مصحف

انتخاب راحیلہ ساجد

نمرہ احمد کا مشہور ناول

قسط نمبر 33۔

ہسپتال کا ٹائلز سے چمکتا کاریڈور خاموش پڑا تها- کاریڈور کے اختتام پہ وہ بنچ پہ سر جهکائے بیٹهی تهی- محمل جو دوڑتی ہوئی ادهر آ رہی تهی، اسے بیٹهے دیکھ کر لمحے بهر کو ٹهٹکی رکی، پهر بهاگتی ہوئی اس کے قریب آئی-
” فرشتے، فرشتے-”
فرشتے نے ہاتهوں میں گرا سر اٹهایا- ” وہ کیسا ہے محمل؟” محمل اس کے سامنے پنجوں کے بل بیٹهی اور دونوں ہاتھ اس کے گهٹنوں پہ رکهے-
” بتائیں نا، وہ کیسا ہے؟” وہ بےقراری سے اس کی سنہری آنکهوں میں دیکهتی، جواب تلاش کر رہی تهی-
” ٹهیک ہے- زخم زیادہ گہرا نہیں ہے-” وہ بهی محمل کی بهوری آنکهوں میں کچھ تلاش کر رہی تهی-
” میں اس سے مل سکتی ہوں؟”
” ابهی وہ ہوش میں نہیں ہے-”
” کیوں ؟” وہ تڑپ کر بولی تهی، وہ فجر کا وقت تها، اور جیسے ہی فرشتے نے اسے اطلاع دی تهی- وہ بهاگتی ہوئی آئی تهی-
” ڈاکٹرز نے خود اسے سلا رکها ہے- وہ ٹهیک ہو جائے گا محمل! تم پریشان نہ ہو-”
” میں کیسے پریشان نہ ہوں؟ میں نے ان کو چهری ماری ہے- میں-”
” ایسا کیا ہوا تها محمل؟ تم نے ایسا کیوں کیا؟”
” میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا- میں ان سے پوچهنے گئی تهی کہ-” وہ لب کچلتی ڈبڈبائی آنکهوں سے کہتی چلی گئی- فرشتے اسی تهکے تهکے انداز میں اسے دیکھ رہی تهی-
” تم مجھ سے پوچھ لیتیں محمل! اس کو….. خیر چهوڑو کوئی بات نہیں-“چند لمحے یونہی سرک گئے- وہ اسی طرح فرشتے کے سامنے فرش پہ دوزانو بیٹهی تهی- اس کے ہاتھ ابهی تک فرشتے کے گهٹنوں پہ تهے- بہت دیر بعد اس نے خاموشی کو چیرا-
” آپ نے کہا، آپ آغاابراہیم کی بیٹی ہیں؟”
” ہاں- میں آغاابراہیم کی بیٹی ہوں-”
” میرے ابا کی؟” اس کا گلا رندھ گیا-
” تمہیں یہ بات انہونی کیوں لگتی ہے؟ سوائے تمہارے سب بڑوں کو علم ہے- تمہاری امی کو بهی-”
“امی کو بهی؟” اسے جهٹکا لگا تها-
ہاں- ابا مجھ سے ملتے تهے- میری امی ان کی فرسٹ وائف تهیں، ڈائیورس کے بعد امی اور ابا الگ ہوگئے تهے، پهر انہوں نے تمہاری امی سے شادی کی- دونوں انکی پسند کی شادیاں تهیں، ہے نا عجیب بات؟ خیر مجھ سے وہ ہر ویک اینڈ پہ ملنے آتے تهے، میں اپنے چچاؤں سے متعارف تو نہ تهی، مگر وہ سب جانتے تهے کہ میں کون ہوں، کدهر رہتی ہوں- مگر ابا کی ڈیتھ کے بعد انہوں نے مجهے تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا- میں بہت دفعہ اپنا حق مانگنے گئی، مگر وہ نہیں دیتے- ابا کی پہلی شادی خفیہ تهی، سوائے ہمارے بڑوں کے ، خاندان میں کسی کو بهی علم نہ تها- تم سے بهی چهپا کر رکها گیا کہ کہیں تم میرے ساتھ مل کر حصہ مانگنے نہ کهڑی ہو جاؤ-”
آپ نے کیس کیوں نہیں کیا ان پہ؟ بہت دیر بعد وہ بول پائی تهی-
” مجهے جائیداد سے حق نہیں ، رشتوں سے حق چاہئے محمل! میں بہت دفعہ تمہارے گهر پہ گئی ہوں، مگر اندر داخلہ- خیر، یہ لمبی کہانی ہے میں کئی برسوں سے اپنے حق کی جنگ لڑ رہی ہوں- وارث اللہ نے بنائے ہیں، میں ابا کی وارث ہوں- یہ ہی سوچ کر میں اب جائیداد میں سے حصہ مانگتی ہوں مگر….” وہ بات ادهوری چهوڑ گئی-.
