دعا

4

اللہ ، اللہ

یا اللہ! جب میں چھوٹا تھا تو مجھے جو کچھ بھی چاہیے ہوتا تو میں اپنے امی ابو سے مانگ لیتا. وہ نہ بھی دینا چاہتے تو میں زبردستی رو دھو کر بھی انہیں منوا لیتا. وہ میری خواہشات کے لیے اپنی ضروریات بھی قربان کر دیتے. گنجائش نہ بھی ہوتی تو قرض لے کر بھی میری مانگ پوری کرتے. مجھے کہانیاں، کھلونے، ٹافیاں، کپڑے، جوتے الغرض جو بھی چاہیے ہوتا ان سے لے لیتا. کوئی مارتا تو ان کو دکھڑا سناتا. وہ اس کی خوب خبر لیتے.

یا اللہ! اب میں بڑا ہو گیا. اب میرا دل کہانیوں، کھلونوں اور ٹافیوں سے نہیں بہلتا. اب مجھے تُو چاہیے. تیرا ساتھ اور تیری محبت چاہیے. تیری رضا اور قدم قدم پر تیری مدد چاہیے. تیرے دین کے رستہ پہ چلنا چاہتا ہوں. تیری یاد میں جینا چاہتا ہوں. تجھ کو اپنا بنانا ہے اور تیرا ہو کر جینا ہے. ہدایت کا چراغ بننا چاہتا ہوں. شیطان اور نفس مجھے بہت بری مار دیتے ہیں، ان کے شر سے بچنا چاہتا ہوں. میرے دنیا و آخرت کے بڑے بڑے مسائل ہیں، ان کا حل چاہتا ہوں. سکرات و غمرات موت اور حشر کی سختیوں سے بچنا چاہتا ہوں. حشر کی ذلت و رسوائی اور سختی سے بچنا چاہتا ہوں. جنت اور جنت میں تیرا دیدار چاہتا ہوں. اور.. اور… اور بہت کچھ چاہتا ہوں.

یا اللہ! تُو جانتا ہے کہ اب یہ سب کچھ مجھے میرے والدین نہیں دے سکتے. لیکن یہ سب کچھ اور اس سے بھی کھربوں گنا بڑھ کر بہت کچھ تُو دے سکتا ہے. میں جانتا ہوں کہ تُو تو سینکڑوں ماؤں سے بھی بڑھ کر مجھے چاہتا ہے. بچہ ماں سے رو رو کر روٹی مانگے تو یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ اس کے ہاتھ پر انگارہ رکھ دے. تُو تو بار بار خود فرماتا ہے کہ مجھ سے مانگو میں دوں گا. تیری تو کوئی مجبوریاں بھی نہیں ہیں. اور نہ تجھے قرض لینے کی کوئی ضرورت ہے.

عبدالوھاب

اپنا تبصرہ بھیجیں