3 اکتوبر ___ فیصلہ کن دن

ایک وقت تھا جب علی سلیم (المعروف بیگم نوازش علی) نے ایک دو ڈراموں میں مرد کے کردار میں ہوتے ہوئے بھی ”زنانہ پن“ کا مظاہرہ کیا۔اس دور میں علی سلیم کی چال ڈھال میں عورت پن آ چکا تھا۔اور اس نے باقاعدہ عورتوں کی طرح ناخن بھی بڑھا رکھے تھے۔
پھر وہ اکثر ایسے ہی کرداروں میں نظر آنے لگا۔یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں پرائیویٹ چینلز کی آمد آمد تھی۔
پی۔ٹی۔وی کے دور میں تو شاید وہ کھل کر اپنا ”زنانہ پن“ نہ دکھا سکا مگر پرائیویٹ چینلز کے آنے سے جیسے اس کی لاٹری لگ گئی۔اس کے بعد علی سلیم نے بیگم نوازش علی کا سوانگ رچایا اور اندر کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے کچھ وقت کے لیے ہی سہی مگر عورت بن کر اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل میں لگ گیا۔
اس لحاظ سے آپ علی سلیم کو پاکستان کی پہلی ”ڈریگ کوئین“ کہہ سکتے ہیں۔
اس کے بعد علی سلیم کا یہ زنانہ روپ کئی سال تک کامیابی سے چلا۔اور پھر ایک دن اچانک میڈیا پر خبر چلی کہ علی سلیم ایک نجی گیسٹ ہاٶس میں کچھ مردوں کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں پکڑا گیا۔اور پھر اس خبر کی تصديق ہوئی کہ علی سلیم ایک” ہم جنس پرست“ تھا۔اور وہ میڈیا میں اسی ایجنڈے کو لے کر آگے بڑھ رہا تھا۔وہ نئے آنے والے لڑکوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا تھا تاکہ اپنا نیٹ ورک مضبوط کر سکے۔
اگر آپ اب بھی شوبز انڈسٹری پر گہری نظر رکھتے ہیں تو آپ بڑی آسانی سے یہاں موجود ہم جنس پرستوں کو پہچان سکتے ہیں جن میں ایکٹر ،ڈائرکٹر اور رائٹر تک شامل ہیں۔

