سفر شرط ہے

سفر نگار

ڈاکٹر شہلاء گوندل

اعلان کیا گیا کہ سب اپنا سامان راہداری میں اکٹھا کر کے اوپر کامن روم میں اکٹھے ہو جائیں۔وہاں پر سب کو اپنے اپنے کمرے الاٹ کیے جائیں گے۔
ہم نے اپنا سامان راہداری میں رکھا اور کامن روم میں پہنچ گئے۔ صاف ستھری میزوں کے ساتھ تقریبا 50 کے قریب کرسیاں ترتیب سے لگی ہوئی تھیں۔ ساتھ ہی چھوٹا سا واش روم بھی تھا۔ ایک کھڑکی سے خوبصورت جنگل کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ ایک دروازہ باہر بالکونی میں بھی کھلتا تھا اور بالکونی سے سڑھیاں نیچے صدر دروازے نے بالکونی میں کھلنے والے دروازے کے ساتھ دو کرسیاں پر قبضہ کیا اور آرام سے بیٹھ کر باقی خواتین کی سرگرمیں سے لطف اندوز ہونے لگیں۔ انکی اپنے کمروں کےحصول کے لیے فکر مندی دوسری خواتین کے ساتھ کمرے کی شراکت کے مسائل کون کسی کے ساتھ رہ سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
گروپ میں بچوں نے اس شام بڑا کام کیا۔ بس میں لادا گیا سامان خوردونوش تقریبا بچوں نے اپنی بالکونی والے دروازے سے کامن روم سے ملحقہ باورچی خانے میں منتقل کیا سارے بچے فرشتوں کی طرح قطار اندر قطار لفافے اور تھیلے اٹھا اٹھا کر لارہے تھے بچوں نے آتے ہی ٹیم ورک کا آغاز کر دیا تھا اور بڑے اندیشہ قیام شب میں گھلے جا رہے تھے۔ مختلف آوازوں کی بھنبھناہٹ میں ایک پھر ایک نرم اور شیریں آواز سماعتوں میں رس گھولنے لگی۔ یہ شاہدہ تھیں جو سب کو یقین دہانی کرا رہی تھیں کہ سب کو کمرے ملیں گے لیکن پہلے ہم کاغذ پہ موجود کمرہ نمبروں میں چار چار کے گروپ بنا لیں۔ میں اور رضوانہ دو لوگ تھے اور دو اور لوگوں کے ساتھ ہم نے کمرے کی شراکت داری کرنا تھا۔ مختلف گروپ بننے لگے۔ ایک بار پھر رضوانہ کی حاضر دماغی ہمارے کام آئی اور اس نے ایک ایسی خآتون کے ساتھ گروپ بنا لیا جنکے ساتھ ان کا بارا تیرہ سال کا بیٹا تھا۔ یہ تو ہم دیکھ ہی چکے تھے کہ کمروں میں دو منزلہ پسند تھے اس لیے ہمیں اپنے لوگوں کا انتخاب کرنا تھا جو با آسانی اوپر والے بستر پر سو سکیں۔ رضوانہ تو اوپر والے بستر پر چڑھ سکتی تھی لیکن میرے لیے تو یہ تقریبانا ممکن تھا۔ بچے والی خاتون کا انتخاب کرنے میں ہمارا مقصد یہ تھا کہ بچہ اوپروالے بستر پر جا سکتا تھا اس لیے ایک دو منزلہ بستر وہ ماں بیٹا لے لیتے اور دوسرا میں اور رضوانہ! ہم نے جلدی سے اپنا گروپ بنا کر شاہدہ کے پاس کمروں کا نمبر 107 تھا اور ہمارے لیے کمرہ ساتھیوں کے نام عابدہ اور بن یامین تھے۔ 107 کے نمبر پر یکدم میں چونک پڑی یہ میرے اس گھر کا نمبر تھا جہاں میں نے اپنا بچپن اور لڑکپن گزارا تھا میرا 107 نمبر گھر جہاں پر رہتے ہوئے میں نے میٹرک اور ایف ایس سی کی۔ وہ گھر میری ماں کی آوازیں آج بھی بازگشت کر گونجتی ہیں۔ جہوں میرے ابا جان میرے ہوتے ہوئے چہرے سے عینک اتار کر اور بستر پہ پڑیں کتابیں اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتے تھے جہاں میرا بھائی بجلی کا مین سوئچ بند کے کے مجھے پڑھائی سے اٹھاتا تھا تاکہ میں کھانا کھا لوں۔ آہ میراگھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک بار پھر میں اپنے لڑکپن اور جوانی کے دنوں میں کھو چکی تھی

اپنا تبصرہ بھیجیں