شہر کا شہر مسلمان

مسلمان بنانے کی پرتشددتحریک اسلام کی روح کوگھائل کررہی ہے
صابررضارہبر
عالم اسلام آج تاریخ کے جس نازک دورسے گزررہاہیوہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ کل تک پوری دنیامیں اہل اسلام کوغیور،امن پسند اور منصف مزاج کے طورپرجاناجاتا تھاآج تخریب کار، انتہاپسند،قاتل اورغیرانسانی سلوک روارکھنے والے کیطورپراس کی شناخت قائم ہوتی جارہی ہے۔کچھ نام نہاداسلامی تنظیموںکی تخریب کاری نے نہ صرف اسلام بلکہ مسلمانوںکوپوری دنیامیں رسواکردیاہے۔ اسلامی وضع قطع کودقیانوسیت اورسفاکیت سیتعبیر کیاجا نے لگاہے۔ دعوت وتبلیغ کی من گڑھت تعبیرات نے مسلمانوںکے خون کوہی جائز قراردیدیاہے۔وہ اسلام جو غیروںپر زوروجبرکی اجازت نہیں دیتا بلکہ اس کاہرطرح کاخیال رکھنے کی تاکیدکرتاہے آج اسی کے ماننے والے مسلمانوںکے خون کوصرف اس بنیادپرجائز قراردے رہے ہیں کہ وہ ان کے من گڑھت تعبیرات پرمبنی نظریات کوقبول کرنے کیلئے تیارنہیں ہے۔
پاکستان ،افغانستان ،عراق اورشام میں برسرپیکارتنظیموںکا تعلق اسی گروہ سے جو اپنے مخصوص نظریہ توحید پرپوری دنیاکوجمع کرنا چاہتا ہے۔اس کے نزدیک ان کے وضع کردہ توحیدخالص کامنکردائرہ اسلام سے خارج ،ان کاخون جائزاوران کے اموال مال غنیمت ہیں۔مقامات مقدسہ شرک کے اڈے ،اپنے نبی پاک پر مودب اندازمیں تسلیم پیش کرنے والا مشرک اورمصیبت کی گھڑی میں مسیحائے کونین ۖکو پکارنے والا غیرموحدہے۔پاکستان وعراق میں مقامات مقدمہ کی بے حرمتی ،عیدمیلادالنبیۖ کے جلوس میں بم دھماکے ،مسجدوںمیں نمازیوںکی لاشیں بچھادینا اورراہ چلتے علمائے کرام کوگولیوں اوربموںسے اڑادینا آخرکس اسلام کی تبلیغ ہے ؟اسلام نے توجانوروںکے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آنے کا حکم دیاہے ،پڑوسی یہودی کا اس درجہ خیال رکھنے کا حکم دیاکہ اگر وہ رات میں بھوکاسوجائے اوراس کا پڑوسی مسلمان شکم سیرہوکرسوئے تو اس کا کھانا اس وجہ سے حرام ٹھہراکہ اس نے اپنے پڑوسی کا خیال نہیں رکھا۔
برما،افریقہ اورسری لنکاسمیت غیرمسلم ممالک میں مسلمانوںکوتہہ تیغ کیاجاتاہے تو ہم چیخ اٹھتے ہیں لیکن اس کا کیاجواب ہے کہ خودمسلم ممالک میں مسلمان غیرمحفوظ ہیں؟وہاںمسجدوںمیں دھماکے کیوںہوتے ہیں ؟وہاں خون مسلماں کی ارزانی کیوںہے؟
پاکستان کی صورت حال تو اتنی نازک ہے کہ وہاںلوگوںکا گھرسے نکلنا مشکل ہوگیا ہے ۔مسلکی تشددایک ناسورکی حیثیت اختیارکرچکا ہے ۔موقع ملتے ہی ایک دوسرے مسلک کے افرادکی جان لیلینا معمول کی بات ہوگئی ہے۔گھرسے نکلتے وقت یقین کے ساتھ اہل خانہ سے یہ کہنا مشکل ہوجاتا ہے کہ شام تک سلامت گھرلوٹ آئوںگاکیوںکہ
جانے کب کون کسے ماردے کافرکہہ کے
شہرکاشہرمسلمان ہواجاتاہے
