خوبصورت تاریخی شہر غرناطہ میں

سفر نامہ اندلس قسط ۱۔

عارف محمود کسانہ


کوویڈ کی صورت حال کچھ بہتر ہوئی اور یورپ میں سفری آسانی کے لئے ویکسین سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد گرمیوں کی چھٹیوں میں میں کہیں جانے کا سوچ رہے تھے کہ بیٹے حارث نے سپین کے علاقہ اندلس کی سیر کی تجویز دی۔ چار سال قبل ہم نے اندلس کی سیاحت کی تھی جس کے دوران قرطبہ، غرناطہ اور مالاگا جانے کا اتفاق ہوا تھا مگر پھر بھی تشنگی ابھی باقی تھی کیونکہ اندلس کے بہت سے اہم مقامات ہم نہیں دیکھ سکے تھے۔گذشتہ دورہ میں قبل از وقت ٹکٹ نہ لینے کی وجہ سے ہم الحمراء نہ دیکھ سکے اور سچ پوچھئے تو الحمراء ہی اندلس کا سب سے بڑا اور اہم مقام ہے جسے دیکھنے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔علاوہ ازیں اشبیلیہ(سویا) اورجبل الطارق (جبرالٹر) بھی ہم نہیں جاسکے تھے اس لئے یہی طے پایا کہ ہم ایک بار اندلس ہیں اور مسلم عہد کی تاریخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ہمارا سہ رکنی وفد جس میں میری اہلیہ اور بیٹا شامل تھا، سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم کے ہوائی اڈہ سے سپین کے خوبصورت ساحلی شہر مالا گا پہنچے۔ مالاگا کا کبھی عربی نام مالقہ ہوتا تھا۔ مالا گا کے بین الاقوامی ہوائی اڈہ پہنچنے پر کوویڈ کی وجہ سے خوب جانچ پڑتال کی گئی اور ہمارے کورونا ویکسین کے سرٹیفکیٹ دیکھنے کے بعد داخلہ کی اجازت ملی۔ سویڈن سے روانہ ہونے سے قبل ہم اپنے لئے کار بک کروا رکھی تھی۔ ہم جونہی ہوائی اڈہ سے باہر نکلے تو کرایہ پر کار دینے والی کمپنی کا ملازم ہمارے نام کی تختی لئے کھڑا تھا اور بہت خوش مزاجی سے ہمارا استقبال کیا، اس نے گاڑی کی چابی ہمارے حوالے کی اور کہا کہ سپین کا دورہ مکمل کرکے گاڑی یہیں ہوائی اڈہ پر کھڑی کرکے جاسکتے ہیں۔ ہم نے اس کا شکریہ ادا کیا اور کچھ ہی دیر بعد ہماری گاڑی مالاگا سے غرناطہ کی طرف فراٹے بھر رہی تھی۔ سپین کی موٹر وے بہت شاندار ہیں اور ہمیشہ وہاں گاڑی چلانے کا پر لطف احساس ہوا ہے۔ موٹر وے کے اطراف روشنی منعکس کرنے والے یوں لگے ہوئے ہیں کہ رات کو بھی گاڑی چلانا بہت سہل ہوتا ہے۔ مالاگا سے غرناطہ ایک سو تیس کلومیٹر ہے جو ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوگیا اور ہم اپنے ہوٹل میں پہنچے۔ ہمارا ہوٹل غرناطہ شہر کے قدیمی اور تاریخی علاقہ میں واقعہ تھا۔ ہوٹل ایک تاریخی عمارت میں واقعہ تھا اور اسے پر آسائش بنایا گیا تھا۔ ہوٹل تک پہنچنے کا راستہ یک طرفہ اور تنگ سڑک کی صورت میں تھا جو گوگل نیویگیشن کے بغیر سہل نہ تھا۔ ہوٹل استقبالیہ پر

موجود خاتون نے خوش خلقی سے ہمارا استقبال کیا اور ضروری معلومات سے آگاہ کیا۔


اندلس کی سیاحت کے دوران ہم نے تمام دنوں اسی ہوٹل میں ہی قیام کرنا تھا۔ دن کو اندلس کے مختلف مقامات کی سیر کرکے واپس شب باشی اسی ہوٹل میں کرنا تھی۔ اندلس کے اس دورہ میں غرناطہ میں مختلف تاریخی مقامات کے علاوہ اشبیلیہ میں القصر، مالا گا، جبل الطارق اور ماربیا جانے کا منصوبہ بنایا شامل تھا۔ ہم نے اپنی سیاحت کا آغاز غرناطہ شہر سے کیا۔
غرناطہ سپین کے صوبہ گرینیڈا کا دارالحکومت ہے۔ یہ شہر چار دریاوئں اور سپین کے سب اونچے پہاڑ ملحسن کے دامن میں واقع ہے جو سپین کے آخری سے پہلے مسلمان حکمران مولائے حسن کے نام پر ہے۔اس موجودہ نام سیرا نیواداہے۔ یہاں 1996میں عالمی سکی چیمپئن شپ کے مقابلے ہوئے تھے۔ نیوادا کے نام سے غرناطہ میں بہت بڑا شاپنگ مال بھی ہے جہاں سے ہمیں شاپنگ کا بھی موقع ملا۔ غرناطہ نیم پہاڑی اور سربز شہر ہے۔ انار، زیتیون اور دوسرے پھل دار درخت یہاں بکثرت ہیں۔260 سالہ مسلم دور حکومت جو 1232 سے 1492 تک رہا، اس شہر میں بہت ترقی کی۔یہ علم و ادب، سائنس اور فنون لطیفہ کا مرکز تھا۔ یہاں ایک یونیوسٹی، کئی تعلیمی ادارے اور ستر کے قریب لائبریریاں تھیں۔ شہر کے قدیم علاقے کو دیکھ کر اس دور کے فن تعمیر اور ہنر مند ہاتھوں کو بے اختیار داد دینا پڑی ہے۔
غرناطہ میں صرف الحمراء ہی دیکھنے کے لائق نہیں ہے بلکہ اور بھی کئی اہم تاریخی مقامات ہیں اور اگر کوئی غرناطہ جا کر وہ نہیں دیکھ سکا تو سمجھیں کہ دورہ نامکمل رہا۔غرناطہ شہر میں مسلم دور کے چار مقامات ہیں جو فن تعمیرکا شاہکار ہیں وہاں محرابیں اور خوبصورت نقش و نگار ہیں جن میں آیات قرآنی بھی شامل ہیں۔ یہ چاروں مقامات غرناطہ شہر کے اندر ہیں۔ شہر میں ہی ایک یادگار ہے جس پر ملکہ ازابیلہ اور کولمبس کا بہت بڑا مجسمہ بنایا گیا ہے۔ سقوط غرناطہ کے بعد بادشاہ فرڈینینڈ اور اس کی ملکہ ازابیلہ نے قبضہ کیا تھا ور کولمبس بھی ان کے ساتھ تھا۔ کولمبس کو امریکہ دریافت کرنے کے لئے وسائل چاہییے تھے جو غرناطہ فتح کی خوشی میں ملکہ نے اسے عطا کئے۔ یہ یادگار اسی کی عکاسی کرتی ہے۔ الحمراء کے بالکل قریب مقبرہ روضہ غرناطہ یعنی مسلم قبرستان ہے جہاں ان شہیدوں کا لہو ہے جنہوں نے یورپ کی اس آخری ریاست کو بچانے کے لئے اپنا خون دیا۔ یہاں بہت سی گمنا م قبریں بھی ہیں جنہیں ہم آج نہیں جانتے لیکن ان کا غرناطہ سے گہرا تعلق تھا۔ اسی قبرستان میں عالم اسلام اور پاکستان کی ایک عظیم شخصیت علامہ محمد اسد بھی آسودہ خاک ہیں۔ وہ آسٹریا کے ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے لیکن اسلام قبول کرکے محمد اسدکہلائے۔ 1932 ء میں علامہ اقبال سے ملاقات ہوئی اور ان کی فکر کے گرویدہ ہوگئے۔ان کی علمی اور خدمات میں قرآن حکیم کا انگریزی ترجمہ بھی شامل ہے۔قائد اعظم ان پر بہت اعتماد کرتے تھے اور وہ پہلے غیر ملکی تھے جنہیں پاکستان کی شہریت دی گئی۔انہوں نے پاکستان کے آئین کو اسلامی اصولوں کے مطابق بنانے میں اہم کرادر ادا کیا۔ وہ وزارت خارجہ میں ڈپٹی سیکریٹری اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر بھی رہے۔ اس قبرستان کے اندر آنے کے لئے مخصوص اوقات کار ہیں اس لئے اپنے گذشتہ دورہ میں وقت کی قلت کے باعث اندر ٓنے کا موقع نہ ملا لیکن اس بار التزام کے ساتھ یہ طے کیا کہ ان کی محمد اسد کی قبر پر جاکر عالم اسلام اور پاکستان کے اس عظیم راہنما کے لئے فاتحہ خوانی کریں گے۔ اس تاریخی قبرستان میں کچھ دیر کھڑے رہنے پر ذہن چھ صدیاں پیچھے چلا گیا اورسقوط غرناطہ کے واقعات میں کھو گیا۔ (جاری)

اپنا تبصرہ لکھیں