سویڈن میں مسجدوں پر حملے کے خلاف مظاہرے

Protest for Moske 3 rørسٹاک ہوم(عارف کسانہنمائدہ خصوصی) سویڈن کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے گذشتہ دنوں تین مساجد پر ہونے والے حملوں کے خلاف پر امن مظاہرے کئے۔ سخت سردی کے باوجود ہزاروں افراد جن میں سویڈش خواتین اور بچے بھی شامل تھے مظاہروں میں شرکت کرکے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مساجد کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ دارالحکومت سٹاک ہوم میں ہزاروں مظاہرین سویڈش پارلیمنٹ اور شاہی محل کے سامنے جمع ہوئے اور مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ایک بہت بڑا بینر اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ میری مسجد کو ہاتھ نہ لگائیں۔ نسل پرست جماعت سویڈش ڈیموکریٹس کو ملک میں اسلام فوبیا پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔ سویڈن کے شہروں گوتھن برگ، مالمواور دیگر شہروں میں بھی مظاہرے ہوئے۔ انتہا پسندی کے خلاف کام کرنے ولی ایکسپو فائونڈیشن کے سربراہ ڈینیل پول کے مطابق امریکہ میں ہونے والے گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد بہت سی قوتیں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہیں۔ سویڈش ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کی ایک غلط تصویر اور منفی تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ سخت گیر اور معتدل نہیں ہیں۔ شام اور عراق میں داعش کی حالیہ کاروایوں سے اس تصورکو مزید بڑھنے کاموقع مل رہا ہے۔ اس خطہ میں پر تشدد اسلامی ریاست کے قیام کا اعلان بھی سویڈن میں مساجدپر حملوں کا ایک محرک ہوسکتا ہے۔واضع رہے کہ سویڈن سے ڈیڑھ سو سے زائد مسلم نوجوان شام اور عراق میں جاری جنگ میں حصہ لینے گئے ہوئے ہیں جن میں پاکستانی نوجوان بھی شامل ہیں۔ سویڈن میں تین مساجد پر حملوں کے باوجود سویڈش حکومت کا کہنا ہے کہ سویڈن اب بھی تاکین وطن کے لیے جنت ارضی ہے۔ سویڈش حکومت عوام کے تعاون سے اس انتہاپسندی کو روکنے کی حکمت عملی طے کرے گی جبکہ پولیس مساجد کی سلامتی کو یقینی بنائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں