قا ئد اعظم کی شخصیت بطور رول ماڈل

شازیہ عندلیب

قائد اعظم کے اقوال اور کردار رٹًا لگانے کے لیے نہیں بلکہ عمل کے لیے ہیں۔
اس وقت پاکستان اور پاکستانی قوم کی جو حالت ہے وہ اس عظیم رہنماء کے اقوال پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ ہے ۔جبکہ کچھ لوگ تو پاکستان کی ناکامی کا الزام بھی اس عظیم ہستی کو دینے کی کوشش کرتے ہیں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر پاکستان نہ بنتا مسلمان آرام سے ہندوستان میں رہ رے ہوتے۔ان لوگوں کے لیے یہ جواب ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہندوستان کے متوالے وہاں چلے جائیں اور جا کر مزہ چکھ لیں جیسا کہ ہمارے کئی مشہور فنکاروں نے مزہ چکھا اور وہاں سے عزت افزائی کروائی ہے۔
اس کے علاوہ اگر پاکستان کی ریاست ضروری نہیں تھی تو پھر وہاں جو مسلمان آباد ہیں انکا حال ہی ملاحظہ کر لیں۔وہ کتنی مذہبی اور تہذیبی آزادی انجوائے کر رہے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیرون ملک رہنے والے پاکستان تارکین وطن کے لیے قائد اعظم ڈے کی کیا اہمیت ہے؟
اسکا جواب یہ ہے کہ ہمارے وطن پاکستان کی وجہ سےہی آج ہماری پہچان ہے۔اور یہ پہچان یہ فخر دینے والی ہستی قائد اعظم ہیں۔انکا نام دوسرے اقابرین کی طرح ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انکا نام آج بھی برطانیہ جیسے عظیم ملک کے میوزیم میں بطور دنیا کی عظیم شخصیت کے 2017 میں‌ لکھا گیا تھا ۔جبکہ انکا نام مستقل طور پر لنکن ان لائبریری میں‌درج ہے جہاں ان کی رہائش گاہ تھی.
قائد اعظم ایک ایسے ذہین انسان تھے جنہوں نے اپنے مقصد کی جنگ تلوار سے نہیں لکہ اپنے دلائل سے لڑی تھی۔آج اگر پاکستان کے ہر اسکول میں قائد اعظم کے اقوال کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل بھی کروایا جائے ہماری قوم کو کامیاب قوم بننے سے کوئی نہیں روک سکتا لیکن افسوس ہم لوگوں نے قائد کے اقوال کو صرف رٹنے تک ہی محدود کر لیا ہے۔قائد کے اقوال یاد کرنے سے یا سجا کر لٹکانے سے ہماری قوم کو کوئی فائدہ نہ ہو گا۔اسکی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شخص ہر وقت دین اسلام کے یا کسی یک شخصیت کے گیت اور ترانے گاتا رہے مگر اس پر عمل بالکل نہ کرے ۔اسے اسکا ہر گز فائدہ نہ ہو گا یا پھر کوئی ڈرائیور صرف ڈرائیونگ کی تھیوری ہی یاد کر کے گاڑی لے کر سڑک پر آ جائے پھر اس ڈرائیور کا کیا حال ہو گا۔بس یہی حال ہماری قوم کا ہے کہ وہ صرف تھیوری ہی یاد کر رہی ہے مگر عمل میں صفر ہے ۔ یہ ہمارے اساتذہ اور والدین کا کام ہے کہ وہ ان افکار پر عمل بھی کروائیں اسی صورت میں بچوں کی شخصیت میں توازن آ سکتا ہے۔����� ���� �� ��� ���� �� ��� �� ��
قائد اعظم کے مشہور اقوال یہ ہیں
دنیا میں دو قوتیں ہیں ایک تلوار اور دوسری قلم
دنیا میں کوئی ایسی طاقت نہیں جو پاکستان کا وجود ختم کر سکے۔
کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے سو بار سوچ لیں لیکن جب فیصلہ کر لیں تو پھر اس پہ ڈٹ جائیں۔
وہ شخص کبھی کامیاب نہیں ہوتا جس میں نا کامی کا خوف کامیابی کی چاہت سے ذیادہ ہو۔
کوئی قوم جدو جہد اور قربانیوں کے بغیر آزادی حاصل نہیں کر سکتی۔

اپنا تبصرہ لکھیں