حدیث سے کیا مرادہے

hadis ۔ ناروے نبیلہ رفیق
Nabila rafiq
۔
ع۔ سلام اُس پر جو بن کر آیت الرحمان اُترا ہے ۔۔وہ دکھلاتا ہوا بے راہروں کو راہ اُ ترا ہے ۔
حدیث ایک عربی لفظ ہے ، جس کے معنی ہیں کہ ٫٫ ایسی بات جو یا تو بالکل ہی نئی ہو یا نئے انداز سے پیش کی گئی ہو ۔
حدیث کی یہ تعریف آنحضور ۖ کے دہن ِ مبارک سے نکلی ہوئی ہربات پر پوری اترتی ہے ، جبھی تو آنحضورۖ کے مبارک کلام کو
اسلامی اصطلاح میں ، حدیث کا نام دیا گیا ہے ۔ یا اس طرح بھی کہا جا
سکتا ہے کہ حدیث اس مقدس کلام کا نام ہے جو ہمارے آقا آنحضور ۖ ( فداہ نفسی ) کی مبارک زبان سے نکلا یا جس میں آپ کی پاکیزہ زندگی کا کوئی چشم دید واقعہ یا صحابہ کرام کے کسی سوال کے جواب میں کہی گئی کوئی بات شامل ہے ۔ اور تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ صحابہ کرام نے آنحضور ۖ کی وہ تمام مبارک باتیں سینہ بہ سینہ بھی اور براہ راست بھی دوسرے صحابہ کرام تک اور بعد میں آنے والے تابعین تک پہنچائیں ۔
۔ حدیث جمع کرنے کا طریق۔
احادیث اس طریق سے جمع ہونا شروع ہوئیں کہ جس صحابی نے آنحضور ۖ کی زبان ِ مبارک سے کوئی بات سنی ہوتی تھی یا آپ کو کوئی کام کرتے دیکھا ہو تا تھا تو وہ اسے اشاعت ِ علم کی غرض سے ایسے لوگوں تک پہنچاتا تھا ۔ جنہوں نے یہ بات نہیں سنی یا دیکھی ہوتی تھی یا جنہوں نے آنحضرت ۖ کا مبارک زمانہ نہیں پایا ہوتا تھا ۔ حدیث بیان کرنے کے الفاظ عموماً اس قسم کے ہوتے تھے کہ ، میں نے فلاں صحابی سے سنا ہے کہ اس نے آنحضور ۖ کے فلاں صحابی سے سنا کہ اس نے فلاں موقعہ پر آنحضور ۖ کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا ، اور پھر یہ لوگ اسی طریق پر ایمان تازہ کرنے کی غرض سے یا اشاعت ِ علم کی غرض سے دوسرے لوگوں تک روایت پہنچاتے چلے جاتے تھے ، اس طرح راویوں کا ایک مسلسل اور باقاعدہ سلسلہ کے ذریعہ آنحضور ۖ کی احادیث بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے محفوظ ہوگئیں۔ تابعین نے ان احادیث کو بڑی محنت سے میل ہا میل کا سفر کر کے اکھٹا کیا ۔ بعض دفعہ ایک ایک حدیث کو اکھٹا کرنے کے لئے ان لو گو ں کئی کئی دن کا سفر کرکے دوسرے ممالک میں جاناپڑا ۔۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بعض وجوہات کی وجہ سے شروع میں احادیث کے لکھنے اور کتاب کی شکل میں انہیں ترتیب دینے کا اجتماعی
اہتمام نہ ہوسکا ، مگر بعد میں صحابہ اور تابعین کی شبانہ روز محنت سے کتابی صورت میں مدون کردی گئیں، تبع تابعین کے زمانے تک تو علم ِ حدیث کاشو ق ساری مملکت ِاسلامیہ میں عام ہو چکا تھا ۔ اور ہر گھر میںحدیثِ رسول کا چرچا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی مملکت میں بڑے بڑے اَئمہ حدیث پیدا ہوئے ۔ ان میں سے خاص خاص نام یہ ہیں
