اقبال کا دورہ فلسطین

اقبال کا دورہ فلسطین

 

امتیاز عبدالقادر

اقبال کی شاعری کا تہذیبی اور ملی پس منظر وہ فکری نکتہ ہے جس کے بل پر انہوں نے نہ صرف نظری طور پر منتشر ملت کی شیرازہ بندی کے اسباب بہم پہنچائے بلکہ عملی طور پر بھی اس کے لیے دوررس نتائج کی حامل جدوجہد میں حصہ لیا۔ اپنی فکری اور عملی کوششوں کے دوران اقبال کی یہ خواہش رہی کہ کسی طور پر مسلم ملکوں کے دورے کے اسباب پیدا ہوسکیں تاکہ بچشمِ خود وہاں کے حالات کا اندازہ لگانے کے بعد مزید اقدامات کو آگے بڑھایا جائے۔برطانیہ میں پہلی گول میز کانفرنس کے غیر تشفی بخش اختتام کے کچھ عرصے بعد حکومتِ برطانیہ نے جب اکتوبر1931 میں دوسری گول میز کانفرنس کے لندن میں انعقاد کا اعلان کیا تو اس سلسلے میں علامہ اقبال کو بھی شرکت کی دعوت دی۔ برصغیر کے مسلم نمائندوں میں اقبال کے علاوہ قائداعظم، مولانا شوکت علی، مولانا شفیع دائودی اور سر آغا خان بھی شامل تھے۔ برطانیہ روانہ ہونے سے قبل اقبال کو مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی کی جانب سے موتمر اسلامی میں شرکت کی دعوت بھی موصول ہوچکی تھی۔ مفتی اعظم نے عالم اسلام کے اتحاد کے لیے ایک جامع منصوبہ بنایا تھا اور ان کی خواہش تھی کہ دنیا بھر کے مسلمان زعما ایک جگہ اکٹھے ہوکر اس منصوبے کو عملی صورت دینے کی تدابیر سوچیں۔شیرازہ ہوا ملتِ مرحوم کا ابتراب تو ہی بتا، تیرا مسلماں کدھر جائے(اقبال)علامہ مرحوم کو کئی اور مقامات سے تقاریر کی دعوت ملی تھی۔ چنانچہ 12ستمبر 1931 کو علامہ اقبال جب برطانیہ کے لیے روانہ ہوئے تو ان کے پیش نظر یورپ اور عرب دنیا کے ملکوں کے سفر کا ایک واضح پروگرام تھا۔اقبال نے برطانیہ میں تین ہفتے سے زائد قیام کیا اور اپنے قیام کے دوران گول میز کانفرنس میں شرکت کے علاوہ بہت سی مجالس میں وہاں فضلا سے خطاب کیا اور نہایت ٹھوس انداز میں مغربی سیاست کو ردکرتے ہوئے نظام اسلامی کے احیا کی خواہش کا اظہار کیا۔اطالوی حکومت نے اقبال کو اٹلی کے دورے کی دعوت دے رکھی تھی۔ چنانچہ برطانیہ سے رخصت ہوکر اقبال اٹلی پہنچے، جہاں مسولینی نے نہ صرف ان کو ملاقات کی دعوت دی بلکہ ان سے ایک مضبوط ریاست کے قیام اور مسلمانوں کے حصولِ تعاون کے موضوع پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ اٹلی کے قیام کے دنوں میں ملک کے نامور فضلا نے ان سے ملاقاتیں کیں اور ہر فکری موضوع پر اقبال کی عالمانہ گفتگو کا گہرا اثر قبول کیا۔ اس بات میں کوئی کلام نہیں کہ اقبال کی عظمتِ فکر فقط ان کے شعروں اور نثری تحریروں تک ہی محدود نہیں، بلکہ ان سے ملنے والے حضرات کے بقول علامہ کی عظمت کی بڑی وجہ ان کی وسعت ِکلام ہے۔ وہ دنیا کے ہر موضوع پر تازہ ترین تبدیلیوں کی خبر رکھتے ہوئے نہایت اعلی اور متاثر کردینے والی گفتگو کیا کرتے تھے۔اٹلی سے اقبال مصر روانہ ہوئے اور وہاں چند دن قیام کے بعد موتمر اسلامی میں شرکت کے لیے فلسطین پہنچے۔ 6 دسمبر کی شام موتمر اسلامی کے ابتدائی پروگرام شروع ہوئے۔ اسی صبح اقبال مصر سے فلسطین پہنچ چکے تھے اور مفتی اعظم فلسطین کے علاوہ بہت سے زعما نے آپ کا استقبال کیا تھا۔7 دسمبر کی صبح سے موتمر کا باقاعدہ اجلاس شروع ہوگیا۔ اس اجلاس میں اعزازی عہدیداروں کے علاوہ مستقل عہدیداروں کا انتخاب عمل میں آیا۔ اس انتخاب کی رو سے مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی صدر منتخب ہوئے۔ علامہ اقبال، محمد علی پاشا مصری، سید ضیا الدین طباطبائی (سابق وزیراعظم ایران) اور سید محمد (زبارہ یمن) نائب صدور منتخب ہوئے۔