” آپ کو پتا تها میں آپ کے بارے میں نہیں جانتی ،”
” ہاں، مجهے پتا تها- میں نے جب بهی تم سے ملنے کی کوشش کی، کریم تایا نے یہی کہہ کر روک دیا کہ محمل ذہنی طور پہ ڈسٹرب ہو جائے گی، اور ابا سے نفرت کرے گی، پهر میں نے صبر کر لیا- میں جانتی تهی جو رب بن یامین کو یوسف علیہ السلام کے پاس لا سکتا ہے، وہ محمل کو بهی میرے پاس لے آئے گا-” وہ ہلکا سا مسکرائی تهی- محمل کو لگا اس کی سنہری آنکهیں بهیگنے لگی تهیں-
” فواد بهائی، ان کا کیس؟”
” ہمایوں نے مجهے بتایا تهاکہ میرے کزن فواد نے اس کے ساتھ کسی لڑکی محمل کا معاملہ طے کیا ہے- کم عمر ہے اور خوبصورت بهی- میرا دل تب ہی سے کهٹک گیا تها- مگر ہمایوں ماننے کو تیار ہی نہ تها کہ فواد تمہارے ساتھ یہ کر سکتا ہے- اسے گمان تها، وہ کوئی اور لڑکی ہو گی- مگر جس لمحے میں نے مسجد کی چهت پہ تمہیں دیکها تها، میں تمہیں پہچان گئی تهی-”
” آپ نے تو مجهے کبهی نہیں دیکها تها، پهر؟”
” دیکها تها، ایک دفعہ تمہارے اسکول آئی تهی تم سے ملنے- بنچ پہ بیٹهی تمہیں دیکهتی ہی رہی، تم الجهی الجهی چڑ چڑی سی لگ رہی تهیں، پهر مجھ سے مزید تمہیں ذہنی اذیت نہیں دی گئی، سو واپس پلٹ گئی-”
فرشتے تهک کر چپ ہو گئی، شاید اس کے پاس کہنے کو اب کچھ نہ بچا تها- وہ یاسیت سے اسے دیکهے گئی جو بہت تهکی تهکی نظر آ رہی تهی- بہت دیر بعد اس نے پهر لب کهولے-
” تم خوش قسمت ہو محمل! تم رشتوں کے درمیان میں رہی ہو- تم یتیم نہیں رہی ہو- یتیموں والی زندگی تو میں نے گزاری ہے- اس کے باوجود کبهی میں نے یتیمی کا لیبل خود پہ نہیں لگایا- میری خالہ اور ہمایوں…. یہ ہی تهے میرے رشتے اور میرے پاس کهونے کو مزید رشتے نہیں بچے، ایک چیز مانگوں تم سے؟ کبهی مجهے اس آزمائش میں مت ڈالنا، میں مزید رشتے کهونا۔۔۔۔۔۔-”
” اے ایس پی صاحب کے ساتھ آپ ہیں؟” آواز پہ ان دونوں نے چونک کر سر اٹهایا- سامنے یونیفارم میں ملبوس نرس کهڑی تهی-
“جی-” محمل اس کے گهٹنوں سے ہاتھ ہٹاتی بے چینی سے اٹهی-
” ان کو ہوش آ گیا ہے، اب خطرے سے باہر ہیں، آپ ان کی؟”
” میں….. میں ان کی فرینڈ ہوں-” اس نے جلدی سے فرشتے کی طرف اشارہ کر کے بتایا- ” یہ ہمایوں صاحب کی بہن ہیں-”
” بہن؟” اس نے چونک کر محمل کو دیکها، مگر وہ نرس کی طرف متوجہ تهی-” بہن؟” وہ ہولے سے زیر لب بڑبڑائی- پهر ہلکا سا نفی میں سر ہلایا- وہ کچھ کہنا چاہتی تهی، مگر محمل نرس کے پیچهے جا رہی تهی- اس نے کچھ بهی نہ سنا-
وہ خالی ہاتھ بیٹهی رہ گئی- اس کی سنہری آنکهوں میں شام اتر آئی تهی، محمل وہ شام نہ دیکھ سکی تهی- وہ دروازہ کهول کر ہمایوں کے کمرے میں داخل ہو رہی تهی-
وہ بیڈ پہ آنکهیں موندے لیٹا تها، اوپر چادر پڑی تهی- آہٹ پہ قدرے نقاہت سے آنکهیں کهولیں- اسے دیکھ کر حیران رہ گیا-
” محمل!”