۔ حضرت امام حسن بصری ، حضرت امام احمد بن حنبل ، حضرت امام بخاری ، حضرت امام مسلم ،حضرت امام ترمذی ، حضرت امام ابو دائود ، حضرت امام ابن ِ ماجہ ، حضرت امام نسائی ، حضرت امام مالک شامل ہیں۔
ان علماء کے زمانہ میںہی صحت ِ حدیث پرکھنے کے اصول مرتب ہوئے ۔
کسی حدیث کو مستند اور صحیح قرار دینے کے لئے درایت اور روایت کے اصولوں کو مد ّ رکھنا ضروری ہے ۔
درایت سے مراد ہے کہ حدیث عقل ِ سلیم اور واقعات کے مطابق ہو ، ان کے خلاف نہ ہو ۔ ۔اور ۔۔روایت سے مراد ہے کہ کتاب لکھنے والے یا حدیث لکھنے والے کو جن راویوں کے ذریعے حدیث پہنچی ہے وہ کون کون سے ہیں،۔
حدیث کی مختلف اقسام ہیں ِ۔ محدثین نے حدیث کی الگ الگ قسم کی تعریف بیان کی ہے ، جن کی رو سے احادیث کی چھ اقسام بنتی ہیں ،
اس کے علاوہ حدیث کی ایک اور قسم ہوتی ہے ، جسے حدیث ِ قدسی کہتے ہیں ،۔
اس طرح حدیث کی کتب کی بھی کچھ اقسام ہیں ۔ صحت کے اعتبار سے حدیث کی چھ کتب مشہور ہیں ، جن کو صحاح ستّہ کہتے ہیں ۔
جن کو سنن ابو نسائی ، سنن ابو ابن ماجہ ،سنن ابو دائود، بخاری، ترمذی اور مسلم شامل ہیں ،۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی میں حدیث کی اہمیت کیا ہے ۔
مسلمان کے ہاتھ میں اسلامی ہدائیتوں پر قائم ہونے کے لئے ، تین چیزیں ہیں، یعنی قرآن ، سنت اور حدیث۔
ایک مسلمان کوخدا کے بعد سب سے ذیادہ خدا کے پیارے نبی ۖ حضرت محمدۖ سے محبت ہوتی ہے ۔رسول ِ خداکی محبت اس کے دل میں ایسے رچی ہوتی ہے جیسے پھول کی پتیوں میں خوشبو ۔ اور اس محبت کے تقاضے کو نبھاہتے ہوئے مسلمان رسول ِ خدا کے منہ سے سنی ہوئی بات انتہائی عقیدت واحترام سے سنتا ہے ، علم اور دین سے بے بہرہ شخص بھی حدیث کے لفظ پر چونکتاضرورہے ، عمل کرنا نہ کرنا تو ایک طرف رہا ایک دفعہ اس کے دل میں ہلچل ضرور ہوتی ہے ، کیونکہ وہ ہستی جس کے لئے زمین آسمان بنائے گئے تھے اورجس کے متعلق ا ﷲ
تعالیٰ نے حدیثِ قدسی میں فرمایاتھاکہ،
لو’ لا کِ لما خلقتُ الْا فْلاک ،،
ترجمہ یعنی اے محمد ۖ اگر میں نے تجھے نہ پیدا کرناہوتا تو یہ زمین وآسمان نہ بنا تا۔
ااس مبارک وجود کے افعال واقوال کے متعلق سننا ہر مسلمان کے دل کو بھا تاہے
