سات
اردو فلک کے قارئین کے لیے دوبئی ے کی ادبی شخصیت اعجاز شاہین کاخاص تحفہ
نجمہ محمود کے ناول جنگل کی آواز سے منتخب کردہ افسانہ۔۔

پانی اور چٹان

میں اندر آسکتاہوں؟‘‘ کلیم مع اپنی دو پلیّ ٹوپی کے اندر تھا۔ وہ گھبراگئی۔ ’’سنیے آپ ہمیشہ بغیر اجازت کمرے میں دخل ہوتے ہیں بس پوچھا کہ آجاؤں اور اندر۔ ذرا باہر جاکر پھر سے پوچھئے اور اجازت مل جائے تب تشریف لائیں۔ سمجھے۔ جایئے باہر۔ یہ بہت ضروری ہے‘‘ وہ اپنے اس نئے طرزِ تخاطب پر خود حیران تھی۔

کلیم کھسیانی ہنسی ہنسا۔ پہلی بار اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ کسی فرمانبردار بچے کی طرح باہر نکل گیا پھر پوچھا۔
’’میں اندر آجاؤں؟‘‘
کچھ وقفے کے بعد جواب ملا۔
’’ آسکتے ہیں۔بیٹھ جائیں۔۔۔۔ اس نے ذرا تحکمانہ انداز سے کہا۔ دل ہی دل میں اسے ہنسی آرہی تھی۔وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔
’’ کہئے کیسے تشریف لائے؟‘‘
’’ ارے بس ویسے ہی آگیا سوچا تم سے مل لوں‘‘
’’ اور یہ ہر بات میں آپ ارے کیوں کہتے ہیں۔ اسی جملے کو پھر سے دہرائیے۔‘‘
’’ یونہی آگیا سوچاتم سے مل لوں‘‘
’’ خیریت ؟کسی سے بے مقصد ملنے سے فائدہ۔ کیوں مل لوں؟‘‘ اس نے استفسار کیا۔
’’ کیا مطلب؟ ‘‘ وہ بوکھلا یا۔
’’مطلب یہ کہ جب تک کچھ ایسی باتیں نہ ہوں جو دو لوگ ساتھ مل کرکر یں ان کے ملنے سے کیا فائدہ۔ وہ کیوں ملیں مثلاً آپ کا اور میرا موضوع گفتگو کیا ہوسکتا ہے؟‘‘
’’ با ت تو ٹھیک ہے پھر‘‘ ۔۔۔۔۔اس نے احمقوں کی طرح سوال کیا۔
’’ پھر یہ کہ آپ آج سے انگریزی الفاظ استعمال نہ کیا کریں اس لئے کہ مجھے ویسے ہی معلوم ہے کہ آپ کو انگریزی آتی ہے‘‘
’’ ہائیں۔ ‘‘ اس نے آنکھیں پھیلائیں’’ مجھ کو انگریزی آتی ہے؟

