تسبیح روز و شب

راجہ محمد عتیق افسر
اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات ، قرطبہ یونیورسٹی پشاور
03005930098، attiqueafsar@yahoo.com
دسمبر کے آخری ایام ہیں سال 2021 اختتام پذیر ہے ۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی دوستو ں کے برقی پیغامات (ای میل) اور پیمچوں (ایس ایم ایس، واٹس ایپ وغیرہ ) کی بھرمار ہے ۔ ہر کوئی نئے سال کی مبارکباد دینے میں پہل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ دعائیہ پیغامات بھیجے جا رہے ہیں ۔ کچھ استہزائیہ پیغامات کا تنبادلہ بھی ہو رہا ہے ۔ گزشتہ سال کی کوتاہیوں کی تلافی کرتے بھی کچھ لوگ دکھائی دے رہے ہیں ۔رسائل و جرائد سال گزشتہ کے اہم واقعات قلمبند کرنے میں محو ہیں ۔ تجزیہ کار آئندہ سال کے معاشی و سیاسی تجزیے دینے میں مصروف عمل ہیں ۔ گویا ایک سرگرمی ہے جو اپنے عروج پر ہے ۔کچھ لوگ نئے سال کی آمد پہ جشن منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں دیگر اسے خلاف دین و مذہب گردانتے ہیں ۔ کچھ لوگ عیسوی تقویم کو مغربی تہذیب کا نمائندہ قرار دیتے ہیں اور مصر ہیں کہ قمری ہجری تقویم کے مطابق نئے سال کو منانے پہ زور دیتے ہیں ۔ کچھ منچلے دین و دنیا کی ہر رسم کو توڑ کر نئے سال کا استقبال کرنے کی تیاریوں میں ہیں ۔ بہر کیف ہر سمت نئے سال کا چرچا ضرور ہے ۔
ماہ و سال کیا ہے یہ تو وقت کی پیمائش ہے گردش ایام کو گننے کا ذریعہ ہیں بس ۔ دن وہی ہوتے ہیں راتیں وہی ہوتی ہیں انہیں یاد رکھنے کے لیے کسی ایک واقعے کو حوالہ بنا کر دنوں کو ہفتہ ، مہینہ ، برس ، صدی اور ہزاریہ(ملینیم ) کے حساب سے تقسیم کیا جاتا ہے اور گزرے وقت کی پیمائش کی جاتی ہے ۔ مختلف تہذیبوں نے اپنے لیے الگ تقویم قائم کر رکھی ہے ۔ مغربی ممالک عیسوی تقویم اپنائے ہوئے ہیں ۔ اسلامی تہذیب ہجری تقویم کی علمبردار ہے اسی طرح ہندی تہذیب بکرمی تقویم کو اپنائے ہوئے ہے اسی طرح دنیا کی دیگر تہذیبیں اپنی اپنی تقویم کے تحت ماہ و سال کا حساب رکھتی ہیں ۔ اس وقت دنیا میں مغربی تۃزیب کا غلغلہ ہے اس لیے عیسوی تقویم ہی دنیا میں رائج ہے ۔ اس تقویم کے مطابق 31 دسمبر 2021 اس سال کا آخری دن ہے اور یکم جنوری 2022 سال نو کا پہلا دن ۔
دنیا اپنے انجام کی جانب گامزن ہے ۔ تمام مذاہب بھی اس بات پہ متفق ہیں کہ دنیا ایک دن فنا ہو جائے گی اور ہماری سائنس بھی اس کے فنا ہو جانے کی قائل ہے ۔ اس نظر سے دیکھا جائے تو ہر گزرتا سال ہمیں فنا کے قریب کر رہا ہے ۔ جبکہ پیچھے مڑ کر اس سفر کو دیکھا جائے تو ہر گزرتے سال نے انسان کو ترقی دی ہے اس کا شعور بڑھا ہے علم میں اضافہ ہوا ہے ۔ دونوں باتوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ سال کا آخر دعوت فکر دیتا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ گزشتہ برس کیا حاصل کیا گیا اور کیا کھویا گیا ۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہم کیا حاصل کر پائے ہیں اور کیا ہم نے گنوا دیا ہے ۔
ایک طرف تو انسان اس قابل ہوا کہ اس نے کرونا جیسی مہلک بیماری کے خلاف ویکسین دریافت کر لی اور کامیاب تجربات ہونے لگے یہ ایک بہت بڑی پیش رفت تھی جو گزشتہ برس ہوئی ۔انسان ایک بہت بڑے خطرے سے باہر نکل آیا ۔ لیکن دوسری جانب کشمیر ، فلسطین اور دیگر مظلوم و مقہور انسان ، خود انسان سے ظلم سے آزاد نہ ہو سکے ۔ یہ بہت بڑی ناکامی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دنیا کی تباہی کا ؤاحد ذمہ دار خود آج کا انسان ہے ۔جو ذخم کرونا جیسی مہلک بیماری نے لگائے ان کا حل نکل آیا لیکن جو دکھ انسان نے دوسرے انسان کو دیے ان کا حل تلاش نہ کیا جا سکا۔اس ظلم اور بربریت کو ختم نہ کیا جاسکا جو دورجدید کی مہذب دنیا نے برپا کر رکھی ہے ۔