مملکت خدادادمیں ایسی ناقابل یقین صورت حال سے گزررہے اہل اسلام پرجوقیامت ٹوٹ رہی ہے اسے آسانی کے ساتھ محسوس کیاجاسکتا ہے لیکن وہاں کاحکمراں طبقہ ان کے زخموںکے علاج کیلئے سنجیدہ نظرنہیں آرہا ہے۔بے گناہ افرادایک ساتھ مسلکی تشدداورسیاست کے بھینٹ چڑھ رہے ہیں اورسامراجی قوتیں اپنی کامیابی پرمسکرارہی ہیں۔پاکستان کیوزیرستان میں جاری فوج کے آپریشن نے لاکھوںافرادکے سروںسے سایہ چھین لیا، کتنے بچے اورمریض آب ودانا کے بغیردم توڑدے جبکہ فوج کی کارروائی میں طرفین سے نہ جانے کتنی لاشیں گریں گی۔سوال یہ ہے کہ مملکت خدادادمیں ایک خالص اسلامی گروپ (جیساکہ طالبان کادعوی ہے) کے خلاف اتنا سخت فیصلہ لینے کی ضرورت کیوںپڑگئی ؟وہاں تو سب کچھ اسلامی احکام کے مطابق ہوناچاہئے تھا۔مسلم معاشرہ کی پاگیزگی کی اوراتحادامت کی پوری دنیامیں قسم کھائی جانی چاہئے تھی ۔
یہ بہت بڑی کم نصیبی کی دلیل ہے کہ پیغمبراسلام اوران کے جانشینوں نے قیادت ورہنمائی کاعملی نمونہ پیش کردیا ،پوری دنیاکوقیادت کے مفہوم سے آشنا کیا لیکن ان کے پیروکارآج خودفریبی میں اس قدراندھے ہوگئے ہیں کہ انہیں پانی وخون میں فرق بھی نظر نہیں آتا۔اسلام میں مسلکی تنازع کی تفریق توحضرت ابوبکرکے زمانے میں ہی پڑچکی تھی لیکن حضرت علی کے زمانے میںجنم لینے والے خارجیت پسندگروہ نیاسلام کوسب سے زیادہ نقصان پہنچایااورآج بھی اسلام کینام پرپوردنیا میں خارجیت کی یلغارجاری ہے۔
اسلام توامن وآشتی کاپیامبربن کرجلوہ گرہوا اورہرطرح ظلم وزیادتی کے شکارانسانوںکیلئے نہ صرف مسیحابلکہ مسیحاگرثابت ہوا۔اونچ نیچ اورکالے گورے کے مابین پائی جانے والی خونی لکیروںکومٹاتے ہوئے انسانیت اورتقوی کی بنیادپرشخصیت کی امتیازکاخاکہ پیش کیا۔جغرافیائی تصادم ،قبیلہ اوررنگ ونسل کی بنیادپرانسانی معاشرے میں پائی جانے والی نفرتوںکاقلع قمع کرتے ہوئے امن وانصاف کا پرچم لہرایا ۔فاران کی چوٹی سے طلوع ہونے والا سورج اپنے ساتھ ایساسویرالایا جس نے اپنی کرنوںسے دنیائے انسانیت کے ذرے ذرے کوروشن کردیا۔یہی وہ لیلائے حقیقت تھی جس نے اپنے اوربیگانے کوبڑی تیزی کے ساتھ اسلام کے زلف گرہ گیر کا اسیربنادیاتھا۔محض برس کی قلیل مدت میں مذہب اسلام کاعرب کیحدودکوپارکرجانا اس کی حقانیت کی بین دلیل ہے۔
اسلام دنیا کا پہلا مذہب ہے جس نے اپنی وسعت کیلئے طاقت وقوت کے استعمال کوممنوع قراردیا۔ انسانی عظمت کا اتنالحاظ کہ آقاوغلام کے درمیان تفریق کواس طرح ختم کرنے کی کوشش کی کہ آقاجب کھاناکھانے بیٹھے توغلام کواپنے ساتھ کھلائے خواہ ایک ہی لقمہ کیوںنہ ہو۔راہ سے تکلیف دہ چیز کوہٹانااسلامی ایمان کا ادنی درجہ ٹھہرا۔ایک دوسرے کومعافی پرابھارنیاورباہمی تعاون کینسخہ کیمیاکورواج دینے کیلئے آخرت کا محسوساتی تصورپیش کیا ۔اسلام کے تصورآخرت پر اگر غور کیاجائے تو یہ بات ازخودمنکشف ہوجاتی ہے کہ اس نے آخرت کا ایسا تصورپیش کیا جس کے آئینے میں انسان اپنے ہاتھوںاپنی تقدیرلکھتا نظرآتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس مسلمان کے دل میں اسلام کی سچی روح بستی ہے وہ کسی انسان توانسان جانورکوبھی بیسبب تکلیف نہیں دیتا ۔جنگ میںبھی بچوں،عورتوںاورضعیفوںکوقتل نہ کرنے اورہرے بھرے کھیتوںکوبربادنہ کرنے کی تلقین نے ہی اسلام کی عظمت کوغیروںکے دلوں میںبھی گھرکردیاتھا ۔