’’ اور نہیں توکیا ۔ ویسے ہی اتنے بہت سے انگریزی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں اور فرض کیجیے زیادہ نہیں آتی تو آجائے گی۔‘‘
’’وہ کیسے‘‘؟ وہ مجسّم سوال بن گیا۔
’’ وہ ایسے کہ ابّو سے کہوں گی کہ وہ آپ کو پڑھائیں اور میں خود بھی پڑھاؤں گی۔۔۔۔‘
’’ تم بھی؟‘‘
’’ کیوں بڑی حیرت ہورہی ہے کیا؟‘‘ شاہینہ خوش ہو رہی تھی کچی لکڑی ہے جس طرف چاہو موڑلو۔ ‘‘ اُسے اپنے بدلے ہوئے رویّہ پر حیرت ہورہی تھی۔
’’ آج سے پڑھائی شروع۔چلیے یہ کتاب شروع کیجیے ‘‘ وہ انگریزی کے آسان مضامین کا مجموعہ شیلف سے نکال لائی۔
’’ شروع کیجیے بسم اﷲ کہہ کر‘‘ اس نے ایک مضمون پہلے خود پڑھنا شروع کیا اس کے بعد کلیم سے پڑھوایا جس کو اس نے اٹک اٹک کر پڑھا۔ وہ خوش ہورہی تھی طالب علم اچھا جارہا ہے۔ یہ خوشخبری وہ ابّو کو سنائے گی اور پھر ان سے کہے گی کہ وہ بھی اُسے پڑھائیں۔ یعنی گھر میں مکتب کی ابتدا۔ ساتھ ہی سلمہ اور رحیمہ کی بھی تعلیم و تربیت کی جائے۔ یوں ایک ماحول بنے گا۔
اس دن سے روزانہ معمول ہوگیا کہ کلیم مع اپنی بہنوں کے شام کو آجاتا۔دو گھنٹے تک پڑھا ئی کا دور چلتا رہا۔ نعیمہ بیگم سخت حیران تھیں کہ شاہینہ کی یہ کایا پلٹ کیسے ہوگئی کہاں تو وہ ان لوگوں سے سیدھے منھ بات نہ کرتی تھی کہاں یہ سب۔ کلیم سے شادی سے وہ انکار کرچکی تھی۔ خیر کیا ہے بھائی بہن ہیں۔ بہلی رہے اچھا ہے ویسے تو بس رویا کرتی تھی۔ اس کے ابو بھی حیران تھے۔ بیگم کے ذریعہ ان کو شاہینہ کے شادی سے انکار کی اطلاع مل چکی تھی اور وہ اس کے فیصلہ سے خوش بھی تھے۔ مگر اب یہ سب کیا۔ خیر چلو اچھا ہے مصروف رہے گی۔ انہوں نے سوچا کہ جو کام ان کی بیٹی کر رہی ہے وہ در اصل ان کو کرنا چاہیے تھا۔ یعنی کلیم اور اس کی بہنوں کی تعلیم و تربیت کہ جو اگر انہوں نے یہ کام کر لیا ہوتا تو شاہینہ اس شادی سے انکار نہ کرتی نہ ہی ان کوخود شادی پر اعتراض ہوتا۔خیرکوئی بات نہیں الہٰ آباد والے لڑکے کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے۔
’’ ابو اقبال کی خضرِراہ آپ نے پڑھادی کلیم کو۔‘‘ شاہینہ ان کے پاس والی کرسی پر بیٹھ کر بولی،
’’ ہاں بیٹی۔۔۔ پڑھا تو دی ہے لیکن وہ اسے ٹھیک سے ابھی سمجھ نہیں پارہا ہے۔‘‘
کچھ تو ذوق کی تربیت ہوگی ہاں سلمہ اور رحیمہ۔۔۔۔؟
’’وہ بھی اچھی خاصی چل رہی ہیں۔ ویسے یہ تمہاری مہم مجھے پسند آئی۔‘‘ وہ مسکرائے اور پھر کچھ کہتے کہتے رک گئے وہ پوچھنا چاہتے تھے کہ ایسا شاید وہ اپنی تنہائی کو دور کرنے کے لئے کر رہی ہے وہ مطمئن ہوگئے۔ اچھا ہے اکثر بور ہوا کرتی تھی۔ اتنے میں سلمہ اور رحیمہ آگئیں۔
’’ شاہینہ باجی ہم نے جیلانی بانو کی کہانیاں پڑھ لیں‘‘ فصلِ گل جو یاد آئی‘‘ بہت اچھی لگی۔‘‘ رحیمہ نے بہت قاعدے سے کہا۔
’’ بہت خوب وہ کہانی آج تم مجھ کو سناؤگی۔ کلیم کہاں ہیں؟‘‘
’’ وہ آج تجارت کے سلسلے میں کانپور گئے ہیں ان کا آ ج کا سبق گول ۔‘‘ سلمہ نے کہا۔
’’ کوئی بات نہیں کل دو گنی محنت کرنی پڑے گی۔چلو کمرے میں، میں ابھی آئی۔‘‘ ابو ایسا کریں کل شیکسپیئر کے خاص خاص ڈراموں کا آسان انگریزی میں خلاصہ لکھ کر کلیم کو دے دیں۔‘‘
کمرے میں پہنچ کر اس نے سلمہ سے جیلانی بانو کی کہانی سنی یہ اس کی پسندیدہ کہانی تھی۔ ۔۔۔۔ سن کر خوش ہوئی۔ طالبہ اچھی جارہی ہے۔’’ بہت خوب‘‘
’’اس نے شیلف سے ’’ سفینۂ غم دل ‘‘ نکال کر اسے دی اور کہا۔
’’اسے باری باری پڑھو یا مل کر پڑھو اور جو رائے ہو وہ لکھو اور ہاں دیکھو اپنے بھائی جان سے کہنا کہ فلمی ایکٹرسوں کے سارے کیلنڈر کمرے سے باہر کردیں۔۔۔۔‘‘
اچھا شاہینہ باجی ‘‘ بڑی فرمانبرداری سے دونوں نے کہا۔ کتابیں لے کر خوشی خوشی کمرے سے نکلیں اسی وقت کلیم نظر آیا وہ ابھی واپس ہوا تھا۔