علی سلیم سے لے کر مہرب معیز اعوان تک کی کہانی بڑی سادہ ہے۔یہ خواجہ سرا نہیں ہیں اور نہ ہی یہ عورتیں ہیں۔یہ بالکل عام مرد تھے۔لیکن انہوں نے اپنی مرضی سے اپنی مذموم خواہشات کی تکمیل کے لیے یہ راستہ چنا۔
ایک نے اپنی مرضی سے جنس کی تبدیلی کروائی اور عورت بن بیٹھا۔چونکہ بالغ ہونے تک وہ مکمل طور پر مرد تھا اور اس معاشرے کے ڈر کی وجہ سے وہ کھل کر اپنے آپ کو عورت نہیں کہلوا سکتا تھا ۔
لیکن جب پاکستان میں ”میرا جسم میری مرضی “ ٹائپ ہوائیں چلنے لگیں تو ان جیسوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع مل گیا۔
اب یہ شمائلہ بھٹی کے روپ میں چھپنے کے بجائے سب کے سامنے آ چکا ہے۔نام نہاد لبرل طبقہ اسے ”خواجہ سرا“ بنا کر ہر جگہ پیش کر رہا ہے۔تاکہ اسے مظلومیت کا سرٹیفکیٹ دے کر اس معاشرے میں عزت دی جائے۔حالانکہ یہ نہ تو خواجہ سرا ہے اور نہ ہی مظلوم طبقے کی آواز ہے۔
یہ ایک فتنہ ہے جسے باقاعدہ لانچ کیا گیا ہے۔آپ اس کی ویڈیوز دیکھیں ۔۔اس کی گندی اور ننگی باتیں سنیں۔شراب ،چرس اور زنا کو یہ جائز سمجھتا ہے۔یہ مرد اور عورت کے فطری تعلق کو ایب نارمل سمجھتا ہے۔اور ہم جنس پرستی کا بہت بڑا حامی ہے۔
یاد رکھیں خواجہ سرا اور ٹرنسجینڈر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
خواجہ سرا پیدائشی ہوتے ہیں ۔۔اور ٹرانسجینڈر اپنی مرضی سے اپنی جنس تبدیل کروا لیتے ہیں۔اور عورت سے مرد اور مرد سے عورت بن سکتے ہیں۔
سادہ الفاظ میں ٹرانس جینڈر مطلب ٹرانسفر آف جینڈر سمجھ لیں یعنی تبدیلی جنس بذریعہ آپریشن۔
اب اس متنازع ٹرانسجینڈر قانون کی مذمت میں ہم جیسے لوگ لکھیں تو سامنے سے جواب آتا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں یہ وباء ہر جگہ پھیل چکی ہے تو قانون میں ترمیم ہونے یا نہ ہونے سے کیا ہو جائے گا؟
تو عرض ہے کہ جب سے کائنات وجود میں آئی ہے ۔۔یہاں قتل بھی ہو رہے ہیں۔۔چوریاں بھی ہو رہی ہیں۔۔ریپ بھی ہو رہے ہیں اور بچے اغواء بھی ہو رہے ہیں۔۔تو کیا ان تمام جرائم کے لیے ہر قسم کے قانون ختم کر کے مجرموں کے ذہن سے سزا کا خوف ختم کر دیا جائے؟
کیا مجرموں کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیا جائے کہ جاٶ بھئی اب تم دن بہ دن تعداد میں بڑھ رہے ہو سو جو تمہارا دل کرے کرتے رہو؟
سود حلال ہوا ہم چپ رہے۔
شراب گلی محلوں تک آ پہنچی ہم چپ رہے۔
اپنے ہی گھروں میں بچیاں غیر محفوظ ہوئیں ہم چپ رہے۔
ناچ گانا اسٹیج سے ہوتا ہوا ٹک ٹاک کے ذریعے ہمارے گھروں کے کمروں تک پہنچ گیا ہم چپ رہے۔
اور یہ چپ ہمیں لے ڈوبی۔آج ہم کسی بھی معاشرتی جرم کے خلاف کھڑے ہونے کی طاقت کھو چکے ہیں۔
یہ لوگ آج بھی کم تعداد میں ہیں مگر چونکہ یہ ”برائی“ ہیں اس لیے فطری طور پر اچھائی کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں۔نظر آتے ہیں ۔۔مگر یہ پھر بھی ہمارے ایک وار کی مار ہیں۔

سو اپنی مہم جاری رکھیں ۔۔یہاں تک کہ یہ عناصر دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو جائیں۔
وہ قانون جو مسلم لیگ کے دور میں پیش ہوا ۔۔تحریک انصاف کے دور میں منظور ہوا اب ہمارے معاشرتی اور خاندانی ڈھانچے کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔
اس ایکٹ کی چند متنازع شقوں میں ترامیم کے لیے موثر آواز اٹھائیں۔
اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے اس متنازع بل کے حوالے سے فیصلہ کن اجلاس 3 اکتوبر بروز سوموار طلب کر لیا ہے۔
اس لیے ان دو دنوں میں سوشل میڈیا پر اپنا احتجاج بڑھائیں ۔
ترامیم کے حق میں زیادہ سے زیادہ پوسٹس اور ٹویٹس کریں۔

کیونکہ یہ لوگ اس قانون کی آڑ میں اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔اور خواجہ سراٶں کے حقوق کے کھوکھلے نعرے لگا کر اپنی مرضی کے قوانین لانا چاہتے ہیں۔

اپنے بچوں کو ایسے فتنوں سے بچانے کے لیے۔
اپنے خاندانی نظام کی حفاظت کے لیے۔
اور اس گھناٶنے فعل کی بیخ کنی کے لیے سامنے آئیں اور فیصلہ کن کردار ادا کریں۔تاکہ ایسے لوگوں کو لگ پتہ جائے اللہ اور اس کے رسول محمدﷺ کے خلاف جنگ لڑنے والے دونوں جہانوں میں ذلیل اور رسوا ہوں گے۔
ان شاءاللہ العزیز۔

#ناہیداختربلوچ

اپنا تبصرہ بھیجیں