اس موتمر کو روکنے کے لیے اندرونی اور بیرونی دونوں طرف سے زوردار کوششیں کی گئیں۔ بیرونی طور پر تو انگریز اور دیگر سامراجی قوتیں اپنی استحصالی ذہنیت کے باعث اس کے آڑے آرہی تھیں، اور اندرونی طور پر وہ گروہ جو مفتی اعظم کو ناپسند کرتے تھے، اس کو روکنے کی تدابیر کررہے تھے۔ علاوہ ازیں قوی الجثہ یہود ی لابی بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کی پوری کوشش کررہی تھی، لیکن مفتی اعظم اور ان کے قریبی رفیقوں کی مساعی سے اس کا انعقاد ہوا ،اور بہت امید افزا نتائج پر یہ موتمر اختتام پذیر ہوئی۔اجلاس میں فلسطین کے مقامات ِمقدسہ کی حفاظت کے لیے جانیں قربان کرنے کا عہد بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ دنیا ئے عرب اور عالم اسلام کے مجموعی مسائل پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ایک کمیٹی کی طرف سے جب قدس شریف میں ایک ایسی یونیورسٹی کے قیام کی قرار داد پیش کی گئی جو مسلمانوں کو غیر ملکی یونیورسٹیوں سے بے نیاز کردے تو اقبال نے وقتی حالات کے پیش نظر اس سے اختلاف کیا۔ ان کو اعلی تعلیم کے لیے یونیورسٹی کے قیام پر کوئی اختلاف نہ تھا۔ وہ ایک ایسی قدیم وضع کی یونیورسٹی کے قیام کے حق میں نہ تھے، بلکہ ان کے پیش نظر ایک ایسی جامعہ کا قیام تھا جس میں جدید و قدیم دونوں علوم کی دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق تعلیم دی جائے۔ پھر ان کے خیال میں بیت المقدس میں صہیونی خطرہ بھی اس شہر کے امن و سکون کو درپیش تھا، لیکن اراکینِ مجلس کی رائے کو دیکھتے ہوئے اس پر زور نہ دیا۔ اس مجلس میں اقبال نے فرمایا:میں اس جذبے کی قدر کرتا ہوں جو اس کی تہہ میں کارفرما ہے، لیکن مجھے شک ہے کہ یہ تجویز عملی طور پر بھی ممکن ہے!14دسمبر کی شام اقبال نے موتمر کے اجلاس سے ایک نہایت عالمانہ اور موثر خطاب کیا جو انگریزی میں تھا۔ اپنے اس خطبے میں اقبال نے اسلام کو درپیش خطرات کی خاص طور پر نشان دہی کی۔ انہوں نے کہا: اسلام کو اِس وقت دو طرف سے خطرہ ہے۔ ایک الحادِ مادی کی طرف سے اور دوسرا وطنی قومیت کی طرف سے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان دونوں خطروں کا مقابلہ کریں،اور میرا یقین ہے کہ اسلام کی روح ان دونوں کو شکست دے سکتی ہے۔ وطنی قومیت یا وطنیت بجائے خود بری چیز نہیں لیکن اس میں اگر اعتدال ملحوظ نہ رکھا جائے اور افراط و تفریط ہوجائے تو اس میں بھی دہریت اور مادہ پرستی کے پیدا ہونے کے امکانات موجود ہیں۔اپنے اس خطبے کے آخر میں علامہ نے فرمایا: میرا عقیدہ ہے کہ اسلام کا مستقبل عرب کے مستقبل کے ساتھ وابستہ ہے، اور عرب کا مستقبل عرب اتحاد پر موقوف ہے، جب عرب متحد ہوں گے تو اسلام کامیاب ہوگا۔15دسمبر کو فلسطین سے روانہ ہوکر اقبال 28دسمبر کو ہندوستان واپس پہنچے۔ واپسی پر سول اینڈ ملٹری گزٹ نے اقبال کی رودادِ سفر شائع کی۔ اپنے بیان میں اقبال نے فلسطین کے سفر کو اپنی زندگی کا یادگار واقعہ قرار دیا اور فلسطین میں صہیونی تنظیم کی اسکیم کا تفصیلی ذکر کیا۔ اقبال نے موتمر اسلامی کے مندوبین کے جوش و خروش کی بہت تعریف کی اور اس کی شاندار کامیابی پر اظہارِ اطمینان کیا۔ اقبال کا یہ اظہارِ اطمینان دراصل ملتِ اسلامیہ کے ایک پرشکوہ آغازِنو پر تھا، اور آج حالات کی بدلتی کروٹیں اس بات کی نشاندہی کررہی ہیں کہ عالم اسلام میں پیدا ہونے والی تیز رفتار تبدیلی یقینا کسی فکری انقلاب کا پیش خیمہ ہے، یعنی اسلام کی نشا ثانیہ۔

اپنا تبصرہ لکھیں