’’ سب خیریت ہے؟ اس کے لہجے میں خود اعتمادی تھی۔ سرپر دوپلّی ٹوپی اس وقت نہیں تھی۔ اسکا حلیہ ہی دوسرا لگ رہا تھا۔ اسی لمحہ نہ جانے کیوں اے احساس ہوا کہ سر اگر ڈھکارہے تو کیا ہرج ہے انگریز تو کیامرد کیا عورتیں سب ہیٹ لگاتے ہیں۔ اکثر سننے میں بھی آیا ہے کہ سر ڈھکے رہو ورنہ شیطان چپتیں مارتا ہے۔ لڑکیوں کو تو عموماً سر ڈھکے رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ کیا ہرج تھا جو یہ بے چارہ سر ڈھکے رہتا تھا۔ اسلامی طریقہ بھی ہے۔
ٹوپی کہاں ہے‘‘؟ وہ اچانک استفسار کر بیٹھی۔ کلیم بُری طرح بوکھلا گیا۔ خودہی ٹوپی اتروائی اور اب ٹوپی کو پوچھ رہی ہیں نہ جانے کیسی استانی ہیں بھئی یہ۔۔۔۔ بدحواس سا ہو کر بولا۔
’’آج ہی تونہیں لگائی ہے بس۔‘‘ استاد کی شان میں یہ کہہ کر بے ادبی کیسے کرتا کہ خود ہی تواتروائی ہے۔
’’ کل سے پڑھتے وقت ٹوپی لگانی لازم ہے‘‘ اس نے ٹیچرانہ رعب سے کہا۔ کلیم نے فوراًجیب سے ٹوپی نکال کر سرپر پہن لی۔
’’ آپ کا سبق تجارت کے چکر میں گول ہوگیا۔ کل ڈبل محنت کرنی پڑے گی۔ لیجیے یہ کتاب اور اس میں ’’ ڈولز ہاؤس پڑھ ڈالیے۔ کل اس پر بحث ہوگی‘‘
’’ ٹھیک ‘‘کلیم نے فرمانبرداری سے کہا۔
’’ ہاں ایک بات سنیں‘‘ اور اس نے ہمت جمع کرکے وہ سوال پوچھ ہی لیا جو کئی دن سے وہ پوچھنا چاہ رہی تھی۔
’’ آپ کو معلوم ہے آپ سے شادی سے میں انکار کرچکی ہوں۔۔ یعنی امّی ابوّ کو علم ہے‘‘۔
’’ کیا۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔ ؟ وہ حیران ہو گیا۔۔۔۔
’’ یہی کہ آپ میرے معیار پر پورے نہیں اترے تھے چنانچہ میں نے آپ سے شادی سے انکار کردیا‘‘۔
’’ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ سراسیمہ ہوگیا۔۔۔۔ وہپچپن کی منگنی۔۔۔۔۔۔وہ خاندان کی روایات۔۔۔۔ وہ امّی کی وصیت۔۔۔۔ اور پھر میں نے تم کو اپنا ہی۔۔۔۔۔۔میرا مطلب۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ ان سب باتوں کا تو میری مرضی کے آگے قطعاً کوئی دخل نہیں۔ میں جو چاہوں گی وہی ہوگا۔۔۔۔۔ ہاں ایک صورت ہے کہ جو میں کہوں وہ آپ کرتے جائیں اگر آپ نے خود کو میری مرضی کے مطابق بنالیا تو ٹھیک ہے ورنہ ہمارے راستے الگ تو ہیں ہی۔‘‘
’’ نہیں شاہینہ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ کیامیں وہ سب نہیں کررہا ہوں جو تم چاہتی ہو۔۔۔۔ ویسے مجھے کبھی کبھی یہ اچھا نہیں لگتا کہ مرد ہوکر میں اتنا کہنا مانوں۔۔۔۔۔ لیکن میں سب کچھ کرسکتاہوں‘‘
’’ دیکھیے صاحب یہ مردانگی والی بات ہرگز نہیں چلے گی۔ صحیح بات پر کسی کا کہنا ماننے سے مردانگی میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔‘‘
’’ وہ تو ٹھیک ہے پھر بھی شرم۔۔۔۔۔‘

جاری ہے۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں