ضلع جہلم کے قصبے پنڈ‌دادن خان میں‌تعلیم ایک خاموش المیہ

[12:19, 28.1.2026]

Guul Bahar Bano:

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا بنیادی ستون ہوتی ہے۔
جس معاشرے میں تعلیم کو نظر انداز کیا جائے وہاں غربت ،جہالت اور بے روزگاری نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔ افسوس کے پنڈ دادن خان جو قدرتی وسائل اور تاریخی اہمیت کے لحاظ سے ایک نمایاں علاقہ ہے ۔آج بھی تعلیمی پسماندگی کا شکار ہے ۔یہ علاقہ معدنی دولت ،محنتی لوگ ،اور زرخیز زمین کے باوجود تعلیمی سہولتوں سے محروم ہے ۔اس علاقے میں مڈل اور پرائمری لیول تک تو سکول موجود ہیں ۔مگر یونیورسٹی اور اعلی تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں ۔جس کی وجہ سے طالبات اعلی تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔ اور خصوصا لڑکیوں کی تعلیم سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ دور دراز علاقوں میں جانے کے لیے والدین کو اپنی بیٹیوں کو آگے بڑھانے سے روک دیتے ہیں۔ اس طرح معاشرے کا آدھا حصہ تعلیم سے محروم رہ جاتا ہے ۔ جو کسی بھی قوم کے لیے خطرناک ہے۔ بن دادن خان جو ضلع جہلم کا ایک بڑا علاقہ ہے۔ بدقسمتی سے تعلیمی میدان میں آج بھی پسماندگی کا شکار ہیں۔ یہاں قدرت نے بہت کچھ دیا مگر جدید اور معیاری تعلیم کی سہولتیں بالکل بھی موجود نہیں ۔۔۔۔

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ مگر پنڈ دادن خان میں تعلیمی اداروں کی کمی دور دراز علاقوں تک رسائی کا مشکل ہونا اور معاشرتی مسائل نے تعلیم کو ایک خواب بنا دیا ہے۔
اعلی تعلیم کے لیے طلبہ کو جہلم لاہور یا دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے جو ہر خاندان کے بس کی بات نہیں۔۔۔
خاص طور پر طلبات کے لیے یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔ سرکاری تعلیمی ادارے محدود ہیں۔ جو موجود ہیں وہاں سہولتیں، اساتذہ اور جدید نصاف کی کمی نمایاں ہے۔ نجی تعلیمی ادارے فیسوں کی وجہ سے عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں ۔ نتیجا غربت، جہالت، بے روزگاری کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ جنم لیتا ہے۔
اگر پنڈ  دادن خان میں معیاری سکول، کالجز اور خصوصی اعلی تعلیم ادارے جیسے یونیورسٹی یا ورچول یونیورسٹی کا کیمپس قائم کیا جائے، تو نہ صرف تعلیم کا معیار بہتر ہو سکتا ہے ۔بلکہ علاقے کے نوجوانوں کو اپنے ہی شہر میں آگے بڑھنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اس سے علاقائی ترقی، شعور اور روزگار کے مواقع بھی فراہم ہوں گے۔ حکومت، منتخب، نمائندوں اور معاشرے کے باشعور افراد کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے ۔کیونکہ جب تک تعلیم عام نہیں ہوگی ۔پنڈادن خان جیسا علاقہ تو کیا کوئی بھی شہر حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔

کیونکہ قائدا اعظم نے بھی فرمایا تھا۔۔۔۔۔
“تعلیم سب سے طاقتور ہتھیار ہے جس سے استعمال کر کے اپ دنیا کو بدل سکتے ہیں”

ضلع جہلم کے قصبے پنڈ‌دادن خان میں‌تعلیم ایک خاموش المیہ“ ایک تبصرہ

  1. میں ورچوئل یونیورسٹی کی طالبہ ہوں ہمارے شہر میں ورچوئل یونیورسٹی کا ایک بھی کیمپس نہیں ہے جس وجہ سے ہمیں اپنے شہر سے بہت دور سفر کر کے جانا پڑتا ہے ایک کیمپس پنڈدادن خان میں بھی بنایا جائے جس سے سب لوگ باآسانی تعلیم حاصل کر سکے

اپنا تبصرہ لکھیں