اگر برا نہ لگے

باعث افتخار
انجنیئر افتخار چودھری
اوور سیز پاکستانیوں کی سنی گئی اور اب وہ قومی دھارے میں شریک ہونے جا رہے ہیں اس سے پہلے انہیں دودھ دینے والی گائے سمجھا جاتا تھا ۔ویسے کبھی کبھی یہ بھی کہا جاتا تھا کہ ملک سے باہر رہنے والے ہمارے وطن کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اس ہڈی کے ساتھ جو کچھ سلوک ہوتا تھا میں ایک چشم دید گواہ ہوں ۔اس قدر بے توقیری میاں محمد نے ان پردیسیوں کے بارے میں کہا تھا کہ وطن سے باہر رہنے والوں سے گلیوں کے ککھ بھاری ہوتے ہیں
ان پاکستانیوں کی بھی کئی اقسام ہیں ان میں وہ بھی ہیں جو کینیڈہ برطانیہ اور یورپ امریکہ کے ملکوں میں رہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان سے وفا داری کی بجاءے ملکہ برطانیہ سے وفاداری کی قسم کھائی ہے اور اپنے پاسپورٹ بدل لئے ہیں لیکن وطن سے مٹی سے وفاء ان کے خون میں اسی طرح موجود ہے اب مجھے نہیں پتہ کہ کیا وہ بھی ووٹ ڈالیں گے یا نہیں وہ پاکستانی جو مڈل ایسٹ میں رہتے ہیں ان کے ووٹ یہاں رجسٹرڈ ہیں ۔تفصیلات آنے دیں پھر مکمل بحث کریں گے ۔
میں چونکہ سعودی عرب میں رہا ہوں مجھے اس ملک کا علم ہے جہاں کوئی بائیس لاکھ پاکستانی مقیم ہیں اس ملک کے پاکستانیوں کی حالت زار اگر بتائی جائے تو بہت سے دوست ناراض ہوں گے اتنا ضرور کہوں گا کہ ملک خدادا سعودی عرب میں ہم ، خاص طور پر پاکستانی کہیں بہت نیچے درجے میں آتے ہیں ہو سکتا ہے ہم بنگالیوں سے اوپر ہوں مگر پہلے درجے پر سعودی دوسرے پر گورے بعض اوقات گورے سعودیوں سے بھی اوپر بعد میں عرب اور اس کے بعد ہم لوگ ہوتے ہیں گزشتہ دو تین سال جانے کا موقع ملا ہمارا مقام تھوڑا سا بلند ہوا اور وہ بھی سچ ہوچھیں انڈینز کی وجہ سے دیکھنے میں ہمیں بھی وہ انڈین انویسٹر سمجھتے ہیں جنہوں نے وہاں گزشتہ پانچ سالوں میں انویسٹمنٹ کی ہے کسی زمانے میں پاکستانی چھائے ہوئے تھے اب انڈینز کا بول بالا ہے
لوگ مجھے بہترین سفاری سوٹ میں دیکھ کر سمجھتے تھے کہ کوئی ملین ڈالرز کاانویسٹر آیا ہے ان کی بھول جلد ہوا ہو جاتی جب میں انہیں پاک سعودی دوستی پر لیکچر دیتا ۔ دوستو لا الہ الاللہ کا رشتہ ہمیں اچھا لگتا ہے انہیں نہیں ۔اس کئے کہ ہمیں غریب سمجھ کر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم انہیں emotional black mail کر رہے ہیں
عرب کبھی تبلیغ کے لیے نہیں نکلے وہ اچھے تاجر تھے جن کے رویوں سے ہمارے بڑے مسلمان ہوئے ۔نودی عرب نفسیات کو ہم سے زیادہ جانتا ہے ۔ہم ہی بے وقوف ہیں ہر سعودی کے جسم سے مدینے اور مکے کی خوشبو ڈھونڈتے ہیں
انڈینز نے chains قائم کیں Red Tag جیسی کئی کمپنیاں اور ۔ہمارے انویسٹروں کا حال یہ ہے کہ وہاں کی حکومت اعلان کرتی ہے کہ آپ اتنے ملین دکھائیں تو آپ کو انویسٹر ویزہ مل جائے گا یار لوگوں نے وہیں سے پکڑ دھکڑ کے انویسٹر ویزہ لے لیا جو کہ وہاں مستری مزدور اور مکینک تھے وہ اب انویسٹرز بنے ہوئے ہیں ادھر سعودی حکومت بھی چالاک تھی اس نے اس قسم کی پابندیاں لگائیں کے یار لوگ دبئی بھاگ گئے کچھ ہیں جو ایک پارسل سے دو دن گزار کر پاکستان آ کر اپنے آپ کو کمپنیوں کا مالک قرار دیتے ہیں ۔ اور بوسکی کی قمیض اور کالی گاڑی لیے پھرتے ہیں ان کو میں جانتا ہوں اسی لئے ہم سے دور بھی رہتے ہیں ان انویسٹرقں کووزیر ملتے ہیں اور فوٹو سیشن ہوتا ہے ۔
