’ تین ارب ڈالرز کی امداد خوش آئند ، پاکستان سعودی عرب کے احسانات کا بدلہ نہیں چکاسکتا‘

’ تین ارب ڈالرز کی امداد خوش آئند ، پاکستان سعودی عرب کے احسانات کا بدلہ نہیں چکاسکتا‘

مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کےسربراہ سینیٹر پروفیسرساجدمیرنےکہاہےکہ پاکستانی معیشت کو سہارا دینےکےلیےسعودیہ کی تین ارب ڈالرز کی امدادخوش آئندہے،پاکستان سعودی عرب کےاحسانات کابدلہ نہیں چکاسکتا، سعودی حکومت کاپاکستان سےرشتہ حکومتوں سےزیادہ یہاں کی عوام اورریاست کےساتھ ہے، سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، افسوس کی بات ہے کہ ناشکرے لوگ اس کے باوجود سعودی عرب پر بلاوجہ تنقید کرتے ہیں۔

دورہ سعودی عرب سے واپسی پر مرکز راوی روڈ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے دنیا میں اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود  پاکستان کی مدد کی سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ (ایس ایف ڈی) نے پاکستان کو اپنے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر مستحکم کرنے اور کورونا وبا کے اثرات سے نمٹنے میں مدد کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان میں تین ارب ڈالر جمع کروانے کا اعلان کیا، یہ اقدام پاکستانی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سعودی کوششوں کا مظہر ہے ،سعودی عرب نے سال کے دوران ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں  1.2 ارب ڈالر کی مالی اعانت کا بھی اعلان کیا ہے،2018ء میں سعودی عرب نے پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر کے مستحکم رکھنے کے لیے بھی تین ارب ڈالر فراہم کیے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جدہ میں سعودی عرب اسلامی ممالک اور روسی تعلقات کے حوالے سے عالمی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا، سعودی عرب مختلف شعبوں میں روس سے تعاون آگے بڑھ رہے ہیں،سعودی عرب ’مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان بقائے باہم اور انسانی اقدار کو فروغ دے رہا ہے،سعودی عرب دہشت گردی کے انسداد کے لیے عالمی برادری سے مشترکہ کوششوں کی امید رکھتا ہے،مسلم ممالک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سعودی عرب کا کردار مثالی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں