منتشر ہوتا خاندانی نظام اس صدی کا سب سے بڑا نقصان ہے : ظفر انصاری

جماعت اسلامی ہند کی مہم ’’مضبوط خاندان مضبوط سماج‘‘ کے افتتاحی پروگرام میں مقررین نے سما
کو انتشار سے محفوظ رکھنے کیلئے اپنی آراء پیش کیں
 
ممبئی : کسی معاشرے کا سب سے اہم ادارہ خاندانی نظام ہوتا ہے اس کے مضبوط ہونے سے سوسائٹی ،مضبوط ہوتی ہے ۔ مگر عرصہ سے خاندانی نظام انتشار کا شکار ہے ۔ اس کی کئی اہم وجوہات ہیں جس میں سے ایک ہے ہماری شہری زندگی میں مغربی تہذیب کا غلبہ ۔ یہ باتیں جماعت اسلامی مہاراشٹر کی ناظمہ ساجدہ پروین نے ’’مضبوط خاندان مضبوط سماج‘‘ مہم کے افتتاحی پروگرام میں کہی ۔ واضح ہوکہ جماعت اسلامی ہند کی شعبہ خواتین کی جانب سے ملک گیر پیمانے پر دس روزہ مہم  ۱۹؍تا ۲۸ ؍ فروری مہم شروع کی ہے تاکہ منتشر ہورہے خاندانی نظام کی شیرازہ بندی کی جانب قدم بڑھانے کیلئے عوام میں بیداری پید اکی جائے ۔ ناظمہ ساجدہ پروین نے کہا کہ فرد کی غلط تربیت یا تربیت کے بغیر ایسا سماج تشکیل پائے گا جو ملک و عالم انسانیت کیلئے مفید نہیں ہوگا ۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ مغربی تہذیب کی اندھی نقالی نے رشتوں کا تقدس و احترام ختم کردیا ہے ۔ یہ مغرب ہی ہے جس نے عورت و مر کو ایک دوسرے کا حریف بنادیا ہے جبکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے معاون و مدد گار ہیں ۔
افتتاحی پروگرام میں سامعین سے خطاب کرتے ہوئے پیشہ معلمی سے وابستہ الکانائیک نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ مسلم معاشرے میں اولڈ ایج ہوم(ضعیفوں کیلئے اقامت گاہ) کا تصور نہیں ہے ۔ یعنی مسلم معاشرہ میں اپنے بزرگوں کے تئیں احترام کا جذبہ اب بی موجود ہے ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بیویوں کا بھی احترام کیا جائے ۔ انہوں نے طلاق سے پیدا ہونے والی صورتحال اور اس سے اولاد پر مرتب اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ والدین کے درمیان  علیحدگی کا سب سے برا اثر ان کے بچوں پر پڑتا ہے جو کہ صحت مند معاشرے کیلئے سود مند نہیں ہے ۔انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ صحیح غلط کے چکر میں رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اس لئے محبت کو بڑھاوا دیجئے اور قربانی جذبہ پیدا کیجئے کہ رشتے صرف قربانیوں سے مضبوط ہی نہیں ہوتے بلکہ  خوشگوار بھی بنتے ہیں ۔ الکا نائیک نے یہ سوال کیاکہ ہم اپنی صحت کے تعلق سے تو کافی بیدار ہیں مگر کیا ہم نے اپنے روحانی علاج کی بھی فکر کی جس کے سماج پر اچھے یا برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔
جماعت اسلامی ممبئی میٹرو کی ناظمہ ممتاز نذیر نے قرآن میں معاشرتی قوانین اور عائلی زندگی کے بارے میں تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ اہمیت بہت زیادہ ہے ، اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نماز روزہ کی فرضیت سے قبل صلہ رحمی کے بارے حکم آیا ۔اس کی مثال ان حدیثوں سے ملتی ہے کہ جب جب نجاشی نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کے آپ کے نبی کیا تعلیم دیتے ہیں تو انہوں نے کہا ایک اللہ کی عبادت کرو ، بتوں کی پرستش نہ کرو اور سچائی و صلہ رحمی اختیار کرو ۔ یہی بات ابو سفیان نے ہرقل کو بھی بتائیں ۔ انسان کی فطرت کے مطابق اس کے پیدا کرنے والے نے اس کو ایک خاندان کے مضبوط قلعہ میں پیدا کیا جو اس کی تربیت کرتے ہیں ، اس کو ایک ذمہ دار انسان بنانے کیلئے ۔
جماعت اسلامی مہاراشٹر کے سکریٹری حلقہ ظفر انصاری نے خاندانی نظام کی ابتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گرچہ یہ مغرب یا جاپان جیسے ترقی یافتہ اایشیائی ممالک کی صورتحال حال ہے وہاں خاندانی نظام ختم ہوچکا ہے ۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ہم اسے مغرب کا مسئلہ کہہ کر خاموش نہیں رہ سکتے ، کیوں کہ اپنے ملک کی نسل نو کی حالت بھی کافی تشویشناک ہے ۔ انہوں نے خاندانی نظام کے ٹوٹنے بکھرنے کو صدی کا سب سے بڑا نقصان قرار دیا ۔ظفر انصاری نے اس پر تعجب کا اظہار کیا کہ جب مغرب نے خاندانی نظام کے ختم ہونے کے بعد اسے دوبارہ قائم کرنے کی تحریک شروع کی تو ہماری بدقسمتی دیکھئے کہ وطن عزیز ہندوستان میں لیو ان ریلیشن شپ کا قانون بنایا ۔ ظفر انصاری کے مطابق یہاں خاندانی نظام کے منتشر ہونے کی وجہ مغربی تہذیب سے مرعوبیت ہے جس نے ہم میں نقالی کی بری عادت پیدا کی ہے ۔انہوں نے مہم کے تعلق سے کہا کہ ہمارا کام دس روزہ مہم سے ختم نہیں ہوتا بلکہ ہم ان دس روزہ مہم میں سماج اور ملک کی بہتری کیلئے خود کو تیار کریں گے اور ایک بہتر سماج کے ساتھ ہی ملک کی ایسی نہج پر ترقی کیلئے کام کیا جائے جس سے اس کا وقار بلند ہو۔
مولانا الیاس فلاحی نے مضبوط خاندان کی تخلیق کیسے ہو اس پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسان کیلئے خاندان سب سے اہم اس کے بغیر اس کا وجود بے معنی ہے ۔ اگر خاندان ختم ہوجائے تو انسان انسان نہیں رہے گا وہ انسان نما حیوان بن جائے گا ۔ انسان میں رشتوں کا تقدس خاندان کے ذریعہ ہی آتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جن اخلاقی خرابیوں کا ہم سامنا کررہے ہیں وہ منتشر خاندان کے سبب ہی معاشرے میں جڑ پکڑتی ہے ۔مولانا الیاس فلاحی نے کہا کہ آج ہمارے نوجوانوں میں جو خاندانی نظام کے تحت بے رغبتی پائی جاتی ہے وہ موجودہ ماحول کی دین ہے جسے ہم قرآن و سنت کی رہنمائی کو عام کرکے ہم ان نوجوانوں کو خاندانی نظام کے استحکام کی جانب لوٹ سکتے ہیں ۔اسی رہنمائی سے رشتوں کے تئیں اعتماد پیدا ہوتا ہے ۔ جب سماج حرام و حلال اور  حق و باطل کا شعور کھودیتا ہے تو رشتوں میں خرابی پیدا ہوتی ہے ۔اسی کو مادہ پرستی کہتے ہیں جس میں ہمارا معاشرہ پوری طرح گرفت میں آچکا ہے ۔
اپنا تبصرہ لکھیں