وہ چهوٹے چهوٹے قدم اٹهاتی اس کے سامنے جا رکی-
بهورے سلکی بالوں کی اونچی پونی ٹیل بنائے فیروزی شلوار قمیص میں ہم رنگ دوپٹہ شانوں پہ پهیلائے وہ بهیگی آنکهوں سے اسے دیکھ رہی تهی-
” آئی ایم سوری، ہمایوں-” آنسو آنکهوں سے پهسل پڑے تهے- وہ بدقت مسکرایا-
” ادهر آؤ-”
وہ چند قدم آگے بڑهی-
” اتنی غصے میں کیوں تهیں؟”
” مجهے معاف کر دیں پلیز-” اس نے بےاختیاد دونوں ہاتھ جوڑ دیے- ہمایوں نے بایاں ہاتھ اٹهایااور اس کے بندهے ہوئے ہاتهوں کو تهام لیا-
” تم نے کیوں کہا، تمہیں مجھ سے کوئی امید نہیں؟”
” تو کیا رکهتی؟” اس کے دونوں ہاتھ اور ہمایوں کا ہاتھ اوپر تلے ایک دوسرے میں بند ہو گئے تهے-
” تمہیں لگتا ہے، میں بیچ راہ میں چهوڑ دینے والوں میں سے ہوں؟”
” کیا نہیں ہیں؟” آنسو اسی طرح اس کی آنکهوں سے ابل رہے تهے-
” کیوں اتنی بدگمان رہتی ہو مجھ سے؟”
” بدگمان تو نہیں، بس…”
” پهر چهری کیوں لائی تهیں؟ تمہیں لگتا تها تم میرے گهر غیر محفوظ ہو گی؟” وہ نرمی سے کہہ رہا تها-
” آپ مجهے معاف کر دیں پلیز، آپ نے معاف کر دیا تو اللہ بهی مجهے معاف کر دےگا-”
يہ کہہ کر وہ لمحے بهر کو خود بهی چونک گئی- آخری فقرہ ادا کرتے ہوئے دل میں عجیب سا احساس ہوا تها – ایک دم اس نے اپنے ہاتھ چهڑائے تهے، یہ اب ٹهیک نہیں تها-
” آپ آرام کریں، مجهے مدرسے بهی جانا ہے- ” وہ دروازے کی طرف لپکی تهی-
” مت جاؤ-” وہ بے اختیار پکار اٹها تها-
میں گهر سے مدرسے کا کہہ کر نکلی تهی، اگر نہ گئی تو خیانت ہو گی اور پل صراط پہ خیانت کے کانٹے ہونگے، مجهے وہ پل.پار کرنا ہے-
” تهوڑی دیر رک جاؤ گی تو کیا ہو جأئےگا؟” وہ جهنجهلایا تها-
” یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے اور…..”
“ٹهیک ہے، ٹهیک ہے مادام، آپ جا سکتی ہیں-”
وہ مسکراہٹ دبا کر بولا تو اسے لگا’ وہ کچھ زیادہ ہی بول گئی ہے-
” سوری-” ایک لفظ کہہ کر وہ دروازہ کهول کر باہر نکل آئی-
فرشتے اسی طرح بنچ پہ بیٹهی تهی، آہٹ پر سر اٹهایا-
” میں چلتی ہوں فرشتے! مجهے مدرسے جانا ہے-” نامحسوس انداز میں اس نے اپنا ہاتھ دوپٹے کے اندر کیا کہ کہیں وہ اس پہ کسی کا لمس نہ دیکھ لے-
” مل لیں ہمایوں سے؟” اس کی آواز بہت پست تهی-
” ہاں-” اس نے بےاختیار نگاہیں چرائیں، فرشتے اسی طرح گردن اٹها کر اسے دیکهتی جانے اس کے چہرے پہ کیا کهوج رہی تهی- وہ جیسے گهبرا کر جانے کو پلٹی-
” محمل سنو!” وہ جیسے بےچینی سے پکار اٹهی اور اس سے پہلے کہ وہ پلٹتی اس نے نفی میں سر ہلاتے دهیرے سے کہا- “نہیں کچھ نہیں ، جاؤ-”
، خیریت؟”
” جاؤ، تمہیں دیر ہو رہی ہے-”
” اوکے، السلام علیکم-” وہ راهداری میں تیز تیز قدم اٹهاتی دور ہوتی گئی- فرشتے نے پهر سے ہاتهوں میں سر گرا لیا-
اسکا دل بہت بوجهل سا ہو رہا تها- مسجد آ کر بهی اسے سکون نہ مل رہا تها – اسے تهوڑی دیر ہو گئی تهی اور تفسیر کی کلاس وہ مس کر چکی تهی- سارا دن وہ یونہی مضمحل سی پهرتی رہی – بریک میں سارہ نے اسے جا لیا- وہ برآمدے کے اسٹیپس پہ بیٹهی تهی- گود میں کتابیں رکهے، چہرے پہ بےزاری سجائے-
” تمہیں کیا ہوا ہے؟” سارہ دهپ سے ساتھ آ بیٹهی-
” پتا نہیں- ” وہ جهنجهلاتے ہوئے گود میں رکهی کتاب کهولنے لگی-
” پهر بهی، کوئی مسئلہ ہے؟”
“ہاں، ہے-”
“کیا ہوا ہے؟”
” اللہ تعالی……بس….. وہ سر جهٹک کر صفحے پلٹنے لگی-
“بتاؤ نا-”
” اللہ تعالی ناراض ہیں- دیٹس اٹ!” زور سے اس نے کتاب بند کی-
” اوہو، تم خوامخواہ قنوطی ہو رہی ہو- اللہ تعالی کیوں ناراض ہونگے بهلا؟”
” بس ہیں نا-”
” اتنی مایوسی اچهی نہیں ہوتی- تمہیں کیسے پتا کہ وہ ناراض ہین؟”
” ایک بات بتاؤ!” وہ جیسے کوفت زدہ سی اس کہ طرف گهومی- “اگر تم کسی کے ساتھ چوبیس گهنٹے ایک ہی گهر میں رہو، تو گهر میں داخل ہوتے ہی تمہیں اس شخص کا موڈ دیکھ کر پتا چل جاتا ہے کہ وہ ناراض ہے؟ بهلے وہ منہ سے کچھ نہ کہے، بهلے تمہیں اپنی غلطی بهی سمجھ نہ آ رہی ہو، مگر تم جان لیتی ہو نا کہ ماحول میں تناؤ ہے، اور پهر تم دوسروں سے پوچهتی پهرتی ہو کہ ” اسے کیا ہوا ہے؟” اور پهر تم اپنی غلطی سوچتی ہو- میں بهی اس وقت یہی کر رہی ہوں سو مجهے کرنے دو!”
” تمہیں پتا ہے، اتنے عرصے سے میں روز ادهر آ کر قرآن سنتی تهی- آج میری تفسیر کی کلاس مس ہوئی ہے- آج میں قرآن نہیں سن سکی- تمہیں پتا ہے کیوں؟ کیونکہ اللہ تعالی مجھ سے ناراض ہیں، وہ مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے- سو ابهی پلیز مجهے اکیلا چهوڑ دو!”
