شریف اکیڈمی جرمنی فرینکفرٹ کے زیر اہتمام عید ملن پارٹی اور مشاعرہ

پروگرام کی صدارت شاعر ادیب اور دانشور اقبال حیدر نے کی جبکہ مہمان خصوصی سماجی رہنما محمود سعید تھے
محترمہ فہمیدہ مسرت اور محترمہ عشرت مٹو بطورمہمان اعزاز اسٹیج پر جلوہ افروز تھی
پروگرام کے نظامت کے فرائض محترمہ طاہرہ افضل نے سرانجام دیئے

۔۔۔۔۔۔
(ڈایریکٹر میڈیا ۔شریف اکیڈمی )پروگرام کے آغاز میں مہمانان گرامی کو ان کے تعارف کے ساتھ اسٹیج پر متمکن ہونے کی دعوت دی گئی اور پروگرام کی ترتیب و پیشکش پیش کی گئی اس کے بعد حسب روایت علم و ادب کے فروغ کے عزم کا اظہار کرنے کے لیے علم کی شمع روشن کی گئیں جس کی سعادت صدر محفل اقبال حیدر کو حاصل ہوئی ۔جس کے بعد پروگرام کی ترتیب پیش کی گئی ۔ محترمہ فہمیدہ مسرت میں شفیق مراد کو پھولوں کا بکہ پیش کیا اور اپنی کتاب کر بِ نارسائی بصداحترام پیش ۔متعدد کتابوں کے مصنف اور محقق خورشید علی نے انسانی رویوں پر دو کہانیاں پیش کیں جسے سامعین نے نے ہمہ تن گوش ہو کر سنا اور بہت پسند کیا ان کہانیوں میں شعورذات اور آگہی کا پیغام تھا اس کے بعد تمام دوستوں کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی۔ خالد شبیر نے کہا کہ پیارے آقا و مولا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے اس سے یہ مراد ہے کہ ہمیں علم حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کی سہولتیں اور سفر کی صعوبتیں اور تکلیف برداشت کرنےکے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ سماجی رہنما اورتنظیم ۔ہم ہیں پاکستان ۔ کے جنرل سیکٹری اسداللہ طارق نےکہا کہ آنے والی نسلوں کو نہ صرف جرمنی بلکہ اردو پر بھی عبور حاصل ہونا چاہیے انہوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان سے اردو نصاب سے متعلقہ کتب لانے کے لئے اپنی خدمات ادا کرنے کو تیار ہیں ۔ ہم ہیں پاکستان کے چیئرمین محمود سعید نے کہا ہماری اولین کوشش ہے کہ پاکستان کا نام روشن کریں۔ شریف اکیڈمی کے مقاصد کے حصول کے لیے ہم ہر قسم کا تعاون کرنے کو تیار ہیں ہیں چنگاری ڈاٹ کام کے ایڈیٹر دانیال رضا نے کہا کہ علم و ادب کی خدمت ذاتی مفاد و مقاصد سے بلند ہوکر کرنی چاہیئے اور تمام تنظیموں کو مل کر اس میں اپنا حصہ ادا کرنا چاہیے۔ خالد رشید نے جرمنی میں جرمن زبان کے سیکھنے سکھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کے لیے ایک طریقہ کار ہونا چاہیے اس موقع پر شفیق مرادنے اسٹیج پر آ کے کہا کہ پاکستانی بچوں نے یوٹیوب پر اردو زبان سکھانے کے لیے چینل تیار کر رکھا ہے اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ ان بچوں کی ماں یہاں موجود ہیں ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں اور انہوں نے محترمہ صائمہ کمال کو اسٹیج پر مدعو کیا ۔عشرت منٹو نے نپولین کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا انہوں نے کہا کہ قوموں کی ترقی میں ماں کا کردار بہت اہم ہے لہٰذا ماؤں کو اپنے بچوں کی تربیت پر خاص توجہ دینی چاہئے بعد ازاں اقبال حیدر نے اپنے خطاب میں علم کے پھیلاؤ پر زور دیا اور کہا کہ ہم کچھ ذمہ داریاں پاکستان سے لے کر آئے تھے اور جب یہ ذمہ داریاں نبھا چکے تو علم وادب کے فروغ کےلیے حلقہ ادب کی بنیاد رکھی اور عرفان خان صاحب بھی ہمارے ساتھ شامل تھے انہوں نے نے ماں کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ باپ کی ذمہ داریوں پر بھی توجہ دلائی اس طرح پروگرام کے پہلے حصے کا اختتام ہوا ۔

شریف کیڈمی جرمنی کے زیر اہتمام شائع ہونے والی کتاب ۔شہر سخن ۔محترم اقبال حیدر کو پیش کی گئی جب کہ محترمہ فہمیدہ مسرت کو شریف اکیڈمی کے زیر اہتمام شائع ہونے والی کتاب۔ ہمارے سخنور۔ جو کہ انتخاب کی کتاب ہے پیش کی گئی اسی طرح محترمہ صائمہ کمال کو انتخاب کی کتاب ۔تیری آنکھیں۔ پیش کی گئی۔ حب الوطنی کی بنیادوں پر قائم ہونے والی تنظیم کے چیئرمین محمود سعید کوانکی خدمات کے اعتراف میں سند پیش کی گئی ۔ جو اقبال حیدر اور شفیق مراد نے پیش کی ۔شریف اکیڈمی کی نئی مجلس عاملہ کو اعزازی اسناد بدست اقبال حیدر اور محمود سعید پیش کی گیئں ۔ محمد سلیم بھٹی کو بطور صدر محترمہ عائشہ طارق کو بطور نائب صدر اورمحترمہ طاہر فضل کو بطورجنرل سیکٹری اعزازی اسناد سے نوازا گیا جس کے بعد مشاعرے کا آغاز ہوا۔ مشاعرے میں عطاءالرحمن اشرف ۔امتیاز احمد ۔سلیم بھٹی ۔آفتاب حسین ۔عشرت مٹو ۔ فہمیدہ مسرت۔ شفیق مراد اور اقبال حیدر نے اپنا کلام پڑھ کر سامعین کی سماعتوں کومعطر کیا اور اس طرح یہ محفل اپنے اختتام کی جانب رواں دواں ہوئی بعد میں فوٹو سیشن ہوا اور تمام مہمانوں کی خوردونوش سے تواضع کی گئی ۔

اپنا تبصرہ لکھیں