اوورسیز پاکستانیوں کی داستان غم کہاں سے شروع کروں سعودی عرب میں ایک دور تھا جو بدو معاشرے میں غلام رکھنے کے دور سے جڑا ہوا تھا ۔غلام۔کا کام تھا کہ وہ کانکرے اور اس میں کچھ حصہ اپنے آقا کی خدمت میں پیش کرے ۔اسی دور کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جب میں اکیس سال کی عمر میں سعودی عرب مزدوری کرنے گیا جو دور غلامی کا تسلسل تھا
کفیل ایک ایسی چیز تھی جس کے نام سے مکفول ڈرا کرتے تھے ایسا شخص جو اچھا بھی ہو گا مگر سب سے زیادہ برا واقع ہوا اپنے لوگوں کو کفالت میں لے کر ان سے بھتہ لینا اس پر ختم تھا اپنے نام سے لوگوں کو کاروبار کی اجازت بھی یہی،، مرد مومن ،، دیتا ہے اور جب جی چاہتا ہے پورا کاروبا ر ہڑپ کر جاتا ہے
کہوٹہ کے قریشی برادران ایک کشمیری سعودی کے ہاتھوں لٹے اسلام آباد ہوٹل کبھی قریشیوں کا تھا اس طرح کئی لوگ اجڑے ۔میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہر بندہ ایک جیسا نہیں ہوتا اسی طرح کفیل دو رنگوں کے تھے ۔بیت اچھے لوگ بھی تھے اکعیسائی اور ناغی فیملی کو میں اپنے دور ملازمت جو تقریبا پچیس سال ہر مشتمل ہے بہترین قرار دیتا ہوں یہ وہ لوگ تھے جو اپنے ملازمین کو اپنی اولاد سمجھتے تھے
1978 میں پہلی مرتبہ جب ملک خالد بن عبدالعزیز نے غیر مقیم مسلمانوں کو مسلم ویزہ 44 دیا تو مجھے بھی ایک کفیل سلیم نافع الحربی ملا یقین کیجئے وہ بہت اچھا شخص تھا لیکن اتنا اچھا ہونے کے باوجود اس سے ملنا بڑا مشکل ہو جاتا تھا ہم اس کے اقامے ہر سعودی عرب کے طول و عرض میں گئے لیکن جب چھٹی جانا ہوتا تو اس کی رضامندی اور دستخط لینے کے لیے ہمیں فٹ پاتھوں پر راتیں گزارنا پڑتی تھیں کہیں سے وہ ا جائے اور ہمیں ایک لیٹر دے دے
اس کی کفالت میں آنے کے 2500 ریال دئیے اور جب کوئی سال دو بعد کسی کمپنی میں کام ملا تو اس سے اجازت لینے کے 2000 ریال دینا پڑے ۔ایک اور بات بھی بتائوں ان دنوں میں اگر آپ نے ایک شہر سے دوسرے میں جانا ہے تو پھر کفیل کے اجازت نامے کی ضرورت ہوتی تھی اور جدہ سے مدینہ جانا پڑے تو پچاس ریال اس لیٹر کے خرچ کرنے ہوتے تھے جس میں لکھا ہوتا تھا کہ منکہ مسمی افتخار شودری زیارت کے لیے مدینہ شریف جانا چاہتا ہے اسے جانے دیں
۔میں آج پاکستانیوں کے ووٹ کی طاقت ملنے کے بعد آپ کو بتانا چاہوں گا کہ عمران خان کو ان ملکوں کے مقیم پاکستانیوں کا زیادہ خیال رکھنا ہے جہاں انسانی حقوق نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ۔جنہیں کفیلوں نے دبا کے رکھ دیا ہے جہاں اونچا بولنے پر خروج کی تلوار سے قلع قمع کر دیا جاتا ہے آپ حیران ہوں گے کہ آپ کے سامنے چلتا پھرتا شخص جو آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے اسے کفیل ایک کلک سے ھروب کرا سکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ بھگوڑا ہو گیا ہے اور پھر بھگوڑا کن مشکلات سے گزرتا ہے یا وہ جانتا ہے یا خدا ۔
کرونا کے دنوں میں سعودیوں کو رعائتیں اور غیر سعودیوں کو کوئی رعایت نہیں ۔مکان کے جرائے اسی طرح بجلی کے بل دگنے کیا دیا ہے،، سفیر پاکستان،، نے پاکستانیوں کو