اسلام نے مسلمانوںپردعوت وتبلیغ کولازمی قراردیالیکن اس میں جبرواکراہ کوجگہ نہیں دی بلکہ حکمت وبہترین نصیحتوںکے ساتھ اسلام کی دعوت کا نظریہ پیش کیاجو اسلام کی دعوت قبول نہ کرے اس پرکسی طرح زوروزبردستی کی گنجائش نہیں رکھی ۔لیکن یہ اسلامی تبلیغ کی کون سی شکل ہے جہاں منکرین کی گردن اڑانیدینے کی اجازت دیدی جاتی ہے۔بموںاوردیگرمہلک ہتھیاروںسے شہرکاشہربربادکردیاجاتا ہے۔میں آج تک نہیں سمجھ سکاکہ یہ کون سی اسلامی تحریک ہیجس کے نزدیک خواتین کوتعلیم حاصل کرنے کاحق حاصل نہیں ہے جبکہ اسلام نے مردوعورت دونوںپر تعلیم کوفرض قراردیا۔ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے توطلب علم کی فرضیت میں مردوخواتین کویکساں طورپرشامل کیاوہا ںتودینی ودنیاوی علوم کی تفریق بھی نہیں فرمائی ،پھریہ کون سااسلام ہے جس میں لڑکیوںکوزیورتعلیم سے آراستہ ہونے کی اجازت نہیں ۔ملالہ یوسف زئی کیدماغ میں اسی لئے گولیاںاتار دی گئیں کیوںکہ وہ کچی عمرمیں ہی لڑکیوںکوحصول تعلیم کیلئے ابھاررہی تھی اور لڑکیوںکوتعلیم سے محروم کرنے والے گروہ کی مخالفت کررہی تھی ۔
نظریات کا اختلاف فطری ہے لہذا سے مستردنہیں کیاجاسکتا ہے اس لئیہرشخص کواپنا نظریہ قائم کرنے کاحق ہیلیکن اسے زبردستی کسی پرتھوپنے کی اجازت ہرگزنہیں دی جاسکتی ۔کیوںکہ سماج میں تصادم کی صورت اسی وقت پیداہوتی ہے جب کوئی انسان یا گروہ اپنا مخصوص نظریہ دوسروںپرتھوپنا چاہتا ہے ،چوںکہ یہ طریقہ غیرفطری ہوتاہے اس لئے یہ نظریاتی تصادم دھیریدھیرے خونی جنگ کا روپ دھارلیتاہے۔میں اخیرمیں دعوت کے نام پر جان نچھاورکرنے والے توحیدپسندوںسے گزارش کروںگاکہ آپ چوںکہ بنام اسلام اپنی شناخت کروارہے ہیں اسلئے کم ازکم اسلام کے مکی ومدنی اصولوںکی توپاسداری کیجئے۔ جوآپ کے نظریات کومستردکردے ؛بیشک انہیں اپنی جانب مائل کرنے کیلئے اخلاقیات کے دائرے میں رہ کرہرنسخہ آزمائیے لیکن للہ کسی کاخون مت بہائیے ۔مسجدوںکومقام عبادت کی بجائے انسانی لاشوںکی اجتماعی قبرمت بنائے۔اگروہ آپ کی نگاہ میں کافرہیں پھربھی اسلام میں اس کے خون کی حرمت برقرارہے ۔دنیاتوصرف اتناجانتی ہے کہ مارنے اورمرنے والادونوں کاتعلق اسلام سے ہیاوران میں سیایک دہشت گرد ہییعنی ہرصورت میں بدنامی اسلام کی ہے۔

rahbarmisbahi@gmail.com
9470738111

Vedleggsomrde
Forhndsvis vedlegget Sabir Raza Rahbar.tif
Bilde
Sabir Raza Rahbar.tif

اپنا تبصرہ لکھیں