مسلک

فجر کا وقت تھا، اذان کی آواز آرہی تھی۔ میں گھر سے نماز کے لیے باہر نکلا۔ ایک حضرت ہری ٹوپی پہنے بلڈنگ کے گیٹ پر کھڑے تھے، کہنے لگے کہاں جارہے ہو، میں نے کہا سامنے مسجد میں نماز پڑھنے ، کہنے لگے جہنم میں جائو گے، جماعتی لوگوں کی مسجد ہے، میں بریلی شریف سے ہوں میرے ساتھ سنی مسجد میں چلو، ہم سچے مسلمان ہیں ، میں حضرت کے ساتھ چلنے لگا، سامنے سے ایک حضرت بہت تیزی سے قدم بڑھاتے ہوئے میرے پاس آئے کہنے لگے کہاں جارہے ہو میں نے کہا سنی مسجد میں حضرت کے ساتھ نماز پڑھنے جارہا ہوں، کہنے لگے تم تو ہماری مسجد میں نماز پڑھتے ہو، مجھے دیکھو میں کتنی دور سے تین مسجد چھوڑ کر یہاں نماز پڑھنے آتا ہوں، یہاں جماعتی لوگوں کا قافلہ بھی آتا ہے، چلو میرے ساتھ ہماری مسجد میں نمام ادا کرو، دونوں میں بحث ہونے لگی وہاں ایک قادیانی (جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ،راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں ) جو ایسے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں وہاں سے گزر رہا تھا اس نے کہا جھگڑا مت کرو ابھی ایک پیغمبر اور آنے والے ہیں چلو تم تینوں احمدی مسجد میں چل کر نماز پڑھو بعد میں سمجھاتا ہوں، وہاں ایک اہلحدیث جماعت کا آدمی دودھ لینے آیا ہوا تھا اس نے کہا کہیں مت جانا ان سب کو باہر کے ملکوں سے پیسہ آتا ہے میرے ساتھ اہلحدیث مسجد میں چلو وہاں قرآن و حدیث پر عمل کرنا اور غلط رسم و رواج بے جا عقیدے بے معنی باتوں سے پرہیز کرنا بتایا جاتا ہے۔ چاروں طرف سے وہ لوگ مجھے کھینچنے لگے، جھگڑا شروع ہوگیا، چاروں نے آستین چڑھالی، چاروں لوگوں نے مجھے اپنی اپنی مسلک کی مسجد میں لے جانے کے لیے ہاتھا پائی شروع کردی، دھکا مکی میں دودھ والے کا دودھ گر گیا، چاروں کو چوٹیں آئیں ، میں گھر لوٹ آیا اور گھر میں نماز ادا کی۔ نماز پڑھنے والے کا مسلک ہی نہیں مگر آج ہر مسجد کا اپنا ایک مسلک ہوتا ہے۔ مسجد یا تو سنی ، دیوبندی یا شیعہ کی ہوتی ہے میں نے آج تک کوئی مسلمان مسجد نہیں دیکھی۔
آصف پلاسٹک والا
ربانی ٹاور، آگری پاڑہ، ممبئی11-
9323793996

اپنا تبصرہ لکھیں