۔حدیث ایک مسلمان کی زندگی میںبہت اہمیت رکھتی ہے ، ہر وقت نہ کوئی قرآن کھول کر اس کے مطالب نکال نکال کر اپنی زندگی کو اس کی نہج پر چلاتاہے اور نہ ہی کوئی کتابوں سے وعظ پڑ ھتا ہے ،لیکن اگر حدیث سنائی جائے تو اسے ہر مسلمان توجہ سے سنتاہے ،اور ایسے محسوس کرتا ہے جیسے اس کے دل پر اثر ہورہا ہے ۔ایک مسلمان کی روز مرہ زندگی میں اُٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے ، کام کرتے اندر باہر آتے جاتے ،گویا ہر لمحہ یہ ضرورت ہوتی ہے کہ اسے کوئی ایسی راہنمائی ملتی رہے جس کواختیار کرکے اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنایا جا سکتا
مفسرین کی نظر میں قرآن کی وضاحت حدیث کے ذریعے ہوتی ہے ۔ حدیث اصل میں قرآن کی تفسیر اور آسان کردہ ترجمہ ہے جو مسلمانوں کو سادہ الفاظ میں سمجھانے کے کام آتی ہیں۔بہت سے مذہبی اور عملی طریق اور اصول ایسے بھی ملتے ہیں جو قرآن پاک میں تحریری طور پر مو جود نہیں، مگر رسول ِ ۖ نے خدا کی زبان سمجھ کر اسے مسلمانوں کے لئے آسان بنا کر پیش کیا ہے ۔ یعنی رسول ِ ۖ نے قرآن کے بعد حدیث کے ذریعے مسلمانوں تک یہ نتیجہ نکال کر رکھا ہے کہ ۔ ہمیں کیا کرنا چاہئے اور کیانہیں کرنا چاہئے
پیارے نبیۖ کی پیاری باتیں سننا اور انہیں کانو ں کے راستے دل میں اتارنا ۔ ہر مخلص شخص کے دل کی آواز ہوتی ہے ۔
بچوں کواحادیث سکھانے کا فائدہ ۔
ْ۔ لیکن اگر یہ احادیث بچپن سے ہی بچوں کو سننے کا شوق ڈال دیا جائے یعنی اگر ماںباپ اور اساتذہ تعلیمی ادارے اور سماج بچے کو بہت چھوٹی عمر میں ہی سے ان مقدس احادیث بار بار بچوں کو سنائیں۔ تو اس سے بہتر پرورش کا طریق کوئی نہ ہو گا ، کیونکہ
۔ بچے کا ذہن سادہ سلیٹ کی مانند ہوتا ہے ، اس پر جولکھاجائے گا ، بہت صاف اور روشن ہوگا اوراس تحریر کو محفوظ کرنے کاطریق یہ ہے کہ اس تحریر میں بار بار رنگ بھراجائے ، یعنی والدین اور استاد باربار چھوٹی چھوٹی احادیث بچے کے سامنے دہرائیں
۔ صرف بچے کو ہی نہ دہرایا جائے بلکہ اس کے سامنے روزمرہ کی زندگی میں مختلف کام کرتے ہوئے استاد یا والدین خود ایسا کام کریں
اور ساتھ ساتھ یہ دُہرائیں کہ رسول ِ پاک ۖنے ایسا فرمایا ہے یا حضور ۖ ایسے وقت میںایسے کیا کرتے تھے ،،مثلاً
بچے کو چیز دیتے ہوئے یہ کہنا کہ رسول ِ پاک ۖ نے فرمایا ہے کہ دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا چایئے ،
سلام اونچی آواز سے کرتے ہوئے کہنا چاہئے کہ رسول ِ خدا نے فرمایا ہے کہ ،
اُفشوُالسلام َ بینَکم ۔۔ترجمہ آپس میںسلام کو رواج دو،،
اس سے بچے کے اندر ہر چھو ٹے بڑے کو سلام کرنے کی عادت پیدا ہوگی ۔
الطہورُ الشطرُمن الایما ن ۔۔۔۔۔ ترجمہ صفائی ایمان کا حصہ ّ ہے ۔ ِ
الحیاء من الایمان ِ۔۔۔۔ ترجمہ حیا سراسر ایمان ہے ۔
من لا یرحم’ لا یُرحم’ ۔۔۔ ترجمہ جو رحم نہیںکرتا اس پر رحم نہیں کیاجا تا۔
یہ احادیث اصل میں اپنی ذات میں انتہائی گہرائی لئے ہوئے ہیں ، اور ان کااندازاتنا سادہ اور موئثرہے کہ بچہ بہت آسانی سے اس کا اثر قبول کر لیتا ہے ۔ آئستہ آئستہ اس کے لا شعور میں یہ خوبصورت باتیں اپنااثر دکھانا شروع کرتی ہیں ، اور جوں جوں ذہن پختہ ہوتا جاتاہے
معاشرے کے خدوخال ظاہر ہوتے ہیںتو ان با تو ں کا ادراک تب جا کر ہوتا ہے ۔ وہ وقت ہوتا ہے جب بچپن کی سیکھی ہوئی باتیں اخلاق اور آداب کے سانچے میں ڈھل کر انسان کی شخصیت پر انسانیت کی چھاپ لگاتی ہیں۔ اور قدم قدم پر ان خوبصورت اقوال اور
مقدس احادیث کی بازگشت بچے کے افعال اور اعما ل کو متوازن کرنے میں مدد دیتی ہیں ۔
مجھے اپنا بچپن یاد ہے کہ بہت چھوٹے ہوتے میں نے ،،، لیَس الخبرُکَ المُعَائنةُ
ترجمہ۔۔ نہیں ہے سنی سنائی بات خود دیکھنے کی طرح ، سنی تھی
جب سے ہوش سنبھالا ہے اس حدیث نے انسانیت کے دائرے کے اندر رہنے میں ہمیشہ میری مددکی ہے۔جب بھی کسی کے منہ سے کسی اور کی ذات پر حملہ ہونے والی کوئی گفتگو سنتی ہوں یا ایسی مہمل بات سنتی ہوںجو ناپسندیدہ ہو تو فوراً یہ حدیث روشنی دکھاتی ہے ،
اور ان سوچوںسے بچ جاتی ہوں جو خدا کو پسند نہیں۔
انّمَا الاعْمال ُ باِلنیّاتِ ترجمہ ۔۔۔ یقینا اعمال کا دارو مدار نیتوں ہر ہے
طلَب ْالعلْمِ فریظةً علیٰ کلِّ مسْلِمٍ وً مسلِمةٍ۔۔۔۔ ترجمہ ۔۔ علم حاصل کرنا ،ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے
ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا آئینہ ہے ،
١ جس نے کسی مسلمان کو دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں، ۔ ٢۔ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔
٣۔ جنت ماں کے قدموںتلے ہے ۔
یہ تمام احادیث بچپن سے ہی بچے کے ذہن میں ڈالنے سے بچے کے ذہن میں مثبت سوچوں کاجال بناتی رہتی ہیں ۔جس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ماحول کی آلودگی ایسے ذہن کو ذیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ اگر ہر استاد یا ہر گھرانہ اپنے بچے کو بچپن ہی سے پیارے رسول کی پیاری باتیں سکھائے توکوئی وجہ نہیں کہ یہی بچہ بڑا ہو کر معاشرے کے لئے ایک مفید وجود بنے اور اپنے کردار کی خوشبو سے معاشرہ اور ماحول
معطر نہ کرے ۔
ع۔ یا عین فیض اﷲِ وَ العرفان ِ یسعیٰ علیک الخلق ُ کاالظمان ِ
ع۔ کڑوڑ جاںہوتو کر دوںفدا محمد پر کہ اس کے لطف وعنایا ت کا شمارنہیں

جذاک اﷲ نبیلہ رفیق فوذی ،،،،

حدیث سے کیا مرادہے“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ لکھیں