آپ انہیں ووٹ کا حق دیں لیکن سب سے زیادہ حق یہ ہے کہ ان کے حقوق کی پاسداری کرائیں جب عمران خان سبز پاکستان کی عزت کرانے کی بات کرتے ہیں تو ان لوگوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ جاتے ہیں ۔مجھے وہ دن بھی یاد ہیں کہ ایک کفیل کے تین پاکستانیوں کے پاسپورٹ گم گئے وہ بے چارے محصور ہو کر رہ گئے اور بعد میں وہ پاسپورٹ کفیل کے دفتر سے ملے جنہیں میز کو لیول کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا میں یہ سچ کہہ رہا ہوں یہ باتیں اسی کی دہائی میں دیکھی ہیں ۔
کفیل کو لگامیں دی گئی ہیں بہت سی چیزیں اب کفیل سے چھین لی گئی ہیں پاسپورٹ اب مکفول کے پاس رہتا ہے لیکن اس پاسپورٹ کے رکھتے ہوئے آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے خروج و عودہ لگانے کے لیے اسی کفیل کے پاس جانا ہوتا ہے انہیں کمنقز کم۔امارات کی طرح سہولتیں تو دیں اقامہ فیسیں اتنی ہیں کہ ہزاروں لوگ غیر قانونی ہو کر رہ گئے ہیں آپ کا اقامہ ختم اپ مر جائیں لاش تک نہیں ملے گی ۔لاش کا اقامہ تجدید کرائیں پھر لے جائیں
میں نے 2014 میں مستقل بنیادوں پر تبدیلی کے لیے پاکستان آنا چاہا سوچا کسی پرائیویٹ کفیل کے پاس چلے جاتے ہیں ۔یقین کیجئے مجھے وہاں کا بہترین کفیل محمد یوسف الاسمری ملا لیکن جب بھی چھٹی آنا ہوتا کبھی اس کے دروازے پر انتظار کرتا جو اس کا مندوب خاص تھا یا کبھی رابغ چوکی میں جا کر اس سے وصول کرتا ا ۔
ایک بار وطن واپسی کی کا سوچا یقین کریں مجھے پورا یقین تھا کہ یہ میرا خروج نہیں لگائے گا میں نے اقامہ تجدید کرایا جس پر تیس ہزار ریال لگے اور میں پاکستان ا کر واپس نہیں گیا محمد الغامدی اس کا مندوب تھا پرلے درجے کا شرابی اور کوفت یقین کریں میرے سامنے اس نے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ایک دوست سے پچاس ہزار ریال ہتھیا لئے
دوستو میں ان پاکستانیوں کی مشکلات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جن بے چاروں کو ووٹ کا حق تو مل گیا ہے لیکن وہاں جینے کا حق نہیں ملا انہیں پنشن کا حق دو تا کہ وہ پاکستان ا کر رفاہ عامہ کا کام کریں نہ کہ دوسروں کے منہ کو دیکھتے رہیں ۔ااورسیز پاکستانیوں سے التماس ہے وہاں رہتے ہوئے اپنے مرنے جینے کا بندوبست کر کے آئیں مسمیھ دار تھے وہ لوگ جنہوں نے کاروبا ر سیٹ کر کئےبہکازے بنا لئے اور اب اللہ کے رنگوں میں ہیں
آپ حیران ہوں گے کہ کفیلوں کے نام پر کام کرنے والے جگا ٹیکس دینے کے باوجود بھی طرح طرح کی پابندیوں کا شکار ہیں ۔ہمارے ایک انتہائی قریبی عزیز ہیں ان کی الریاض بطحاء میں ایک دکان تھی جس میں وہ مصالحہ جات بیچنے کا لائسنس کے کر کام کرتےتھے ان کی دکان سے پرفیوم پکڑے گئے یہ ایک ایسا جرم تھا کہ وہ بندہ ڈیپورٹ کر دیا گیا اور اب ساری زندگی بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے اب بتائیے اس کی انویسٹمنٹ کدھر گئی نہ کوئی کفیل کام آیا نہ اسے تحفظ ملا اب دکان کفیل کے پاس ہے اور دوسرا کوئی بیٹھا ہے جو کسی دن پکڑا جائے گا ۔ویزن 2030 خاک ہو گا آپ ان لوگوں کے حق دو ۔
