ہائی اسکو ل اوسلو میں غزالہ نسیم کا لیکچر

 

ہائی اسکو ل اوسلو میں غزالہ نسیم کا لیکچر

غزالہ نسیم ناروے میں پاکستانی نثراد سماجی کارکن ہیں جو کہ ملکی اور قومی سطح پر ایک متحرک  خاتون ہیں آجکل وہ ایک خواتین کی تنظیم آرگنائز کر رہی ہیں۔انکا مقصد ناروے میں بسنے والی  تارکین وطن خواتین کو درپیش مسائل سے نبٹنے کے لیے قوانین اور انکے حل سے روشناس کروانا ہے۔ ضرورت مند بچوں کی دیکھ بھال کا مسلہ بھی یہاں اہم ہے۔یہ ادارہ ایسے بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ادا کرتا ہے جن کے والدین کسی بھی وجہ سے انکی دیکھ بھال نہیں کر پاتے۔ اس سلسلے میں پچھلے دنوں دو انڈین بچوں کو تحویل میں لے لیا گیا جن کے والدین پر یہ الزام تھا کہ وہ انہیں اپنے کمرے میں سلاتے ہیں اور انہیںاپنے ہاتھوں سے کھاناکھلاتے ہیں۔ یہ مسلہ دونوں ممالک کے درمیان تلخی کا باعث بھی بنا ہوا ہے۔تاہم اس ادارے کی ذمہ داریوں کے سلسلے میں کافی ابہام پایا جاتا ہے۔غزالہ نسیم کی آرگنائیزیشن میں ایک پراجیکٹ ان بچوں کی دیکھ بھال کے متعلق بھی ہے۔اسی سلسلے میں غزالہ کو ہائی اسکول اوسلو میں لیکچر کی دعوت دی گئی۔اس کا متن پیش خدمت ہے۔اسکا موضوع تھا غیر ملکیوں کی نظر میں مستحق بچوں کی دیکھ بھال کے ادارے کے بارے میں تاثرات۔لیکچر کا موضوع ان سوالات کے گرد گھومتا تھا۔ہم اس ادارے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟اس کے بارے میں ہمارے کیا خیالات ہیں؟ آپ کیا چاہتے ہیںکہ اس میں کہاں تبدیلی ہونی چاہیے؟یہ لیکچر اس شعبے سے متعلقہ مضمون کے طلباء کو دیا گیا۔اس ادارے کا مقصد بیان کرتے ہوئے غزالہ نسیم نے کہا کہ اس کا ماصل مقصد بچوں کی تربیت میں والدین کی رہنمائی ہے یہ نہیں کہ والدین سے بچے ہی چھین لیے جائیں۔جس انڈین فیملی سے بچے چھینے گئے تھے ان پہ یہ الزام تھا کہ انہوں نے انہیں اپنے ساتھ سلایا اور انہیں اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا۔اس طرح کی تربیت انکی معاشرت اور کلچر کا حصہ ہے۔یہ بات اس ادارے کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا؟بچوں کو ہاتھ سے کھانا کھلانا مشرقی روایات کا حصہ ہے۔آج سے پچاس سال پہلے یہاں ناروے میں بھی بچوں کو والدین اپنے پاس سلاتے تھے۔آج بھی مشرقی ممالک میں بچوں کو اپنے پاس سلایا جاتا ہے۔یہاں جب کہ بچوں کو ایک کمرے میں نہیں سلایا جاتا پھر بھی بچوں کے ساتھ تشدد ے واقعات کیوں پیش آتے ہیں؟پہلے گھروں میں اتنے کمرے نہیں ہوتے تھے کہ بچوں کو الگ کمرہ دیا جاتا۔یہ اس دارے کا فرض ہے کہ دوسرے ممالک خاص طور سے مشرقی ممالک سے آنے والے والدین کو بچوں کی تربیت سے متعلق یہاں کے قوانین بتائیں ۔پھر اگر اس پر عمل  کرنے میں انہیں مشکل پیش آئے انکی رہنمائی کریں ۔ اس کام کے لیے غیر ملکیوں کو ہی چنیں جو دونوں ممالک کے کلچر کو پہچانتے ہوں۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ مستحق بچہ جس فیملی سے لیا جاتا ہے اسے اسی کی فیملی کے کسی ممبر کو دیا جائے یا اسی کلچر ل پس منظر رکھنے والے خاندان کو دیکھ بھال کے لیے دیا جائے۔دوسرے کلچر میں جا کر بچے بگڑ جاتے ہیں انکی دیکھ بھال صحیح طریقے سے نہیں ہو پاتی۔اگر کسی بچے کو کوئی مسلہ درپیش ہو اور وہ اسکول میں یا دوستوں سے یہ کہے کہ میں خوش نہیں ہوںتو ضروری نہیں کہ وہ بچہ سچ کہہ  رہا ہو۔بچے جھوٹ بھی بول سکتے ہیں۔جب اسکولوں میں بچوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ تم پنا فیصلہ خود کر سکتے ہو والدین کو مارنے کا حق نہیں۔ بچے وہیں بگڑ جاتے ہیں وہ والدین کی عزت نہیں کرتے۔پھر وہ آزادی کی خاطر جھوٹ بھی بول سکتے ہیں۔بچوں پہ اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔بلکہ کسی آگنائیزیشن کے ذمہ دار ممبر کو بلا کر بچے کا مسلہ فیملی ممبر کے ساتھ بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ہماری آرگنائیزیشن میں بچوں کے مسائل کے حل کے لیے رہنمائی دی جاتی ہے۔اس لیے کہ ہم لوگ دونوں کلچرز کو جانتے ہیں۔مسائل کا حل غیر جانبدار لوگوں کو کرنا چاہیے۔ایک ایسے ہی کیس میں ایک پندرہ سالہ لڑکی نے شکائیت کی کہ والدین میرا ارشتہ زبردستی کرنا چاہتے ہیں۔اسکی حفاظت کے لیے مدد کی جائے۔ ہو سکتا ہے کہ  وہ لڑکی بھی آزادی چاہتی ہو۔اسے یہ نہیں پتہ کہ اگر وہ ایک مرتبہ اس ادارے کی تحویل میں چلی گئی تو پھر اسے واپس  والدین کے پاس نہیں جانے دیا جائے گا۔یہ ذمہ داری بھی ایسی آرگنائیزیشنز کو دینی چاہیے جو اس سلسلے میں کام کر رہی ہیں۔ وہ والدین کو سمجھا سکتی ہیں کہ انہیں کیسا رویہ رکھنا چاہیے۔ اس ادارے کو چاہیے کہ ایسے والدین کو ایک چانس دیںسنبھلنے کا ۔پھر اگر بچہ لینا ناگزیر ہو جائے تو جو بچہ جس پس منظر کا ہو اسے اسی جیسے پس منظر کے مالک خاندان کے حوالے کرنا چاہیے۔ان عارضی اور منہ بولے والدین کو کورسز کروانے چاہیئں۔یہ ہماری آرگنائیزیشن کا بھی ایک پراجیکٹ ہے ۔ اس میں ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ایسے والدین کے لیے درمیانہ راستہ نکالیں گے۔مشرقی اور مغربی کلچر میں بہت ذیادہ فرق ہے۔عادات و اطوار اتنی جلدی نہیں بدل پاتے۔ اس کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔تارکین وطن کو چاہیے کہ وہ یہاں کے ماحول کو سمجھیں۔اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہاں کی زبان کو سمجھیں۔ زبان کلچر کو سمجھنے کی چابی ہے۔زبان پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔اس مسلہ کو سب مل کر حل کریں۔ ثقافتی مسائل کو سمجھنے کے لیے ہماری یا کسی بھی اور متعلقہ آرگنائیزیشن کی رہنمائی حاصل کریں۔اس طرح ایک کامیاب معاشرہ بننے میں مدد ملے گی۔اس مضمون میں بھی دوسرے کلچر کے طالبعلموں کو داخلہ ملنا چاہیے۔جبکہ ہائی اسکول نے اس مضمون میں داخلے کا معیار بہت ذیادہ رکھا ہوا ہے۔یہاں اس کلاس میں ایک بھی طالبعلم دوسرے کلچر سے نہیں ہے۔بچوں کے دیکھ بھال کے ادارے مین ایک مشیر کی بھی  آسامی ہوتی ہے  اس میں دوسری بیک گرائونڈ کے لوگ آنے چاہیں۔یہ بات لوگوں کے علم میں نہیں ہے۔اس کے لیے معلومات غیر ملکیوں کو پہنچانی چایہے۔

2 تبصرے ”ہائی اسکو ل اوسلو میں غزالہ نسیم کا لیکچر

  1. I have gone through the lecture of Madam Ghazala naseem and found her a woman of kind and sympathatic nature and keep smart eyes over matters related to women and children as well that encompasses the rehabilitation to some extend.
    akber khan from pakistan

اپنا تبصرہ لکھیں