سارہ کے جواب کا انتظار کیے بغیر وہ کتابیں سنبهالتی اٹهی اور تیز تیز قدموں سے چلتی اندر آگئی-
پرئیر حال خالی پڑا تها- بتیاں بجهی تهیں- وہ کهڑکی کے ساتھ آ بیٹهی- کهڑکی کے شیشے سے روشنی چهن کر اندر آ رہی تهی- اس نے دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹهائے-
” اللہ تعالی…… پلیز……..-” الفاظ لبوں پہ ٹوٹ گئے- آنسو ٹپ ٹپ گالوں پہ گرنے لگے- اس نے دعا کے لیے اٹهے ہاتهوں کو دیکها- یہ ہاتھ چند گهنٹے قبل ہمایوں کے ہاتھ میں تهے- لڑکے لڑکی کا ہاتھ پکڑنا تو اب عام سی بات بن گئی تهی مگر قرآن کی طالبہ کے لیے وہ عام بات نہ تهی- وہ کیسے جذبات کے ریلے میں بہہ گئی کہ خیال ہی نہیں رہا کہ اسے یوں تنہا کسی کے ساتھ اکیلے نہیں ہونا چاہئے- ہمایوں نے خود کو کیوں نہ روکا؟ مگر نہیں، وہ ہمایوں کو کیوں الزام دے؟ وہ تو قرآن کا طالب علم نہ تها- طالبہ تو وہ تهی- سمعنا و اطعنا( ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی) کا وعدہ تو اس نے کر رکها تها- پهر-؟
آنسو اسی طرح اس کی آنکهوں سے بہہ رہے تهے- وہ سر جهکائے آج کا سبق کهولنے لگی-
” اللہ تعالی پلیز مجهے معاف کردے، مجهے ہدایت پہ قائم رکھ-”
اس نے دل میں دعا مانگتے ہوئے مطلوبہ صفحہ کهولا-
” کس طرح اللہ اس قوم کو ہدایت دے سکتا ہے جو اپنے ایمان لانے کے بعد کفر کریں؟”
اس کے آنسو پهر سے گرنے لگے- اس کا رب اس سے بہت ناراض تها- اس کی معافی کافی نہ تهی- وہ سسکیوں کے درمیان پهر سے استغفار کرنے لگی-
اور انہوں نے رسول کے برحق ہونے کی گواہی دی تهی، اور ان کے پاس روشن نشانیاں آئی تهیں، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدائت نہیں دیتا-”
وہ جیسے جیسے پڑهتی جا رہی تهی، اسکا رواں رواں کانپنے لگا تها- قرآن وہ آئینہ تها جو بہت شفاف تها- اس میں سب کچھ صاف نظر آتا تها- اتنا صاف کہ کبهی کبهی دیکهنے والے کو خود سے نفرت ہونے لگتی تهی-
ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ بےشک ان پہ اللہ کی لعنت ہے- اور فرشتوں کی اور سب کے سب لوگوں کی( لعنت ہے)” ہمیشہ رہنے والے ہیں اس میں- نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی وہ مہلت دیے جائیں گے-”
اس نے قرآن بند کر دیا- یہ خالی زبانی استغفار کافی نہ تها-
اس نے نوافل کی نیت باندهی اور کتنی ہی دیر وہ سجدے میں گر کر روتی رہی- جس کے ساتھ ہر پل رہو، جو رگ جاں سے بهی زیادہ قریب ہو، اس کی ناراضی محسوس ہو ہی جاتی ہے اور انسان اس کی ناراضی دور کرنے کے لیے اتنا ہی کوشش کرتا ہے جتنی وہ اس سے محبت کرتا ہے-
جب دل کو کچھ سکون آیا تو اس نے اٹھ کر آنسو پونچهے، اور قرآن اٹها کر ٹهیک اسی آیت سے کهولا جہاں سے چهوڑا تها- آیت روزاول کی طرح روشن تهی-
” مگر اس کے بعد جن لوگوں نے توبہ کر لی…….” ( اس کا دل زور سے دهڑکا) اور انہوں نے اصلاح کر لی، تو بے شک اللہ تعالی بخشنے والا ، مہربان ہے-
بہت دیر سے روتے دل.کو ذرا امید بندهی. قرار آیا-
یہ توبہ کی قبولیت کی نوید تو نہ تهی مگر امید ضرور تهی-
اس نے آہستہ سے قرآن بند کیا- میڈم مصباح کہتی تهیں، اگر قرآن کی آیات میں آپ کے لیے ناراضی کا اظہار ہو تو بهی بخشش کی امید رکهیں- کم ازکم اللہ آپ سے بات تو کررہا ہے-
ٹهیک ہی کہتی تهیں-” محمل نے اٹهتے ہوئے سوچا تها-

اپنا تبصرہ بھیجیں