Warning: Undefined array key "geoplugin_countryName" in /customers/d/7/4/urdufalak.net/httpd.www/urdu/wp-content/plugins/stylo-core/stylo-core.php on line 96

وہ 8 باتیں جو بچوں کے سامنے کبھی نہیں کرنی چاہئیں، ماہرِ نفسیات نے خبردار کردیا

وہ 8 باتیں جو بچوں کے سامنے کبھی نہیں کرنی چاہئیں، ماہرِ نفسیات نے خبردار کردیا

 کچھ ایسے فقرے بھی ہوتے ہیں جو ماں باپ اپنے بچوں سے بولیں تو ان کی پرورش پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اب ایک ماہر نفسیات نے ایسی آٹھ باتیں بتا دی ہیں جو والدین کو ہرگز اپنے بچوں سے نہیں کہنی چاہئیں۔

دی سن کے مطابق اینجلا کیرانجا نامی اس ماہرنفسیات خاتون کا کہنا ہے کہ بچوں کے سامنے اپنے شریک حیات، سابق شریک حیات یا فیملی کے لوگوں کے بارے میں منفی باتیں کبھی مت کریں۔ اس سے بچے میں ایک اندرونی تقسیم پیدا ہو گی اور اس کی شخصیت شکست و ریخت کا شکار ہو جائے گی، کیونکہ ایسی باتوں کے ذریعے آپ بچے میں نفرت کا زہر بھر رہے ہوتے ہیں جو انجام کا خود اسی کے لیے نقصان کا سبب بنتا ہے۔

اینجلا کیرانجا کا کہنا تھا کہ ”اپنے بچوں سے بلوغت کے ساتھ آنے والے مسائل کے بارے میں باتیں مت کریں اور انہیں ان مسائل سے مت ڈرائیں۔ انہیں رقم، روزگار، امراض اور دیگر ایسے عوامل سے خوفزدہ مت کریں جن سے انہیں بالغ ہونے کے بعد واسطہ پڑنا ہے۔اس کے علاوہ بچوں کے سامنے اپنے آپ کے بارے میں بھی منفی فقرے مت بولیں۔ بعض والدین اپنے بچوں کے سامنے اپنے آپ کو کوسنے دیتے ہیں کہ ’میں ایک ناکام شخص ہوں، میں کچھ بھی ٹھیک نہیں کر سکتا، میں موٹا ہو، میں بدصورت ہوں، وغیرہ‘ بچے اپنے ماں باپ کو اپنے لیے ایک لیڈر اور رول ماڈل خیال کرتے ہیں، چنانچہ ماں باپ کو ان پر مثبت انداز میں اثرانداز ہونا چاہیے۔“

اینجلا کا کہنا تھاکہ”بعض ماں باپ کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بچے کے سامنے اس کے وجود پر پچھتاوے کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ ”تمہیں تو پیدا ہی نہیں ہونا چاہیے تھا“ یا ” تمہارے پیدا ہونے سے تو ہم بے اولاد ہی اچھے تھے“ وغیرہ جیسے فقرے بولتے ہیں۔ ایسے فقرے بچوں کی ذہنی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس سے ان میں خود اعتمادی کا فقدان ہوتا ہے اور وہ ذاتی شناخت کے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔کچھ والدین بچوں کو ہر بات سکھانے کے خواہش مند ہوتے ہیں، وہ انہیں یہ بھی سکھانا چاہتے ہیں کہ انہیں کس چیز کے بارے میں کیسا محسوس کرنا چاہیے۔ یہ روش بچوں کی پرورش کے حوالے سے بہت خطرناک ہوتی ہے۔ بچے کو کب اور کس بات پر مسکرانا ہے، کب اور کس چیز پر دُکھی ہونا ہے، ایسی چیزیں آپ بچے پر چھوڑ دیں اور ان میں اس پر حکم مت چلائیں۔“

اینجلا بتاتی ہے کہ ”اس کے علاوہ اپنے بچے کا دوسرے بچوں کے ساتھ موازنہ کرنا، دوسرے بچوں سے انہیں کمتر قرار دینا، لڑکے کبھی نہیں روتے اور اچھی لڑکیاں خاموش رہتی ہیں جیسی گھسی پٹی پٹیاں پڑھانا اور بچے کے سامنے اپنی یا دوسروں کی شکل و صورت اور وزن کے حوالے سے منفی باتیں کرنا بھی بچے کی شخصیت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ بچے کی کبھی حد سے زیادہ تعریف بھی نہیں کرنی چاہیے۔ جب آپ اسے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ’تم پرفیکٹ ہو‘ تو آپ ایک ایسا ماحول پیدا کر رہے ہوتے ہو جس میں بچے کی بڑھوتری نہیں ہو پاتی اور وہ مزید اچھا کرنے اور مزید سیکھنے کی خو کھو دیتا ہے۔ ان تمام باتوں کے علاوہ بچے کے ساتھ کسی بھی بات پر طویل تکرار نہیں کرنی چاہیے۔ بحث اور عدم اتفاق بچے کے لیے اچھے ہوتے ہیں لیکن بحث کو تکرار کی شکل اختیار نہیں کرنی چاہیے اور اس کا نتیجہ تصادم نہیں ہونا چاہیے، بلکہ بچوں کے ساتھ ایک نتیجہ خیز بحث کرنی چاہیے۔“

اپنا تبصرہ بھیجیں