ہم پاکستان کے میڈیکل سسٹم پر تنقید کرنے میں پروفیسر لیول کے ہیں… مگر آسٹریلیا کی ایمرجنسی دیکھی تو احساس ہوا کہ پاکستان والے واقعی ہارورڈ سے ٹرینڈ لگتے ہیں۔
چند دن پہلے بیگم کی طبیعت خراب ہوئی، ہم رات 11 بجے Emergency پہنچے۔ سامنے صرف 3 مریض تھے۔ میں نے سوچا:
“واہ جی، آج تو 15 منٹ میں فارغ!”
مگر ایمرجنسی والوں نے میرے خوابوں پر “Waiting Time” لکھ کر رکھ دیا۔
پہلے 1 گھنٹہ paperwork میں لگا۔
علاج؟ جی Panadol دے دی۔
شاید ان کے خیال میں Panadol ہر بیماری کی ماں ہوتی ہے۔
جب اندر گئے تو دیکھا آدھے بیڈ خالی پڑے تھے۔
پر باہر ہمیں کہا گیا تھا کہ:
“بیڈ نہیں ہے، انتظار کریں”
لگ رہا تھا شاید بیڈ کسی VIP مریض کے لیے رکھے گئے تھے جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوا۔
پھر نرس نے blood pressure چیک کرنے میں بھی اتنا وقت لگایا جیسے NASA کا لانچ چیک کر رہی ہو — پورا 1 گھنٹہ۔
Room میں بٹھا کر مزید 1 گھنٹہ گزار دیا۔
آخرکار ڈاکٹر صاحبہ آئیں، معائنہ کیا، دوائی دی… اور یوں پورا چکر 4.5 گھنٹے میں مکمل ہوا۔
پاکستان میں یہی کام 30 منٹ میں ہو جاتا ہے۔
وہاں ڈاکٹر مریض کو دیکھ کر کہتے ہیں:
“جی آ جائیں… اگلا کون؟”
سرجری نہ ہو تو باقی سب کام ایک دم fast track۔
آخر میں یہی کہوں گا:
آسٹریلیا کا سسٹم بہت منظم ہے، لیکن رفتار ایسی جیسے کسی نے “slow motion” ON کر رکھا ہو۔
پاکستان کی کم از کم یہ خوبی ہے کہ مریض کی جان بچانے میں وہ وقت ضائع نہیں کرتے۔
اپنا خیال رکھیں – اور ایمرجنسی جانے سے پہلے کچھ snacks لے جانا نہ بھولیں

Recent Comments