کوئی اور تھا

  کوئی اور تھا تحریر ضمیر آفاقی کوئی اور تھا ہر روز ملے جس سے اس کی منزل کوئی اور تھا میں تو راہگزر تھا اسکی اس کا راستہ کوئی اور تھا جو میری زندگی کی تلاش تھا اس کی مزید پڑھیں

چڑیا کی نظم

آج دانہ نہ ڈال پایا میں آج مجھ سے خفا گیی چڑیا ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے پوچھا سبب اداسی کا ۔۔۔۔۔ میں نے ہنس کر کہا “گئی چڑیا”۔۔۔۔ اس سے پہلے کے ڈوب جاتا میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھکو تنکا تھما گیی چڑیا مزید پڑھیں

ابابیلوں کو آنا تھا

محسنہ جیلانی ابابیلوں کو آنا تھا۔۔۔۔۔۔ یہ کیسی ساعتیں گذریں یہ کیسی آفتیں آئیں ابابیلوں کو آنا تھا ابابیلیں نہیں آئیں یہ کیسا زعم تھا اپنا یہ کیسی خوش گمانی تھی وہی تھی داستان غم وہی دکھ کی کہانی تھی مزید پڑھیں