ان ملکوں میں انسانی حقوق نام کی کوئی چیز نہیں میں نے زندگی میں بہت بڑی غلطیاں کی ہوں گی لیکن سب سے بڑی غلطی اس دن کی تھی جب میں نے امریکی شہریت لینے سے انکار کیا لاٹری میں درخواست تک نہ دی پھر بارہا مواقع ملے یورپ جرمنی گیا لیکن سبز پاسپورٹ کو سینے سے لگائے رکھا
حضور مثالیں ہم دیتے ہیں حضور پاک کی اور اسی دیسی کے بدوؤں کے ہاتھوں لاکھوں پاکستانی لٹ گئے ۔سعودی عرب سے آپ بکسے تو بھر بھر کے لاتے ہیں لیکن جو مقام آپ کو ملتا ہے میں جانتا ہوں
الجمیح آٹو موبائل کی ایک بڑی کمپنی ہے جدہ کے مدینہ روڈ کلو 9 پر اس کے شو رومز میں کھڑی کیڈلاک گاڑیاں اس کی چمک بتاتی ہیں میں نے وہاں 1988 سے 1991 تک کام کیا ہے ۔مجھے کہا گیا کہ آپ تبوک چلے جائیں جس پر میں نے عذر پیش کیا کہ میرے بچے پڑھتے ہیں وہاں اسکول نہیں ہے مصریوں کا ایک گروپ تھا جنہوں نے سازش کی اور میری شکائت لگائی کہ میں انشورنس کمپنی کے دفتر میں کسٹمر کی گاڑی لے کر گیا ہوں ۔یہ ایک ایسا گھناؤنا جرم بنا کر پیش کیا گیا کہ مجھے سسپنڈ کر دیا گیا ایک ماہ کیس چلتا رہا اس دوران میں نے ایک دوسری کمپنی میں جاب ڈھونڈ لیا شیخ محمد ابراہیم الجمیح نے میرا پاسپورٹ دراز میں رکھ کیا وہ شیخ جو جدہ چیمبر کا صدر بھی تھا اور ملک کا بڑا بزنس مین
جب میں غلامی کے چھٹکارے کا لیٹر لینے آیا تو اس نے ایک عہد نامے پر دستخط کروائے کہ میں نے اپنے سارے حق حقوق وصول کر لئے ہیں جو اس وقت پانچ ہزار ڈالر بنتے تھے ۔یہ ڈالر میں نے مدینہ روڈ پر جنرل۔موٹرز کمپنی کے مالک سے لینے ہیں اور روز قیامت اس کے گلے میں صافا ڈال کر لینے ہیں ۔ جب کوئی پاکستانی وہاں سے گزرے تو یہ ذہن میں رکھے کہ اس نے میری رقم دینی ہے
مجھے علم ہے کہ میرے خدا کے ہاں مجھے اس کا بہتر اجر ملے گا لیکن دنیا کو بھی پتہ چلے کے ان غتروںظ والوں نے کیا کیا ظلم ڈھائے ہیں
میں یہ سب کچھ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ظلم کی وہ داستانیں جو سعودی عرب کے پاکستانیوں پر بیتی ہیں اسے انہیں بھی ذہن میں رکھیں ۔سب ڈرتے ہیں ۔ہم خود ،، غلط بیان ہیں ،، کہا کرتے تھے کہ پاک سعودی دوستی ۔ کا کوئی جواب نہیں عربی میں تقریر کرتے تھے کہ ہمارا خون آپ سے پہلے بہے گا ۔لالچ دھونس اور دھاندلی جھوٹ مکر اور فریب سے بھرپور نعرے اسی طرح جس طرح پاک چین دوستی کے لگائے جاتے ہیں کوئی کسی کا دوست نہیں سب مفاد کی دوستی ہے کیا بنا چین سے آئے ہوئے پاکستانیوں طلباء کا رل گئے ہیں۔ دو سال ہو گئے ہیں اپنے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نہیں جا سکے ۔کوئی سنتا بھی نہیں
میں سعودی عرب خلیج میں رہنے والوں سے کہوں گا کینیڈہ امریکہ آسٹریلیا چلے جائو خدا کے لیے اپنی زندگیاں برباد نہ کرو ۔آج ہمارے ہاتھوں کے بچے کینیڈہ برطانیہ اور آسٹریلیا میں رہ رہے ہیں ان کی باتیں سنتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے آپ پر ،،لعنت ،،بھیجتے ہیں کہ در فٹے منہ ساری زندگی سبز پاسپورٹ کو تھامے رکھا پاک سعودی دوستی پاک چائینہ دوستی پاک فلاں فلاں دوستی زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے ہو اور ۔۔۔۔ملا بابے دھنے کا عصاء
جاری ہے
سچ لکھوں گا پسند آئے نہ آئے میرا زمہ دوش ہوش نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں