انقلاب دہر اور گلابی انگریزی


بچوں کا ہنستے ہنستے برا حال ہوگیا تھا۔ ہم ضلع اِسلام آبا دکی حدود میں واقع ایک دُور اُفتادہ دیہی علاقے میں ٹہل رہے تھے۔ ہمارے سامنے انگریزی زبان کی رُو سے ’ننھے فرشتوں‘ کا ایک جدید تعلیمی اِدارہ جگمگا رہا تھا۔ غالباً یہ اِس گاو ¿ں کا واحد ’ایلیٹ اِسکول‘ ہوگا۔ آج کسی تقریب کی ہماہمی تھی۔ شامیانے نصب تھے۔ رنگارنگ ملبوسات زیب تن کیے ہوئے بچے بچیاں اُن کے ’ابّے امّیاں‘ اور کچھ دیگر حضرات بھی شامیانے تلے بچھی ہوئی کرسیوں پر تشریف فرما تھے۔ سامنے میدان میں بچوں کی ایک فوج اپنے اِدارے کی وردی میں ملبوس اور تنظیمِ عسکری میں ملائے ہوئے قدم ’ورزشی قواعد‘ کی مشق میں مصروف تھی۔ اُن کے قائد یعنی ’پی ٹی ماسٹر‘ صاحب خود بھی اِسکاو ¿ٹوں جیسی وردی پہنے اِس فوج کی امامت کررہے تھے۔ امام صاحب کا مُنہ اپنی فوج کی طرف تھا۔ مُنہ کے آگے مائیکروفون اسٹینڈ کھڑا تھا۔ شامیانے کے ایک بانس پر نصب ’بلند گو‘ کی مدد سے پورے گاوں میں اُن کی آواز گونج رہی تھی، آواز صرف دو ہی احکامات
 (Cautions) پر مشتمل تھی:

اٹَے اَے اَے اَے اَین…. شَن

اِشٹنڈے اَے اَے اَے…. ٹیز

اِن نعروں کی مسلسل تکرار سُن سُن کر ہمارے بچوں کا ہنستے ہنستے برا حال ہوگیا۔ بچوں کو اعتراض یہ تھا کہ اُستادِ محترم

Attention

 کا تلفظ

Attain-shun

 کر رہے ہیں جب کہ

Stand at ease

 میں اُنہوں نے انگریزی اور انگریزوں کو

Tease

 کرنے کا ایک انتہائی نادر موقع نکال لیا ہے۔ اِسکول کے ننھے مُنے بچے اپنے دونوں ہاتھوں سے بار بار اپنی ڈھیلی پتلونیں سنبھالتے ہوئے پھدڑ پھدڑ پریڈ کیے جارہے تھے۔ اور ہمارے بچوں کی ہنسی تھی کہ رُکنے ہی میں نہیں آرہی تھی۔

دیہاتی پی ٹی ماسٹر نے (غالباً والدین کے آگے اپنی استادانہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کو) درمیان میں کئی بار بچوں کو بہ زبانِ اُردو اور پنجابی متعدد ہدایات دیں اور تنبیہات کیں، ہر ہدایت اور ہر تنبیہ کے بعد نعرے بازی پھر وہیں سے شروع ہوجاتی جہاں سے چھوڑی تھی:

اٹَے اَے اَے اَے اَین…. شَن

اِشٹنڈے اَے اَے اَے…. ٹیز

ہم نے بڑے دُکھ سے سوچا کہ اب ہمارے بچوں کی ہنسی کا رُخ بھی اُلٹ گیا ہے۔ ہمارے بچے اب اِس بات پر ہنس رہے ہیں کہ ہماری قوم کا ایک اُستاد ٹھیک تلفظ سے اور درست لب ولہجہ میں سات سمندر پار کی پرائی اور غیر ملکی زبان بولنے سے قاصر ہے۔ وہ غالباً ’اِشٹنڈے‘ کو ’مشٹنڈے‘ کا ننھا مُنّا سا بچہ سمجھ رہا ہے۔ مزید یہ کہ اُسے اپنا مافی الضمیر ادا کرنے کے لیے گاہ بگاہ مادری اور قومی زبان کا سہارا بھی لینا پڑتا ہے۔ زبانِ غیر سے وہ شرحِ آرزو کر پارہا ہے نہ اپنے جذبات کا اظہار۔ ہے نا ہنسی کی بات؟

بزرگوں سے سنا ہے کہ ’دورِ غلامی‘ میں دیسی لوگ انگریزوں اور انگریزی پر ہنسا کرتے تھے۔ اور جس طرح اب ہمارے بچے اپنے دیس کے اُستادوں کی انگریزی پر ہنستے ہیں ہمارے بزرگ اپنے اوپر مسلط ہوجانے والے گورے حکمرانوں کی اُردو پر ہنسا کرتے تھے۔ مثلاً ایک’ لاٹ صاحب‘ اپنے دربار میں ’انعام‘ کی خاطر حاضر ہونے والے ایک گویے سے پوچھنا چاہتے تھے کہ:

کیا تُم دہلی میں گاتے ہو؟

تو لائق و فائق، تعلیم یافتہ، مُہیب اور مہذب انگریز حاکم نے اِس سوال کو اُردو میں یوں پوچھا:

ویل ٹُم ڈیلی منگاٹا؟

گویّا یہ سمجھا کہ شاید لاٹ صاحب کو پتا چل گیا ہے کہ یہ تام جھام والی وردی اُس کی اپنی نہیں ہے بلکہ اُس نے کرائے پر منگائی ہے۔ پس جو گانا سنایا ہے وہ بھی کرائے ہی کا ہوگا۔ انعام کی رہی سہی اُمید بھی گئی۔ شرمندگی سے سرکھجاتے ہوئے بولا:

ڈیلی تو نہیں صاحب، کبھی کبھی منگا لیتا ہوں

اب ہم ’آزاد‘ ہیں۔ چناں چہ اکثر لوگ یہ بات آزادانہ اورخود مختارانہ کہتے سُنائی دیتے ہیں کہ:

ہمارے بچوں کو اُردو نہیں آتی

اور یہ بات وہ شرمندگی سے نہیں،‘ بڑے فخر سے کہتے ہیں۔ اُردو گنتی کے ’ ہندسے‘ تو خیر خواب وخیال ہوئے۔ اب توگنتی کے الفاظ کے متعلق بھی یہ پوچھا جاتا ہے کہ:

ڈَیڈ! اُنتالیس کس کو کہتے ہیں؟ تھرٹی نائن کو یا فورٹی نائن کو؟

مائیں اپنے اُن بچوں کی، جنہوں نے ابھی بولنا بھی شروع نہیںکیا، راہ چلتے ہوئے یوں تربیت فرماتی چلی جاتی ہیں:

جُونی! یہ ڈوگی ہے…. جُونی!“ (بچے کا نام اُس کے دادا نے حضرت جنید بغدادیؒ کے نام پر رکھا ہوگا۔ مگر ماں نے اُسے کس مہارت سے مشرف بہ انگریزی بلکہ مشرف بہ انگریز کر لیا گیا ہے)

سَنی! آپ نے بنانا کھانا ہے؟

شیر خوار بچہ ہمک ہمک کر ایک طرف یوں ہی اشارہ کردیتا ہے:

حلوہ پوری؟…. اوہ…. نونو…. نو!…. جنک فُوڈ…. یُو ڈرٹی بوائے…. ناٹی!“

اتنے میں پرانے محلے کی کوئی پرانی پڑوسن برسوں بعد یکایک نظر آجاتی ہے۔ اور ساری ’میم صاحبی‘ ہوا ہوجاتی ہے:

ہاہوئے…. توں کتھے؟

بچہ اگر ذرا بھی بڑا ہوتا تو بھنویں سکیڑ کر نیم ناراض لہجہ میں سوال کرتا:

مام! اینڈ وھاٹ اِز دِس نان سینس…. ’ہاہوئے‘…. اینڈ وھاٹ ڈُو یو مِین بائی…. توں کتھے؟

اس قدر شیر خوار بچہ تو خیر کیا سمجھتا ہوگا۔ لیکن اردگرد کے جو لوگ بچے نہیں ہیں۔ جو سنتے بھی ہیں اور سمجھ بھی رکھتے ہیں اُن میں سے بھی اب کوئی کبھی اِن باتوں پر ہنستا نظر نہیں آتا۔ یہ دورنگی تہذیب تو اب ہم نے قبول کر لی ہے۔ بھلا اِس میں ہنسنے کی کیا بات ہے؟ اب تو ہمیں چگی ڈاڑھی والے اکبر کی کھسیانی ہنسی پر ہنسی آتی ہے۔ اور بقول سلیم احمد رحم بھی آتا ہے۔ مگر اکبر نے ہمارا دور نہ جانے کیسے دیکھ لیا تھا؟ کہتے تھے

 

یہ موجودہ طریقے راہی ¿ ملکِ عدم ہوں گے

نئی تہذیب ہوگی اور نئے ساماں بہم ہوں گے

نہ خاتونوں میں رہ جائے گی پردے کی یہ پابندی

نہ گھونگھٹ اِس طرح سے حاجبِ روئے صنم ہوں گے

نہ پیدا ہوگی خطِّ نسخ سے شانِ ادب آگیں

نہ نستعلیق حرف اِس طور سے زیبِ رقم ہوں گے

عقاید پر قیامت آئے گی ترمیمِ ملّت سے

نیا کعبہ بنے گا‘ مغربی پُتلے صنم ہوں گے

ہماری اصطلاحوں سے زباں نا آشنا ہوگی

لُغاتِ مغربی بازار کی بھاشا سے ضم ہوں گے

گزشتہ عظمتوں کے تذکرے بھی رہ نہ جائیں گے

کتابوں ہی میں دفن افسانہ ¿ جاہ و حِشم ہوں گے

کسی کو اِس تغیر کا نہ حِس ہوگا نہ غم ہوگا

ہوئے جس ساز سے پیدا اسی کے زیروبم ہوں گے

تُمہیں اِس اِنقلابِ دہر کا کیا غم ہے اے اکبر

بہت نزدیک ہیں وہ دِن کہ تُم ہوگے نہ ہم ہوں گے

 

 

 

اپنا تبصرہ لکھیں