بیس برس سے افغانستان پہ قابض امریکہ اور اس کے اتحادی اس سال شکست کھا کر افغانستان سے بے آبرو باہر نکلے ۔ اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ طاقت اور وسائل کی فراوانی سے کمزوروں کو ہمیشہ نہیں دبایا جا سکتا ۔ ٹیکنالوجی سے تہی دست افغانوں نے بالآخر کیل کانٹے سے لیس دشمن کو ہرا دیا ۔ جو لوگ امریکہ اور اس کے حواری تھے وہ ایک لمحے کے اندر بے دست و پا ہو گئے ۔ اس نے یہ سبق دیا ہے کہ اپنی دھرتی پہ رہ کر دوسروں کے راگ نہیں الاپنا چاہییں بلکہ اپنی اقدار پہ فخر کرتے ہوئے ان کا تحفظ کرنا چاہیے ۔ غیر غیر ہی ہوتے ہیں ان کے لیے اپنی غیرت کا سودا نہیں کرنا چاہیے ۔
امریکہ میں قیادت کی تبدیلی نے یہ بات بھی سمجھا دی کہ بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ یہ ایک ذہنی مرض کا نام ہے جسے لگ جائے وہ اس کا شکار ہو کر دیگر انسانوں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے ۔ صدرٹرمپ کی جانب سے اسلامی دنیا کے خلاف جارحانہ اقدامات اور بیانات نے امریکہ کےچہرے پہ پڑا نقاب ہٹا دیا ۔ امریکی حکمرانوں کی انتہا پسندی کو عوام نے مسترد کر دیا ۔ گوروں کی جانب سے سیاہ فام انسانوں کا استحصال امریکہ کے سفید فام سامراج کے لیے زوال کی گھنٹی ثابت ہوا ۔ سال 2021 میں صدر پوٹن کی جانب سے پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف توہین آمیز اقدامات کے خلاف تقریر نے ایک خوش آئند پیغام دیا ہے کہ وہ روس جو مذہب دشمنی میں سب سے آگے تھا اسے بھی اب مذہب اور انسانی زندگی میں اس کے مقام کا ادراک ہو گیا ہے ۔ نیا انسان جو اڑاتا تھا مشیئت کا مذاق ، سامنے خالق جبار کے جھکنے پہ آمادہ ہو گیا ہے ۔اللہ کرے یہ تبدیلی روس میں اسلام کے لیے دروازے کھلنے کا عندیہ ثابت ہو ۔
پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ گزشتہ برس کا ایک اور تحفہ ہے ۔ اس بار یہ اضافہ پٹرولیم میں کمی کے باعث نہیں ہے بلکہ عالمی طاقتوں کی جانب سے عالمی منڈی میں مصنوعی قلت کی بدولت ہے ۔ کرونا کی تباہ کاریاں دیکھنے کے باوجودانسان کی لالچ آج بھی کروڑوں انسانوں کو تڑپانے کا باعث ہے ۔ یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ محض پٹرولیم ہی نہیں دنیا کی ہر نعمت کو ہتھیانے کے لیے انسانوں کا ایک ٹولہ اسی طرح کی دہشتگردی برپا کرے گا اور دنیا ان چند لوگوں کی ہوس کی بھینٹ چڑھا دی جائے گی ۔ سرمایہ دارانہ نظام انسانوں کو اپنے سرمائے کا نشانہ بناتے چلے جائیں گے۔
ملکی سطح پہ دیکھا جائے تو ہم لوگ پہلے سے زیادہ غربت کا شکار ہوئے ہیں ، پہلے سے زیادہ مقروض ہوئے ہیں ۔تعلیم کے میدان میں ہم گراوٹ کا شکار ہوئے ہیں ہمارے تعلیمی ادارے بند رہے ہیں ۔ تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں اور طلبہ کو بغیر امتحانات کے پاس کر دیا گیا ہے اس طرح قوم کو طفیلی بنایا گیا ہے ۔ اس سال مہنگائی نے بلند ترین سطح کو بھی عبور کیا اور عوام کی قوت خرید کم ترین سطح پر آ گئی ۔افلاس ہے رقص کناں اس ملک کے کوچہ و بازار میں ۔ بے روزگاری اس سال بھی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بنی رہی ۔ملکی برآمدات اس برس بھی درآمدات سے آگے نہ بڑھ سکیں ۔ملکی معیشت تنزلی اور ترقی ٔمعکوس کا شکار رہی۔اس سال کی ہماری کارگزاری بتا رہی ہے کہ آنے والا سال ہمارے لیے اس سے بھی زیادہ سخت ہوگا۔
اجتماعی زندگی پہ نظر ڈالنے کے بعد سال کے آخری لمحات میں ہمیں اپنی انفرادی زندگی کا محاسبہ کرنا چاہیے ۔ہم نے ایمان و یقین میں کیا کھویا ہے اور کیا پایا ہے ۔ ہم نے عبادات میں اپنے فرائض کہاں تک ادا کیے اور کہاں کوتاہی ہوئی ۔ معاملات میں ایک دوسرے کے حقوق کہاں تک ادا کیے اور کہاں ان میں کوتاہی ہوئی ۔ کن اعلی ٰ اخلاق کو ہم نے اپنایا اور کن بداخلاقیوں کو ہم نے اپنی زندگی میں جگہ دی۔ اس تمام تر محاسبے کے بعد ہمیں نئے سال کے لیے اس طرح منصوبہ بندی کرنا چاہیے کہ ہمارا آنے والا سال گزشتہ برس سے ہر لحاظ سے بہتر ہو ۔ جب ہم سب اپنی انفرادی زندگیوں کو بہتر کر لیں گے تو یقینا ہماری اجتماعی زندگی بھی خوشحالی کی جانب محو سفر ہو جائے گی ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے آنے والے سال کو خوشیوں سے بھر دے آمین۔
گزشتہ سال کوئی مصلحت رہی ہو گی
گزشتہ سال کے سکھ اب کے سال دے مولا

اپنا تبصرہ بھیجیں